اِسلا میات

فرائض نماز اور روحانی فوائد

فرائض نماز اور روحانی فوائد

پیر محمد تبسم بشیر اویسی

عبادت کیا ہے ؟
نماز دین کے پانچ بنیادی ارکان میں سے اہم ترین رکن ہے اور عبادات میں سے سب سے اعلیٰ درجے کی عبادت ہے ۔یاد رکھیں کہ اسلام میں عبادت سے مراد محض کسی ’’رسم کی ادائیگی‘‘ نہیں ہوتی اور نہ ہی عبادت کسی خاص’’ہیت اعمال‘‘ کا نام ہے ۔عبادت در حقیقت اس بنیادی شعور کو بیدار کرنے کا نام ہے جو بیدار ہو جائے تو انسان کی ساری زندگی ہی عبادت بن جاتی ہے ۔انسان محض عبادت کا معنی اور مفہوم ہی سمجھ لے تو نفس کی ہزار بیماریوں سے بچ جاتا ہے ۔عبادت انتہائی عاجزی اور حد درجہ انکساری کا نام ہے ۔کسی کی عظمت اور بڑائی کو تسلیم کر کے اس کے سامنے اس قدر جھک جانا اور کسی کے حکم کے اتنا تابع ہو جانا اور اپنی ذات اور اپنے نفس کی خواہش کی نفی کرتے ہوئے کسی کی رضا پر اس حد تک چلنا کہ بس انتہا ہو جائے۔عبادت کہلاتا ہے۔
عبادت سے مراد بندگی اور غلامی ہے اور بندے اور غلام کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ خلوصِ نیت کے ساتھ اپنے آقا کے ہر حکم کی اس کی رضا کے مطابق فرمانبرداری کرنے والا ہوتا ہے خواہ وہ اس کی ذات سے محبت اور حیاء کی وجہ سے کرے یا اس کی ناراضگی کے خوف کی وجہ سے کرے۔
حدیث جبرائیل کا ایک مفہوم:
حضور اکرم ﷺ سے جبرائیل امین علیہ السلام نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ !احسان کیا ہے ؟فرمایا کہ ’’ اَنْ تَعْبُدُ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہُ یَرَاکَ۔فرمایا: کہ تو اللہ تعالیٰ کی بندگی اس حال میں کرے کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تیری کیفیت یہ نہ بن سکے کہ تو اسے دیکھ رہا ہے تو کم از کم اتنا ضرور ہو کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔یعنی عبادت اور بندگی کا کم از کم درجہ کیا ہے کہ اس کی بندگی اس طرح کرے کہ یہ بات تیرے علم میں ہو اور تجھے اس بات کا یقین نصیب ہو جائے کہ تیرا رب تو تجھے دیکھ ہی رہا ہے ۔نماز اس حکم میں ضرور ہے لیکن اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ اس عبادت اور بندگی سے مراد’’صرف ‘‘ نماز نہیں ہے ۔نماز تو ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے اور عبادت کا ایک جز و ہے ۔ یہ حکم تقاضا کرتا ہے کہ انسان یہ کیفیت حالتِ نماز میں بھی ہو ،جب وہ نماز سے فارغ ہو کر اپنے دوسرے امورِ زندگی سر انجام دے تو ان میں بھی اس کی کیفیت ایمانی یہی ہو۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی کا حق انسان کی پوری زندگی اور اسکے تمام معاملات کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔لہٰذا اے بندے! تو اپنی زندگی کا ہر ہر کام اور ہر ہر معاملہ خواہ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے حق سے ہو یا مخلوقِ خدا کے حق سے ہو اللہ تعالیٰ کے حکم تیرے سامنے ہیں اور توکیفیت مشاہدہ میں اس کو دیکھ رہا ہے یا کم از کم یہ ضرور جان لے کہ وہ تو تیرے ہر کام اور ہر معاملے کو دیکھ ہی رہا ہے ۔
