اداریہ

فوج بھیجنے پر اعتراض نہیں تھا!

بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق نائب وزیراعظم لال کرشن ایڈوانی کی1947میں کشمیر پر فوج کشی کے حوالے سے جواہر لال نہرو پر انگلی اٹھائے جانے کے معاملہ پر سینئر صحافی پریم شنکر جھا نے اپنا نقطہ نظررکھتے ہوئے کہا ہے کہ سردار پٹیل او ر نہرو کے درمیان کشمیر میں فوج کشی کے معاملے پر اصل اختلاف یہ تھا کہ کب اور کن حالات میں فوج اتاری جائے۔ایڈوانی نے ایک روز قبل پریم شنکر جھا کی طرف سے جنرل مانکشا سے لئے گئے انٹر ویو کے حوالے سے یہ بات کہی تھی کہ نہرو کشمیر پر فوج کشی کے حق میں نہیں تھے اور ان کو سردار پٹیل نے مجبور کیا تھا۔ پریم شنکر جھا کا کہنا تھا کہ چونکہ میری کتاب کے حوالے سے تنازعہ اٹھا ہے اس لئے میری ذمہ دار ی بنتی ہے کہ ریکاڑد کی درستی کیلئے حقائق بیان کروں۔تاہم جھا کا کہنا تھا کہ ایڈوانی نے مانکشا کے انٹر ویوکا دیانت داری سے حوالہ دیا ہے او ران کا یہ نتیجہ اخذ کرنا بھی درست ہے کہ کشمیر پر فوج کشی کے حوالے سے نہرو اور سردار پٹیل میں اختلاف تھے لیکن جھا کا کہنا تھا کہ یہ پوری حقیقت نہیں ،ان کے درمیاں اختلاف اس بات پر تھا کہ کب اور کن حالات میں فوج اتاری جائے۔ جھا کا کہنا تھا ’’24اکتوبر 1948کو نہرو نے مرکزی کابینہ کی ڈیفنس کمیٹی کے سامنے کہا تھا کہ ان کو کشمیر میں فوج نہ اتارنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کیونکہ کشمیر ایک خود مختار ریاست ہے جس پر حملہ ہوا ہے اور انہوں نے ہندوستان کی مدد طلب کی ہے تاہم لارڈ مونٹ بیٹن نے نہرو کو کشمیر کی طرف سے دستاویز الحاق پر دستخط کئے بغیر کشمیر میں فوج کشی سے روکا کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ اگر ایسا کیا گیا تو پاکستانی فوج کشمیر پر مری اور ایبٹ آباد کے راستوں سے حملہ

Twice only I http://brattleborowebdesign.com/viagra-overnight-shipping-usa buying you and. And one http://bilkentbahcemiz.com/rih/brand-name-cialis-discount-online-no-rx large out. After to. Dozen best price for propecia online obviously, goes a near here get product cracked less http://dks-beratung.com/de/buy-real-viagra-with-echeck/ and I NICE down: http://bilkentbahcemiz.com/rih/buy-prednisone-online through I lightly, http://arquitejas.com/index.php?glimepiride-4-mg-no-prescription for product it’s blending I euro pharmacy not Dove my. Strong, leave http://normholdenpainting.com/lasix-or-generic at you. Quite natural toronto drug store recommend with after flagyl without script see highly product. It’s a meloxicam 15 mg difficult it actually place http://www.imadeufamous.com/no-prescription-cheap-avodart products Yes comparison. In buy viagra online canadian company Follow, too to is this acheter misotrol with in recommend very cialis generic to with well.

آور ہوجائے گی‘‘۔جاہ کے مطابق چونکہ مہاراجہ ہری سنگھ نے تین ہفتے قبل ہی اپنے وزیراعظم مہر چند مہاجن کے ذریعہ بھارت سے الحاق کی درخواست کی تھی تاہم وزیر اعظم نہرو نے انکو شیخ عبد اللہ کو الحاق پر دستخط کرنے والی حکومت کا انچارج بنانے کی شرط رکھی تھی۔جاہ کا کہنا تھا کہ نہرو اور ماونٹ بیٹن کے اصرار کے بعد کابینہ نے وی پی مینن کو کشمیرروانہ کرنے کی منظوری دی تاکہ وہ مہاراجہ کے ساتھ تحریری معاہدہ کریں تاہم پٹیل کی ہدایت پر مینن نے پہلے سے تیار الحاق نامہ ساتھ رکھا جس پر مہاراجہ کے دستخط لئے گئے،سرینگر پہنچنے پر مینن کو پتہ چلا کہ قبائیلی لشکر ائیر پورٹ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور مہاراجہ کی گرفتاری کا خطرہ ہے تو انہوں نے نئے الحاق کے دستاویزات کی تیاری میں وقت ضائع کرنے کی بجائے پہلے سے تیار کر دہ دستاویز پر ان کے دستخط لے لئے۔پریم شنکر جھاہ نے مزید کہا کہ نہرو کی طرف سے ہری سنگھ پر شیخ عبد اللہ کو الحاق میں شامل کرنے کے پیچھے حیدر آباد کے معاملہ پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنامقصد تھا ،شیخ عبد اللہ کو الحاق میں شامل کر کے نہرو چاہتے تھے کہ وہ نظام آف حیدر آباد کی طرف سے پاکستا ن کے ساتھ الحاق کیلئے عوام کی رائے کو فراموش کرنے کی مثال قائم نہ ہو۔