بلاگ سرورق مضمون

غیر ملکی سفارتکاروں کا کشمیر دورہ مکمل /
علاحدگی پسندوں کا رویہ نرم ، مین اسٹریم کی شدید مخالفت

سرینگر ٹوڈےڈیسک
بدھ وار کو دنیا کے کئی ملکوں سے آئے 24 ارکان پر مشتمل ایک وفد سرینگر پہنچ گیا۔ وفد نے پہلے روز سرینگر میں حضرتبل اور بڈگام میں ایک سرکاری تعلیمی ادارہ کا دورہ کیا ۔ وفد نے سرکار کی طرف سے چنے گئے کئی سیاسی، سماجی اور انتظامی اہلکاروں سے ملاقات کی۔ ملاقاتوں کا یہ سلسلہ وفد کے سرینگر سے رخصت ہونے تک جاری رہا ۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وفد کے ارکان نے 5 اگست 2019 کے بعد حالات میں آئی تبدیلی کا زمینی سطح پر جائزہ لیا۔ اگرچہ وفد نے اس حوالے سے کوئی خاص بات نہیں کی۔ یہ پتہ نہیں چل سکا کہ وفد کے ارکان نے یہاں کے حالات کیسے پائے ۔ تاہم اندازہ لگایا جاتا ہے کہ وفد واپس جاکر اس حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار کریں گے ۔
جموں کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے 24 ملکوں کے سفارتکاروں پر مشتمل اعلیٰ سطحی وفد نے اپنا دوروزہ دورہ مکمل کیا ۔ اس وفد نے یہاں حال ہی میں منتخب ہوئے ڈی ڈی سی ممبروں کے علاوہ بہت سے سیاسی ، سماجی اور تجارتی حلقوں سے حالات کی جانکاری حاصل کی ۔اس وفد نے پہلے مرحلے پر ماگام میں کئی سیاسی کارکنوں کے علاوہ عام لوگوں سے ملاقات کی۔ یہ وفد سرینگر میں ڈل جھیل کے کنارے واقع مشہور ہوٹل للت میں ٹھہرایا گیا تھا جہاں انہوں نے مبینہ طور بہت سے سیاسی اور عوامی وفود سے بات چیت کی۔ اس کے علاوہ سیول سوسائٹی اور تجارت سے وابستہ کئی انجمنوں نے وفد کے ساتھ الگ الگ ملاقات کی ۔ خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق وفد نے تاریخی درگاہ آثار شریف حضرتبل جاکر وہاں حاضری دی۔ماگام بڈگام میں کہا جاتا ہے کہ وفد کا غیر معمولی استقبال کیا گیا۔ اس موقعے پر خواتین نے روایتی کشمیری گانا روف گا کر ان کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا ۔ ایک پریس بیان میں کہا گیا کہ غیر ملکی سفارتکاروں کے اس وفد کو یہاں ہورہے ترقیاتی کام سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں ۔ اس کے علاوہ انہیں یہاں ہورہی سیاسی سرگرمیوں سے بھی واقف کرایا گیا۔ سرینگر میں وفد کے اعزاز میں منعقد ہ ایک تقریب میں آرمی اور پولیس کے حکام نے انہیں کشمیر میں جاری شورش کے حوالے سے کچھ اہم اطلاعات فراہم کیں ۔ معلوم ہوا کہ اس موقعے پر انہیں جنگجووں کے حوالے سے اختیار کی گئی سرنڈر پالیسی ، سرحد پر دراندازی کے واقعات اور پاکستان کی طرف سے جنگجووں کو دئے گئے امداد اور اسلحے سے واقفیت دلائی گئی ۔ فوج کی طرف سے یہ بات وفد تک پہنچائی گئی کہ جنگجووں سے نمٹنے کے دوران عام لوگوں کے جانوں کی حفاظت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے ۔ وفد کو یہ جانکاری اس وقت دی گئی جب انہوں نےبادامی باغ کنٹونمنٹ کا دورہ کیا۔ غیر ملکی سفارتکاروں کے کشمیر دورے کے موقعے پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ان کے ساتھ ایک اہم نشست میں انہیں حالات سے جانکاری فراہم کی۔ سنہا نے مبینہ طور وفدکو مودی سرکار کی طرف سے کشمیر میں تعمیر وترقی کے لئے اٹھائے جارہے اقدامات سے واقف کرایا۔ اس موقعے پر انہوں نے ارکان وفد سے یہ بات زور دے کر کہی کہ 5اگست 2019 کے بعد کشمیر کے عوام کا مرکزی سرکار پر اعتماد بڑھ گیا ہے اور لوگ چاہتے ہیں کہ یہاں بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے ۔
غیر ملکی سفارتکاروں کے کشمیر دورے کے حوالے سے یہ بات بڑی اہم ہے کہ اس بار علاحدگی پسندوں کے بجائے مین اسٹریم جماعتوں کے لیڈروں نے اس دورے کی شدید مخالفت کی۔ اگرچہ سرینگر کے بعض علاقوں میں اس موقعے پر دکانداروں نے ہڑتال کی۔ تاہم علاحدگی پسندوں کی طرف سے ہڑتال کی کوئی کال نہیں دی گئی تھی۔ اس دوران لالچوک کے علاوہ ڈاون تاون کے بیشتر علاقوں میں تجارتی اور کاروباری ادارے بند رہے ۔ البتہ مین اسٹریم جماعتوں کے لیڈروں نے اس دورے کو بے مقصد قرار دیا ۔ پی ڈی پی کی صدر اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس دورے کو حکومت ہند کی ایک فضول مشق قراردیا ۔ ہندوارہ میں ایک مختصر جلسے سے خطاب کرنے کے دوران محبوبہ مفتی نے کہا کہ ماضی میں یہاں بہت سے ایسے وفود آئے ۔ لیکن زمینی صورتحال میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی ۔ انہوں نے کہا کہ وفود آتے اور جاتے رہتے ہیں ۔ لیکن حالات جوں کے توں ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک بنیادی مسئلہ ہے جس کو حل ہونا چاہئے ۔ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سفارتکاروں کے دوروں سے اصل حقیقت کو بدلا نہیں جاسکتا ہے ۔ ادھر نیشنل کانفرنس کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی غیر ملکی سفارتکاروں کے کشمیر دورہ کو وقت کا ضیاں قراردیا ۔ بلکہ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی سرکار نے زور زبردستی سے لوگوں کو خاموش کیا ۔ اب وادی میں پائی جانی والی خاموشی کو امن کا نام دے کر قیمت وصول کی جارہی ہے ۔ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ اس طرح سے حقایق بدلے نہیں جاسکتے ہیں ۔پردیش کانگریس کے علاوہ مرکزی کانگریس کی طرف سے بھی اس دورے کی تنقید کی گئی ۔ جموں کشمیر کانگریس کے صدر جی اے میر نے مشورہ دیا کہ غیر ملکی سفارتکاروں کے بجائے ملک کے سیاسی رہنمائوں کو کشمیر بھیج کر حالات کا تجزیہ کیا جائے۔ مرکزی راہنما منیش تیواری نے اس دورے پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے لوگوں کو زخموں پر زخم دے کر اب ان کے زخموں پر نمک چھڑکا جارہاہے ۔ انہوں نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ غیر ملکی وفود کشمیر تو جاسکتے ہیں ۔ لیکن ملک کے سیاسی لیڈروں کو جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔ سابق مرکزی وزیر سیف الدین سوز کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ یہ مرکزی سرکار کا ایک بلا مقصد اٹھایا گیا قدم ہے ۔ اس طرح سے اس دورے کے حوالے سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے ۔