انسان کو اس بات کی سمجھ آجائے کہ جو رب مسجد کے اندر ہے وہی رب باہر بھی ہے تو انسان کا کام بن جائے ۔لیکن ہمارا حال تو یہ ہوتا ہے کہ ہمارے اپنے اعمال کی وجہ سے اور ہماری اپنی دنیا طلبی کی وجہ سے ہمیں حالتِ نماز میں بھی یہ کیفیت میسر نہیں ہوتی ۔یہی وجہ ہوتی ہے کہ ہم نماز بھی پڑھتے ہیں اور جھوٹ بھی بولتے ہیں،نماز بھی پڑھتے ہیں اور ظلم بھی کرتے ہیں ،نماز بھی پڑھتے ہیں اور اپنی چرب زبانی سے الفاظ کے اُلٹ پھیر سے معصوم انسانیت کو دھوکہ بھی دیتے ہیں ،نماز بھی پڑھتے ہیںاور ہیرا پھیری بھی کرتے ہیں ، نماز بھی پڑھتے ہیں او رمخلوقِ خدا کا دل بھی دکھاتے ہیں ،نماز بھی پڑھتے ہیں اور کم بھی تولتے ہیں ،نماز بھی پڑھتے ہیں او رتہمتیں اوربہتان بھی لگاتے ہیں۔غرضیکہ نماز روزہ حج زکوٰۃ عبادات سب کچھ کرتے بھی ہیں اور عملی طور پر نیکی ،تقویٰ اورپرہیزگاری سے دور بھی ہوتے ہیں ۔اس کی وجہ کیا ہوتی ہے ؟ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ نہ ہم نے نماز کو نماز بنایا ہوتا ہے اور نہ ہی ہمیں عبادت کے مفہوم کی خبر ہوتی ہے ۔
حقیقت میں نماز در اصل وہ ہے جس کے پڑھنے کے بعد اس نماز کی حیاء اور اس نماز والے کی حیاء انسان کو برائی اور بے حیائی سے بچائے اور اگر نماز کے صحیح معنوں میں فیوض و برکات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نماز کے قائم کرنے کا مقصد ریا کاری یاد کھلا وانہ ہو بلکہ فقط اللہ کے لئے اور اس کی یاد کے لئے نماز قائم کی جائے اور اپنے دل سے دنیا کی محبت اور طلب کو نکال کر اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع پیدا کیا جائے ۔اس کی بارگاہ میں عاجزی انکساری کے ساتھ حاضر خدمت ہو جائے اور اس نماز کے ذریعے سے دینی دنیوی اوراُخروی معاملات میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جائے ۔
نماز کے سات فرائض:
اب ہم نماز کے فرائض پر اختصار سے گفتگو کریں گے ۔ نماز کے سات فرائض ہیں جن کا پورا کرنا لازم ہے ۔
(1)تکبیر تحریمہ ۔
(2) قیام ۔
(3)قرأت۔
(4)رکوع ۔
()سجدہ ۔
(6)قعدہ اخیرہ۔
(7)خروج عن الصلوۃ۔
یہ نماز کی ظاہری سات شرائط ہیں۔ اسی طرح ان کے قائم مقام نماز کی سات باطنی شرائط اور آداب بھی ہیں کہ جن سے نماز حقیقی معنی میں معراج بنتی ہے اور کس طرح نماز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جاتی ہے اور اس کی رحمت کو دعوت دی جاتی ہے ۔ہم مسائل نماز کے ساتھ ساتھ ان کی بھی نشاندہی کرتے جائیں گے ۔
تکبیر تحریمہ:نماز کی ابتداء میں نمازی اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اُٹھا کر پہلی تکبیر ’’اللہ اکبر‘‘ کہتا ہے اس کو تکبیر تحریمہ کہا جاتا ہے۔بعض نے تکبیر تحریمہ کو فرائض نماز میں ذکر کیا ہے اور بعض نے شرائط نماز میں اور بعض نے (فرائض و شرائط) دونوں میں اس کو ذکرکیا ہے۔
حضورتاجدار کائنات ﷺ نے فرمایا کہ جب تم نماز پڑھنے لگو تو صفوں کو سیدھا کر لیا کرو اور اگر کوئی تم میں سے امامت کرے تو جب وہ تکبیر (تحریمہ ) کہے تو جواب میں تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ ’’غیر المغضوب علیھم ولالضآلین‘‘ کہے تو تم ’’آمین‘‘ کہو اللہ تمہاری دعا قبول فرمائے گااور جب وہ رکوع میں جانے کیلئے ’’اللہ اکبر‘‘ کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہے تو تم ’’ اللھم ربنا لک الحمد‘‘ کہو اللہ تمہاری سُنے گا۔ (مسلم)
قیام :
