سرورق مضمون

فاروق اور عمر روشنی ایکٹ کی زد میں وحید پرہ این آئی اے کی تحویل میں

فاروق اور عمر روشنی ایکٹ کی زد میں  وحید پرہ این آئی اے کی تحویل میں

سرینگر ٹوڈےڈیسک
ایک ایسے موقعے پر جبکہ ڈی ڈی سی انتخابات کا عمل زور وشور سے جاری ہے گپکار الائنس کے لیڈر سخت دبائو میں ہیں ۔ ایک طرف سیاسی دبائو ہے تو دوسری طرف مبینہ طور ان پر غیر قانونی سرگرمیاں انجام دینے کا الزام لگایا جارہاہے ۔ ڈاکٹر فاروق اس سے پہلے کرکٹ ایسوسی ایشن اسکنڈل کی وجہ سے پوچھ تاچھ کے عمل سے گزارے گئے ۔ اس حوالے سے ان پر الزام ہے کہ انہوں بحیثیت کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر کے کئی کروڑ روپے غبن کئے ہیں ۔ فاروق عبداللہ نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے سیاسی دشمن انہیں کمزور کرنے کے لئے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں ۔ تازہ واقعہ یہ پیش آیا کہ روشنی ایکٹ کے تحت انہوں نے مبینہ طور جموں میں اراضی اپنے نام کرکے اس پر رہائش گاہ تعمیر کی ہے ۔ فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ ان پر الزام بے بنیاد ہے اور انہوں نے بقول ان کے ایک انچ زمین بھی روشنی ایکٹ کے تحت اپنے نام نہیں کی ۔ تاہم سرکار کا کہنا ہے کہ فاروق عبداللہ کے علاوہ ان کا بیٹا اور بہن بھی اس اسکنڈل میں ملوث ہیں ۔ یاد رہے کہ اس حوالے سے عدالت میں ایک کیس جاری ہونے کے علاوہ مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کی طرف سے اس مسئلے کی تحقیقات ہورہی ہے ۔ سی بی آئی کی طرف سے عدالت میں اراضی ہڑپ کرنے والوں کے نام پیش کئے گئے ۔ ان میں فاروق عبداللہ اور ان کے بیٹے اور بہن کا نام بھی شامل بتایا جاتا ہے ۔
حکومت نے روشنی ایکٹ کے تحت استفادہ حاصل کرنے والوں کی اب تک تین فہرستیں سامنے لائی ہیں ۔ ان فہرستوں میں شامل افراد کے ناموں سے جانکاری ملتے ہی عوامی حلقوں میں سخت ہلچل پیدا ہوگئی ۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ سابقہ سرکاروں کے وقت پس پردہ کئے گئے کسی کام کی جانکاری عام لوگوں تک پہنچ گئی ۔ اس حوالے سے پہلی فہرست منگلوار کو سامنے آئی ۔ اس فہرست میں کئی سابقہ وزرا ، بیروکریٹ اور کئی معروف تاجر اور دوسرے لوگ شامل ہیں ۔ یاد رہے کہ روشنی ایکٹ کے خلاف ہائی کورٹ میں کئی سالوں سے ایک مقدمہ چل رہا ہے ۔ اسی کی پاداش میں عدالت نے ان لوگوں کے نام سامنے لانے کا حکم دیا جنہوں نے روشنی ایکٹ کے تحت بڑے پیمانے پر فائدہ اٹھایا ہے ۔ اس فہرست میں جموں کشمیر بینک کے دوسابق چیرمین بھی شامل بتائے جاتے ہیں ۔ پی ڈی پی کی حکومت میں وزیرخزانہ کے طور کام کرنے والے حسیب درابو کا نام بھی مستفید ہونے والوں کی لسٹ میں شامل ہے ۔ کے کے آملہ کے علاوہ مشتاق چائیہ کا نام بھی فہرست میں شامل ہے ۔ یاد رہے کہ یہ دونوں معروف کاروباری شخصیات ہیں اور ہوٹیلیر گروپ کے مالک ہیں ۔ آملہ کا کانگریس پارٹی کے ساتھ قریبی تعلق رہاہے۔ روشنی ایکٹ کے تحت سرکاری زمین حاصل کرنے والوں میں نیشنل کانفرنس کے سید آخون اور سابق وزیرسجاد کچلو کے نام بھی سامنے آئے ہیں ۔ سب سے زیادہ موضوع بحث یہ خبر رہی جب کہا گیا کہ فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ روشنی ایکٹ کے تحت اراضی حاصل کرنے والوں کی فہرست میں موجود ہیں ۔ فاروق عبداللہ نے اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے ایکٹ کے تحت زمین کا کوئی ٹکڑا حاصل کیا ۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے زمین کی ایک انچ بھی اس ایکٹ کے تحت حاصل نہیں کی ہے ۔ اس دوران جموں نیشنل کانفرنس کے سربراہ دیوندر رینا نے اس بات کی تردید کی کہ باپ بیٹے نے ایسی کوئی اراضی روشنی ایکٹ کے تحت اپنے نام کی ہے ۔ اس کے بجائے سرکار کے کہنا ہے کہ فیملی نے سنجیوا جموں میں کئی کنال پر مشتمل اراضی کا ٹکڑا حاصل کرکے اس پر رہائش گاہ تعمیر کی ہے ۔ اس دوران مستفید ہونے والوں کی جو تیسری فہرست شایع کی گئی ہے اس میں فاروق عبداللہ کی بہن کا نام بھی ظاہر کیا گیا ہے ۔ اسی طرح کئی بیروکریٹوں کے نام ظاہر کئے گئے ہیں ۔ خدمت ٹرسٹ لال چوک اراضی حاصل کرکے روشنی ایکٹ سے مستفید ہونے والوں میں شامل ہے ۔ نوائے صبح کمپلکس زیروبرج اس فہرست میں موجود ہے ۔ ہوٹل روبی ، ہیب سن بلڈنگ اور کچھ ایسے ہوٹل جو لالچوک میں بڑا نام کماچکے ہیں فہرست میں نظر آتے ہیں ۔ دوسری قسط میں ایک سو ایک نام شامل بتائے جاتے ہیں ۔ ان ناموں میں سابق پولیس چیف غلام حسن شاہ بھی شامل ہے ۔ اس طرح سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ روشنی ایکٹ سے عام لوگوں کے بجائے کچھ خصوصی نام استفادہ اٹھانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ فاروق عبداللہ نے اسے انتقام گیری قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میںجاری ڈی ڈی الیکشن کے وقت اپوزیشن کو لوگوں سے دور کرنے کے لئے حکومت نے اس طرح کا قدم اٹھایا ہے ۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ سابق چیف سیکریٹری محمد شفیع پنڈت اور اس کی بیوی نگہت شفیع ایکٹ کے تحت اراضی حاصل کرچکے ہیں ۔ پنڈت کا کہنا ہے کہ وہ اس ایکٹ کی منسوخی کو روکنے کے لئے سپریم کورٹ میں مقدمہ درج کررہے ہیں ۔ انہوں نے ایکٹ منسوخ کرنے کے قدم کو غیرقانونی بتاتے ہوئے عدالت کی طرف رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔
ادھر معلوم ہوا ہے کہ مرکزی تفتیشی بیرو این آئی اے نے پی ڈی پی کے یوتھ لیڈر وحید پرہ کو دہلی میں گرفتار کیا ہے ۔ اس سے پہلے دوروز تک تفتیشی بیرو کی طرف سے انہیں دہلی میں بیرو کے صدر دفتر پر پوچھ تاچھ کی گئی ۔ ان کے خلاف حزب المجاہدین کے جنگجووں سے تعلق رکھنے والے پولیس ڈپٹی سپرنڈنٹ دیوندر سنگھ کے معاملے میں پوچھ تاچھ کی گئی ۔ دوروز تک پوچھ تاچھ کرنے کے بعد انہیں پولیس تحویل میں دیا گیا ۔ اس حوالے سے پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے سخت احتجاج کیا ۔ محبوبہ کا کہنا ہے کہ پرہ کے خلاف بے بنیاد الزام لگائے گئے اور انتخابی عمل سے دور رکھنے کے لئے گرفتار کیا گیا ۔ بلکہ محبوبہ جی نے وہ ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر لائی جس میں وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے مبینہ طور پرہ کو ایک قوم پرست نوجوان لیڈر بتایا ہے ۔