اداریہ

غیر معیاری غذائوں کا کا روبا ر
متعلقہ محکمہ کا رروائی سے قاصر کیوں ؟

دنیا بھر میں حکو متوں کی تر جیحات میں یہ با ت بھی شامل ہے کہ شہریوں کو صاف و شفا ف غذا میسر ہو اور اس میں کسی قسم کی ملا وٹ یا پھر غیر معیاری اجزأ کا استعمال نہیں ہو نا چاہئے۔صاف و شفا ف اور معیاری کھا نے پینے تک رسائی انسان کے بنیا دی حقوق میں سے ایک ہے اور کو ئی بھی شخص انسان سے یہ حق نہیں چھین سکتا ۔دنیا کے دیگر ممالک کی طرح بھا رت میں بھی غذائوں کے معیا ر پر نظر گزر رکھنے اور لوگوں کو ملاوٹ سے پا ک کھا نے پینے کی فراہمی یقینی بنا نے کے لئے ایف ایس ایس اے آئی نا م سے با ضابطہ طور پر ایک محکمہ کا م کررہا ہے تاہم نا معلوم وجوہا ت کی بنا پر یہ محکمہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں زیا دہ سنجید ہ دکھا ئی نہیں دے رہا ہے جس کے نتیجہ بھارت بھر کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں بھی لوگوں کو غیرمعیار ی غذائی اجناس فراہم کر کے ان کی صحت کے ساتھ کھلے عام کھلواڑ کیا جا تا ہے ۔ سرینگر شہر کے ساتھ ساتھ وادی کے اطراف و اکنا ف میں بھی لوگوں خاص کرنو عمر بچوں کو غیر معیاری لفافہ بند چیزیں کھلا ئی جا رہی ہیں اور ان کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے ۔ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ والدین بھی اس حوالے سے انتہا ئی بے حسی کا مظاہرہ کر تے ہوئے اپنے بچوں کو مختلف نو عیت کی بیما ریوں کا شکا ر بناننےمیں ممد ثابت ہو رہے ہیں ۔عام طور پر بھی اگر دیکھا جا ئے تو وادی کے دور دراز دیہا ت تو دور یہاں کے شہرو ں اور قصبو ں میں بھی مختلف غذائی اجناس جن میں سبزیاں ،گوشت ،میوے اور دیگر کئی چیزیں شامل ہیں سڑ گل جا نے کے بعد بھی گا ہکوں کو بیچی جاتی ہیں اور اس کے عوض ان سے مو ٹی موٹی رقومات وصول کی جا تی ہیں ۔محکمہ خوراک اور عوامی رسدات اور فوڈ سیفٹی و سٹنڈارڈس اتھا رٹی آف انڈیا کی جا نب سے شازو نادر ہی بازاروں کا معائینہ کر کے قصوروار تا جروں کے خلاف کا رروائی عمل میں لا ئی جا تی ہے جس کا ایک منفی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس غیر قانونی کا روبا ر میں ملوث لو گ اس صورتحال کا نا جا ئز فا ئدہ اٹھا کر لوگوں کو ٹھگنے کا سلسلہ روا رکھتے ہیں ۔سرینگر شہر اور وادی کے دیگر قصبہ جات میں غیر مقامی افراد کی ایک بڑ ی تعداد کرا ئے کے کمروں میں مختلف قسم کی کھا نے پینے کی چیزیں تیا ر کر لیتے ہیں ۔ان لوگوں کے پا س نہ ہی ایف ایس ایس اے آئی کی رجسٹریشن ہے اور نا ہی یہ لوگ کسی اور متعلقہ محکمہ کی کو ئی سند رکھتے ہیںبلکہ انہوں نے اپنا کا روبا ر بڑ ی آسانی کے ساتھ اور حکو مت کی نظروں سے اوجھل کچھ ایسے سجا رکھا ہے کہ روزانہ یہ لوگ ہزاروں روپے کی کمائی کر تے ہیں مگر حکو مت کی نظروں میں کبھی بھی نہیں آتے ۔ان لوگوں نے کرائے کے کمروں کے اندر ہی مختلف قسم کی مشینیں لگاکر طرح طرح کی مٹھا ئیاں اور آٹے سے بنی ہو ئی اشیا ء تیا ر کر نے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور ان چیزوں کی تیا ری کے دوران صحت و صفا ئی کا کوئی ادنیٰ سے بھی خیال نہیں رکھا جا تا ۔یہ لوگ مشینوں کے ذریعہ تیا ر کر دہ غذائی اجناس کو گرما گرم ہی لفا فوں میں پیک کر دیتے ہیں جس کے نتیجہ میں یہ انتہا ئی زہر آلود اور مضر صحت بن جا تے ہیں ۔ یہ لوگ صبح سویرے ہی ایک ایسے وقت میں دیہات کا رخ کرتے ہیں جبکہ سر کا ری افسران و حکا م اپنے گھروں میں ہوتے ہیں لہٰذاء انہیں قانون کے ہتھے چڑھ جا نے کا خد شہ نہیںہو تا ہے ۔ستم ظریفی کی با ت یہ ہے کہ یہ لوگ ایسی اشیاء تیار کر لیتے ہیں جن کا استعما ل صرف چھو ٹے چھو ٹے بچے کرتے ہیں اور اس طرح سے ان بچوں کی صحت کو زبر دست خطرات لا حق ہو جا تے ہیں مگرحکو مت اس طرف کو ئی تو جہ نہیں دیتی ۔ضرورت اس بات ہے کہ حکومت اس بدعت کا قلع قمع کرنے کی غرض سے ضروری اقدامات کرے تاکہ ہما رے بچے جو ہمارا مستقبل ہے کو مختلف بیماریوں سے بچایا جاسکے ۔