مضامین

غلامی کو طول دینے والوں کیساتھ جُڑ ے رہنا افسوسناک

ہندوپاک مذاکراتی عمل کو مشقِ فضول سے تعبیر کرتے ہوئے بزرگ مزاحمتی لیڈر اور حریت(گ)سربراہ سید علی گیلانی نے واضح کیاکہ جموں و کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت کے سوا اور کو ئی حل قابل قبول نہیں ہو گا۔مین سٹریم جماعتوں سے قطع تعلق کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہ ہندوستانی خاکوں میں رنگ بھرنے والے کشمیریوں کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔انہوں نے الیکشن بائیکاٹ کال دہراتے ہوئے کہا کہ نماز ، روزوں ، زکواۃاورحج کی طرح آزادی کیلئے جدوجہد کرنا بھی عظیم عبادت ہے۔تین سالہ خانہ نظر بندی سے رہائی کے بعدپہلی بارگیلانی کو لوگوں کی ایک بڑی تعد ادنے کو لنگام ہندوارہ سے ایک جلوس کی صور ت میں کپواڑہ لا یا جہاں انہوں نے مین چوک میں ہزاروں کے مجمع سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ پاکستان کی بات چیت ایک فضول مشق ہے کیونکہ اب تک بھارت اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حوالے 150بار بات چیت ہو ئی تاہم کچھ حاصل نہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت کے سوا اور کو ئی حل قابل قبول نہیں ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ہماری جد و جہد تب تک جاری رہے گئی جب تک نہ کشمیر سے مکمل طور فو جی انخلاء ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کراکے بھارت عالمی برادری کو گمراہ کرہا ہے اور ریاست میں الیکشن کو ایک ریفرنڈم کے طور پیش کر تا ہے جس سے مسئلہ کشمیر کی ہیت متاثر ہو رہی ہے۔ گیلانی نے کہا کہ الیکشن ناقابل قبو ل عمل ہے کیونکہ انتخابات کے ذریعے بھارت عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کو شش کر رہا ہے۔انہوں نے شہداء کشمیر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہو ئے کہا کہ جس سرزمین کو شہداء نے اپنے خون سے سینچا ہووہاں الیکشن کو ئی معنیٰ نہیں رکھتا ہے کیوں کہ اس سے ہند نواز جماعتوں کو فائدہ پہنچتا ہے اور یہ عمل شہیدوں کے خون سے غداری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہند نواز جماعتیں کشمیریوں کے ظلم و جبر کی ذمہ دار ہیں اورعوام کو ان سے کسی اچھائی کی تو قع رکھنی چا ئیے۔سید علی گیلانی نے کہا کہ ہند نواز جماعتیں بھارت کو خوش رکھنے کے لئے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کو ئی بھی بیان دے سکتی ہے۔انہوں نے زور دیتے ہو ئے کہا کہ مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان کو ئی سرحدی تنازعہ نہیں ہے بلکہ یہ جموں و کشمیر کے ایک کروڑ بیس لاکھ عوام کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کو ئی بھی حل کشمیری عوام کو قابل قبول نہیں ہو گا جو کشمیری عوام پر ٹھو نسا جا ئے گا۔گیلانی نے عوام کی توجہ الیکشن بائیکاٹ کی طرف مبذول کرتے ہو ئے کہا کہ ووٹ ڈالنا شہیدوں کے خون سے غداری کے مترادف ہے۔سید علی گیلانی نے مین اسٹریم جماعتوں سے قطع تعلق کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے کشمیری عوام کی غلامی کو طول دینے میں رول ادا کیا ہے ، ایسے لوگوں کے ساتھ عوام کا جڑے رہنا افسوسناک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہندوستانی خاکوں میں رنگ بھرنے والے کشمیریوں کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔انہوں نے الیکشن بائیکاٹ کال کو دہراتے ہوئے کہا کہ نماز ، روزوں ، زکوۃاور حج کی طرح آزادی کیلئے جدوجہد کرنا بھی عظیم عبادت ہے۔ حریت (گ) چیرمین نے کہا کہ آزادی کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فلائی اوؤروں کی تعمیر ، ملازمتوں کی فراہمی ، سڑکوں کی کشادگی ، ملازمتوں میں ترقیاں دینے اور مختلف قسم کی اسکیمیں اور پروجیکٹ روبہ عمل لا کر جموں و کشمیر کے عوام کو بنیادی حق یعنی حق خود ارادیت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔انہوں نے کہا ’’قوم یہ فیصلہ کرے کہ ان کیلئے مین اسٹریم جماعتیں اور لیڈران کس قدر خیر خواہ ہیں ‘‘۔انہوں نے نیشنل کانفرنس،پی ڈی پی اور کا نگریس کو تنقیدکانشانہ بناتے ہو ئے کہا کہ ان کے ہاتھ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہو ئے ہیں اور جموں کشمیر کے عوم پر اپنے اپنے دور اقتدار میں مصیبت کے پہاڑ ڈھائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کبھی بھی کشمیریوں کے ہمدرد نہیں بن سکتے ہیں اوریہی لو گ کشمیر میں ظلم و جبر ،مار دھاڑ اور عصمت ریزی کے ذمہ دار ہیں۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ یہاں کی مین اسٹریم جماعتیں جن میں نیشنل کا نفرنس ،پی ڈی پی اور کانگریس شامل ہیں، دودھ سے دھلی ہو ئی نہیں ہیں بلکہ یہ جماعتیں ہندوستان کے خاکوں میں رنگ بھر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مفتی سید کے دور حکومت میں بدرا پائین ہندوارہ کی تا بندہ غنی کو عصمت ریزی کے بعد بے دردی سے قتل کیا گیا لیکن آج تک بھی لو احقین انصاف کے لئے در در کی ٹھو کریں کھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مفتی محمد سید جب مرکز میں وزیر داخلہ تھے تب 19 94میں کپواڑہ قصبہ میں 27بے گناہ افراد کو گو لیوں سے بھون ڈالا۔سیدعلی گیلانی نے مکمل فوجی انخلاء کامطالبہ دوہراتے ہوئے کہا کہ استصواب رائے کے ذریعے ہی کشمیری اپنے مستقبل کا تعین کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام بھارت کے تسلط کو کبھی قبول نہیں کریں گئے کیونکہ بھارت نے کشمیر پر جبری قبضہ کیا ہے جبکہ کشمیر ایک متنازعہ مسئلہ ہے اور یہ بھارت کا حصہ نہیں ہے۔انہوں نے لو گوں سے گزارش کی کہ وہ اتحا د کا مظاہرہ کریں تاکہ ہماری دی ہو ئی قر با نیاں را ئیگاں نہ ہوں۔ بزرگ مزاحمتی قائد نے کہا کہ کپوارہ کے لوگوں کے بارے میں غلط تاثر پھیلا جاتا رہا ہے لیکن آج میں یہاں دیکھ رہا ہوں کہ لوگوں نے جدوجہد کے ساتھ اپنی مکمل وابستگی کاکس جذبے کے ساتھ اظہار کیا۔سید علی گیلانی کا کہنا تھا کہ اس سے قبل سوپور اور شوپیان کے جلسوں میں جتنے لوگ شامل ہوئے تھے ، اس اعتبار سے کپوارہ کے غیور عوام نے بازی جیت لی۔انہوں نے عوام سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہاں بڑی تعداد میں فوج اور فورسز کی موجودگی کا دباؤ ہے لیکن اس کے با وجود آپ لوگوں کا یہاں آنا ہمارے لئے عزت افزائی کے ساتھ ساتھ حوصلہ مندی کا بڑا سبب بنا ،جس کیلئے میں کپوارہ کے عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔انہوں نے عوام سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ کا جذبہ جدو جہد دیکھ کر 85سال کی عمر میں بھی خود کو جوان محسوس کرتا ہوں۔