قیام سیدھا کھڑا ہونے کو کہتے ہیں۔ نماز میں قیام کا طریقہ یہ ہے کہ دائیاں ہاتھ بائیں ہاتھ کی کلائی پر رکھ کر درمیان والی تین انگلیاں بائیں ہاتھ کی کلائی پرر کھ کر انگوٹھے اور چھوٹی انگلی یعنی چھنگلی سے بائیں ہاتھ کی کلائی کو پکڑتے ہیں ۔قیام کی حد یہ ہے کہ کم از کم اتنا ہو کہ اگر انسان ہاتھ کھول کر بازو سیدھے کر کے کھڑا ہو تو اس کے ہاتھ گھٹنوں تک نہ پہنچیں اور قیام کی صحیح حالت یہ ہے کہ انسان بالکل سیدھا کھڑا ہو ۔ قیام کرنا فرض قرأت کرنے کے برابر فرض ہے ۔قیام میں بغیر عذر کے دونوں پائوں زمین پر لگنا ضروری ہیں۔ اگر عذر ہو تو پھر تخفیف ہے ۔ اگر ایک پائوں یا پائوں کا کچھ حصہ اُٹھ جائے تو معاف ہے۔فرض نمازوں (فجر ، ظہر ،عصر، مغرب اور عشاء کے فرائض ) واجب نمازوں (عشاء کے تین وتر اور عیدین کی نمازوں)اور فجر کی سنتوں میں قیام فرض ہے اگر بغیر کسی صحیح عذر کے یہ نمازیں بیٹھ کر پڑھیں تو سرے سے نماز ہی نہ ہو گی ۔ آج کے اس دور میں عذر شرعی کو اور عذرِ صحیح کو سمجھنے کی بہت ضرورت ہے ۔بہت سے لوگ اس سے ناواقفیت کی وجہ سے اپنی نمازیں ضائع کر دیتے ہیں ۔عذر شرعی تو اس حد تک ہے کہ اگر انسان کسی انسان کا یا عصا کا یادیوار کا سہارا لے کر بھی کھڑا ہو سکتا ہے تو اس کے لئے قیام فرض ہے۔ جب تک اس حد تک عذر نہ ہو کہ انسان کھڑا ہو سکے یا اگر کھڑا ہو جاتا ہے لیکن سجدہ نہیں کر سکتا یا کھڑا ہونے سے اس کا مرض بڑھنے کا خدشہ ہے یا ناقابلِ برداشت تکلیف ہوتی ہے تو اس صورت میں بیٹھ کر یا اس شخص کے مرض کی نوعیت کے مطابق اشارے سے پڑھنے کی اجازت ہے ۔اکثر لوگوں کو او ر خاص طور پر بچوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ معمولی سی سردر دیا بخار یا کسی اور معمولی سی مرض یا تکلیف کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں۔لیکن وہی بعد میں دوسرے کاموں کے لئے گھنٹوں بھی اگر کھڑا ہونا پڑے تو کھڑے رہیں گے یادیگر اُمور زندگی بالکل نارمل طریقے سے سرانجام دے رہے ہوں گے ۔ یہ عذر نہیں ہے ایسے نماز پڑھنے سے نماز نہیں ہوتی ۔
یہ تو ہم نے بالکل مختصر قیام کے ظاہری ادب کے متعلق گفتگو کی ۔اب ہم دیکھیں گے کہ صوفیاء کرام کے نزدیک قیام کا باطنی ادب کیا ہے۔قیام میں بندہ دونوں ہاتھ باندھ کر سرکو جُھکا کر اپنی نگاہوں کو جھکا کر بالکل بے حس و حرکت پُر سکون حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضرِ خدمت ہوتا ہے ۔ قیام میں اس خالق کائنات کی عظیم بارگاہ کی حاضری کا تصور انسان کے ذہن میں ہونا چاہیے ۔گو کہ وہ زبان حال سے اس بات کا اعلان کر رہا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کر رہا ہوتا ہے کہ اے اللہ مجھ گناہگار نے اپنے آپ کو تیری بارگاہ میں پیش کر دیا اور اپنی ذات پر اپنے لئے اپنی کوشش اور اپنے تصرف کو تیری خاطر چھوڑ کر میں نے تیری رضا کے آگے اپنے ہاتھ باندھ لئے، تیرے حکم کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیا، اپنے گزشتہ اعمال پر شرمندہ ہو کر میں نے اپنی نگاہوں کو جھکالیا، مجھے معاف فرما دے مجھ پر اپنی رحمت فرما، مجھے ہدایت والے راستے پر استقامت کے ساتھ چلا اور مجھے اپنی رضا عطا فرما۔ پھر جب نماز سے فارغ ہو کر باہر دنیا میں آئے تو اس عہد کو یاد رکھتے ہوئے دنیوی امور سر انجام دے ۔
قرأت:
نماز میں قرأت فرض ہے۔ قرأت کرنے کی کم از کم حد یہ ہے کہ جب انسان قرأت کرے تو خود سُن سکے ۔اگر کوئی امر مانع نہیں ہے اور کوئی شور و غل وغیرہ بھی نہیں ہے اس کے باوجود اپنی قرأت کو نہیں سن پا رہا تو نماز نہ ہو ئی ۔ اسی طرح ایک احتیاط بہت ضروری ہے کہ قرأت میں حروف ان کے صحیح مخارج سے ادا کئے جائیں ۔ کیونکہ قرآن کریم کو کم از کم اس قدر سیکھنا کہ صحیح طور پر مخارج کے ساتھ نماز میں تلاوت کر سکے فرض ہے ۔اگر کوئی اس قدر بھی نہیں سیکھتا تو اس کا سینہ ویران گھر یا قبرستان کی مانند ہے ۔ قرأت کی کم از کم مقدار ایک آیت یا چھوٹی تین آیات ہیں۔
