خبریں

فورسز کو جواب دہ بنا یا جائیگا/ کوئی وزیر ملازمین کا تبادلہ نہیں کرسکتا

فورسز کو جواب دہ بنا یا جائیگا/  کوئی وزیر ملازمین کا تبادلہ نہیں کرسکتا

اسمبلی میں خطاب کے دران وزیرا علیٰ مفتی محمد سعید نے کہا کہ ریاست میں نافذ افسپا کو مرحلہ وار طریقے سے ہٹانے کیلئے ریاستی حکومت نے من بنالیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم آہستہ آہستہ افسپا کی منسوخی کا عمل شروع کریں گے۔گورنر کے خطبہ پر ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور ایوان زیریں میں این سی پارٹی لیجسلیچر لیڈر عمر عبداللہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ عمر صاحب افسپا منسوخی کی بات چھ سال تک دوران اقتدار کرتے رہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ فوج کو جوابدہ بنانے کیلئے ریاستی حکومت نے واضح احکامات صادر کئے ہیں۔وزارت دفاع کو ریاست میں فوج کو جوابدہ بنانے ، انسانی حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے زمینی سطح پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ بڈگام جیسا واقعہ دوبارہ رونما نہ ہوسکے۔ ریاست میں نافذ افسپا کو ہٹانے کا فیصلہ وزارت دفاع کو کرنا ہے تاہم میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس قانون کو ہٹانے کیلئے ریاستی حکومت اقدامات اٹھائے گی۔وزیر اعلیٰ نے فوج کے اعلیٰ آفیسروں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ ریاست میں تعینات فوج کو جوابدہ بنانے کیلئے زمینی سطح پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ وزیرا علیٰ نے کہاکہ افسپا ہٹانے سے پہلے ریاست میں تعینات فوجی آفیسر اہلکاروں کو جوابدہ بنانے کیلئے زمینی سطح پر اقدامات اٹھائے جائینگے۔ بڈگام واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے مفتی محمد سعید نے کہاکہ فوج کی جانب سے دو نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد اگرچہ ملوث اہلکاروں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی گئی تاہم مستقبل میں اس طرح کے واقعات پر قابو پانے کیلئے فوج کو اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ دیرپامسئلہ کشمیرکے حل کے لئے نئی دہلی کو اسلام آباد سے مذاکرات شروع کرنے کو کہتے ہوئے مفتی نے کہا’’کشمیر میں سازگار ماحول کے لئے حکومت ہند کو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے چاہئے، پاکستان کے ساتھ تعلقات مسئلہ ہے، ہندوستان ایک عظیم ملک بن جائے گا اور یہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کرے گا۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے کشمیر مسئلہ کے حل کے لئے داخلی اور خارجہ سطح پر مذاکراتی عمل شروع کیاتھا۔ واجپئی نے علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات کئے اور پاکستان کے ساتھ مفاہمتی عمل شروع کیا۔ وزیر اعظم ہند نریندر مودی کے پاس ہندوستان کے لوگوں کا منڈیٹ ہے، ان کے لئے ممکن ہے کہ وہ واجپئی کے مشن کو آ گے لے جائیں۔ مفتی محمد سعید نے اسمبلی انتخابات2014کے نتائج کو جموں اور کشمیر کے دونوں خطوں کے عوام کو آپس میں ملنے کا ایک سنہری موقع قرار دیا۔ جموں میں لوگوں نے بی جے پی اور کشمیر میں پی ڈی پی کے حق میں ووٹ ڈالا۔ یہ ہمارے پاس ایک موقعہ تھا کہ لوگوں کو جوڑا جائے۔ مفتی نے سوال کیاکہ اگر ہم جموں اور کشمیر کے لوگوں کو ایک ساتھ نہیں لاسکتے تو پھر کیسے کشمیر ی عوام کو ہندوستان کے ساتھ جوڑیں گے۔ میر ا مقصد کشمیر اور جموں کے لوگوں کو باقی ہندوستان کے ساتھ یکجاکرنا ہے۔ مفتی نے مزید کہاکہ جموں وکشمیر واحد مسلم اکثریتی ریاست ہے۔ اگر ہم اکھٹا ہوئے ہیں تو اس سے ریاست کے تنوع اتحاد میں اضافہ ہوگا۔ دفعہ370 وزیر اعلیٰ نے کہاکہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو آئین ہند میں خصوصی درجہ حاصل ہے، میں چاہتا ہوں کہ جموں اور لداخ کے لوگ بھی اس خصوصی پوزیشن کا فائدہ اٹھائیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں وکشمیر کی آئین ہند میں خصوصی پوزیشن ہے جس کو مٹایا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کو Erodeکیاگیاہے۔ صدر ریاست سے گورنر ، وزیر اعظم سے وزیر اعلیٰ کردیاگیا۔ آئین ہند کے دفعہ356کا اطلاق جموں وکشمیر میں براہ راست نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں۔ اسی کے تحت انسداد دل بدلی قانون، زرعی اصلاحات جیسے قوانین پاس کئے گئے۔ مفتی نے کہاکہ آئین ہند کی 73 ویں اور74ویں ترامیم کی بات کی جارہی ہے۔ ہمارے پاس اختیار ہے کہ ہم اسمبلی میں اپنا قانون لاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہماری کوشش رہے گی کہ ریاست کو حاصل خصوصی اختیار ات کا استعمال کر کے اپنی پوزیشن کو مضبوط ومستحکم بنایاجائے۔ پی ایس اے اور سیکورٹی صورتحال وزیر اعلیٰ نے کہاکہ جموں وکشمیر میں امن وقانون کی صورتحال بہتر ہے۔ انہوں نے بتایاکہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت صرف37افراد ہی نظر بند ہیں، ان میں 20غیر ملکی جبکہ باقی ریاستی باشندے ہیںجن میں6منشیات سمگلر ،2سنگ باز اور ایک سیاسی قیدی شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ حالات میں کافی بہتری ہوئی ہے۔مفتی محمد سعید نے اعتراف کیاکہ وہ جب حزب اختلاف میں تھے لوگوں کو اصل حقائق کے بارے بتانے میں ناکام رہے دفاعی اراضی مفتی محمد سعید نے فوج کے زیر قبضہ اراضی جائز مالکان کو واپس لوٹانے کے وعدہ کو دوہراتے ہوئے کہاکہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 8لاکھ 7000کنال اراضی جموں وکشمیر ریاست میں فوج کے قبضہ میں ہے جبکہ فوج کا یہ دعویٰ ہے کہ ان کے قبضہ میں صرف5لاکھ اور8000کنال اراضی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جوکہ اس مسئلہ کو حل کرنے کو یقینی بنائے گی۔ کچھ اراضی مالکان کو واپس دلائی جائے گی اور جوضروری زمین فوج اپنے پاس رکھے گی اس کامعقول معاوضہ مالکان کو دلایاجائے گا۔ سول۔ ملٹری لائزن میٹنگ میں بھی اس معاملہ پر بات چیت کی جائے گی۔ رفیوجیوں کا مسئلہ وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے 1947,65اور1971کے رفیوجیوں کی یکمشت بحالی کو جلد یقینی بنایاجائے گا۔ اس کے لئے نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دی جائے گی جوکہ اس کو دیکھے گی۔ انہوں نے کہاکہ رفیوجیوں کی بحالی ایک انسانی مسئلہ ہے جس کو انسانیت کے دائرہ میں حل کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مغربی پاکستان رفیوجیوں کو سٹیٹ سبجیکٹ تو نہیں دی جاسکتی لیکن اس بات کو یقینی بنایاجائے گاکہ نجی سیکٹر میں انہیں زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقعے فراہم کئے جائیں۔اس مسئلہ کو حل نہ کرنے پر کانگریس اقتدار میں حکومت کی بھی چٹکی لی۔ حدبندی کمیشن اور پہاڑیوں کو ایس ٹی بین الاقوامی، حدمتارکہ پر رہنے والے لوگوں کے مسائل کا حل ، کوہلی، چوپان اور پہاڑی زبان بولنے والے لوگوں کو ایس ٹی کا درجہ دینا بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل رہے گا۔ واضح رہے کہ اسمبلی وپارلیمانی حلقوں کی از سرنوحدبندی کے حوالہ سے عدالت عظمیٰ کے فیصلہ پر عملدرآمدکرئے گی جس کے تحت 2026تک جموں وکشمیر حد بندی نہیں ہوسکتی۔ سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری اور تباہ شدہ ڈھانچہ کی تعمیر نو وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ریاست بالخصوص وادی کے اندر سیلاب سے ہوئے نقصانات کی بھرپائی کرنے کی سرکار وعدہ بند ہے۔ سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری اور تبادہ شدہ ڈھانچہ کی تعمیر نو ہماری ترجیحی رہے گی۔ انہوں نے اعتراف کیاکہ ریاستی سرکار کے پاس اس وقت 1100کروڑ روپے موجود ہیں،1500کروڑ مزیدعالمی بنک سے آرہے ہیں ، جنہیں بہت جلد متاثرین میں تقسیم کرنے کا عمل شروع کیاجائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی ٹیم مرکزی سرکار سے عنقریب ملاقات کریگی ، اس ٹیم میں سیلاب متاثرہ علاقہ جات کے متعلقہ اراکین اسمبلی بھی شامل ہونگے۔ حکومت ہند سے مانگ کی جائے گی کہ سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری کے اقدام اٹھائے جائیں۔ جن دکانداروں نے انشورنس نہیں کروایا ہے انہیں بھی انشورنس فراہم کیاجائے گا۔ Destitueکوبھی آباد کیاجائے گا انتظامی سطح پر بہتری کے اقدامات وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے کہاکہ شفاف ٹرانسفر پالیسی قائم کی جائے گی، احتساب کمیشن قانون میں ترمیم لاکر ممبران کی مدت3سے بڑھا کر 5برس کی جائے گی۔ ویجی لینس کمیشن جوکہ اختیارات کے بغیر ہے، اس کو با اختیار بنایاجائے گا، ابتدائی سطح پر شعبہ تعلیم میںبہتری لائے جائے گی اور حکومت کی یہ کوشش رہے گی کہ پرائمری سطح پر سرکاری تعلیمی اداروں میں بہتر سے بہتر سہولیات اور ڈھانچہ فراہم کیاجائے۔انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کے افسران کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ ایڈمنسٹریشن میں شامل بہت اچھے افسران ہیں لیکن اگر کہیں کوئی غلط پایاگیا تو اس کو کسی بھی قیمت پر معاف نہیں کیاجائے گا۔منسٹری کوئی ٹرانسفر کی انڈسٹری نہیں ہے۔ یہ سلسلہ بالکل ختم ہوگا، کوئی بھی منسٹر ٹرانسفر نہیں کرسکیں گے۔ منسٹر کے پرسنل سیکشن میں افسران اور دیگر سٹاف ممبران کی تعیناتی عمل میں لانے کا جوطریقہ اختیار کیاگیاہے۔یہ سب کے لئے سبق آموز ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ تھری ٹائرپنچایت سسٹم، بلدیاتی اداروں کے چنائو بھی مخلو ط حکومت کی ترجیحی ہوگی۔ اس موقعہ پر انہوں نے بی ڈی سی الیکشن نہ کروانے پر عمر عبداللہ سرکارسے بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے اعلان کیاکہ اراکین اسمبلی کی ایک کمیٹی جس میں حزب اختلاف کے ممبران بھی شامل ہونگے کو ہندوستان کی ان ریاستوں کے دورہ پر روانہ کیاجائے گا، جہاں پر ماڈل پنچایتی راج نافذ ہے، یہ اراکین مکمل سٹڈی کر کے ایک رپورٹ پیش کریں گے جس کی بنیاد پر جموں وکشمیر میں پنچایتوں کو بااختیار بنایاجائے گا۔ کشمیری پنڈتوں کی گھر واپسی کشمیری پنڈتوں کی باعزت گھر واپسی کو یقینی بنانے کے اقدام اٹھائے جائیں گے۔ جموں کی طرز پر کشمیر میں مائیگرینٹوں کے لئے ٹائون شپ تعمیر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ سابق کانگریس حکومت میں جب جموں میں کشمیری مائیگرینٹ پنڈتوں کے لئے ٹائون شپ بنایاگیا تو ہم نے کہاکہ کشمیر میں ایسا ہونا چاہئے لیکن پتہ نہیں اس مطالبہ پر عمل کیوں نہیں ہوا۔ مغل روڑ مفتی سعید نے یقین دلایاکہ مغل روڑ کو سال بھر آمدورفت کے قابل بنایاجائے۔ انہوں نے کہاکہ اس سڑک پر جلد ٹنل تعمیر کرنے کے عمل کا آغاز کیاجائے گا۔ اس ضمن میں انہوں نے بات بھی کی ہے لیکن تب تک سال بھر مغل روڑ کو قابل آمدورفت بنانا ترجیحی رہے گی۔اس کے علاوہ مفتی محمد سعید نے جموں کو آزاد سیاحتی مرکز بنانے، زراعت شعبہ کو فروغ دینے، 100فیصد شرح خواندگی کی حصولی، جموں سرینگر نیشنل فورلین ہائی وے کی تعمیر کی بھی بات کی۔