خبریں

فوج چھتر گام واقعہ میں ذمہ دار

فوج چھتر گام واقعہ میں ذمہ دار

چھترگام میں دو معصوم نوجوانوں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوج نے کہاہے کہ واقعہ کی آئندہ دس روز کے دوران تحقیقات مکمل کی جائے گی اور ابتک فوجی اہلکاروں او 15عام شہریوں کے بیانات قلمبند کئے جاچکے ہیں۔فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل ڈی ایس ہوڈا نے ان ہلاکتوںپر گہرے افسوس اور نوجوانوں کے لواحقین کے ساتھ بھرپور ہمدردی کا اظہارکرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کیلئے10لاکھ اور زخمیوں کیلئے5لاکھ روپے فی کس کی نقد امداد کا اعلان بھی کیا۔ سرینگر میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں فوجی کمانڈر نے یہ بات کہی۔ جس کا مقصد بظاہر چھترگام میں پیش آئے واقعہ کے بارے میں فوج کا موقف بیان کرنا تھا۔فوجی کمانڈر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا’’ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے، ہمیں ایک کار کے بارے میں اطلاع ملی تھی جس میں جنگجو سفر کررہے تھے،یہ غلط شناخت کا ایک واقعہ ہے اور اسکے حالات واقعات کی چھان بین کی جارہی ہے ، جو کچھ بھی ہوا، ہم اسکی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، ہم نے کوئی فرضی کہانی نہیں بنائی بلکہ ہم ذمہ داری لیتے ہیں ، تحقیقات کے دوران اس بات کا پتہ لگایا جائے گا کہ یہ غلطی کیسے ہوئی؟‘‘انہوں نے زوردیکر کہا کہ اس واقعہ کی شفاف اورغیر جانبدارانہ تحقیقات عمل میں لاکر قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔اس ضمن میں ان کا کہنا تھا’’فوج تحقیقات کے حوالے سے پولیس کو بھرپور تعاون دے گی ، اگر کسی قسم کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو ملوثین کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا، ہم واقعی یہ چاہتے کہ ایسا واقعہ پیش نہ آئے‘‘۔شمالی کمان کے سربراہ نے بتایا کہ اس غلطی کی وجوہات کا پتہ لگانے کے دوران شفافیت کی اعلیٰ ترین اقدار کا خیال رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ فوج نے حقائق کا پتہ لگانے کیلئے اپنی سطح پر معاملے کی کورٹ آف انکوائری کے احکامات صادر کئے ہیں اور یہ عمل ابھی جاری ہے جس کے دوران اب تک15عام شہریوں اور اہلکاروں کے بیانات عینی شاہدین کی حیثیت سے قلمبند کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کا عمل آئندہ دس روز کے اندر مکمل کیا جائے گا۔لیفٹنٹ جنرل ڈی ایس ہوڈا نے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’ہم مہلوکین کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، ہم انسانی جانوں کے اتلاف پر گہرا افسوس ظاہر کرتے ہیں، ہم مکمل طور ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور ساتھ ہی مارے گئے نوجوانوں کے لواحقین کی بھرپور امداد کا یقین دلاتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب کے دوران فوج نے عام لوگوں کے ساتھ رشتوں کو مضبوط بنانے کے حوالے سے جو کام کیا،ایسے واقعات سے ان تعلقات کودھچکا لگا ہے اور فوج کی کوششیں ضائع ہوتی ہیں۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فوجی کمانڈر نے بتایا کہ فوج اپنی مشقوں میں مزید بہتری لائے گی اور ایسے اقدامات اٹھائے جائیں گے کہ ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