قرأت کا باطنی ادب یہ ہے کہ نماز میں جو قرأت کی جائے اس کے معنی اور مفہوم کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس کیفیت کو اپنے اوپر طاری کر کے پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کلمات کے ساتھ عرض و معروض کی جائے ۔مثال کے طور پر آپ سورۃ الفاتحہ تلاوت کرتے ہیں اور پڑھتے ہیں ۔ الحمد للّٰہ رب العالمینOتواللہ تعالیٰ کو تمام تعریفوں کے لائق جان کر اور تمام عالمین کا پروردگار اور ان کو نقطہ کمال تک پہنچانے والا جان کر اس جملے کو ادا کرے ۔جب اُس کو الرحمن الرحیم Oکہیں تو اسکی رحمت کے سمند ر میں غوطہ زن ہو کر اس جملے کو ادا کریں اور یہ تصور کریں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ساری کائنات کو اور تمام مخلوقات کو احاطہ کئے ہوئے ہے ۔اس طرح پوری نماز میں خواہ قیام ہو یا رکوع ہو یا سجدہ ہو یا تشہد ہو جو لفظ بھی پڑھیں ہر ہر لفظ کے معنی کا تصورکر کے نماز ادا کریں۔
رکوع:
رکوع جھکنے کو کہتے ہیں اور اس کی مقدار یہ ہے کہ سر اور پیٹھ ایک سیدھ میں ہو کہ اگر کوئی پانی کا پیالہ یا کوئی اور چیز اس پر رکھی جائے تو قائم رہے اور رکوع کی کم از کم مقدار یہ ہے کہ ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں ۔عذر شرعی کی صورت میں اشارے سے بھی رکوع کیا جا سکتا ہے ۔رکوع میں تین پانچ یا سات مرتبہ تسبیح سبحان ربی العظیمOپڑھے ۔ نماز کا ہر رکن خواہ وہ رکوع ہو قیام ہو سجدہ ہو جلسہ ہو یا تشہد ہو ہر رکن ادا کرتے وقت جلد بازی نہیں کرنی چاہیے بلکہ پوری نماز میں اور ہر رکن میں اتنی دیر ضرور رکھیں کہ طبیعت کو اطمینان حاصل ہو جائے ۔
رکوع میں انسان گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھک جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی پاکی اور عظمت بیان کرتا ہے ۔رکوع کا باطنی ادب یہ ہے کہ جب آپ رکوع کے لئے جھکیں تو دل میں یہ تصور کر لیا کریں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ،عظمت اور شہنشاہت کا اعتراف کرتے ہوئے عجز و انکساری کے ساتھ ا سکی بارگاہ میں اس کے سامنے جھکے ہوئے ہیں ۔انسان قیام کی حالت میں بھی با ادب ہی کھڑا ہوتا ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ کی بطور خاص پاکی اور شان و عظمت کو بیان کرنے لگتا ہے تو اس کی عظمت کا تصور کرتے ہوئے اور اس کے مقابلے میں اپنے ادنیٰ اور حقیر ہونے کا تصور کرتے ہوئے اس کی بارگاہ میںمزید عاجزی اختیار کرنے کے لئے مزید جھُک جاتا ہے ۔ لہٰذا انسان کو چاہیے کہ جب نماز سے فارغ ہو کر باہر دنیا میں جائے تو تکبر و رعونت ، انا اور خود پسندی سے پرہیز کرے۔
سجدہ: ہر رکعت میں دو سجدے فرض ہیں ۔سجدہ میں انسان اپنے دونوں پائوں دو گھٹنے دونوں ہاتھ ناک اور پیشانی زمین پر رکھ کر اللہ تعالیٰ کی پاکی اور عظمت کا اعتراف کرتا ہے ۔تاجدار کائناتﷺکی سنت مبارکہ ہے کہ آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت سجدے میں نہ جاتے جب تک سیدھے نہ ہو جاتے اور سجدے سے سر اٹھاتے اور اس وقت تک دوسرا سجدہ نہ فرماتے جب تک اطمینان کے ساتھ سیدھے نہ بیٹھ جاتے ۔(مسلم)۔ سجدے میں کچھ احتیاطیں ہیں جن سے بہت سے نمازی لوگ بھی غافل نظر آتے ہیں ۔