اداریہ

فوری سدباب کرنے کی ضرورت

ریاست جموں وکشمیر میں مائیگرنٹ پنڈتوں کو الگ سے بسانے اور سینک کالونی کے ساتھ ساتھ نئی صنعتی پالیسی منصوبوں کو عملانے سے ایک طرف اس بات کا خدشہ کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے کو لے کر ریاست میں ایک بڑا لاوا پک رہا ہے جو حکومت کےلئے ایک بڑی چتاونی ہے۔7 جنوری 2016 کو مفتی محمد سعید کا انتقال کیا ہوا کہ ریاست میں وزیراعلیٰ کے انتقال ہونے پر گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔ اس دوران سب لوگ قیاس کر رہے تھے کہ جلد ہی سیول حکومت یعنی محبوبہ مفتی سربراہی والی حکومت بننے والی ہے لیکن حکومت بنانے میں لگاتار اڑچنیں آنے کے دوران گورنر نے مشیروں کو تعینات کیا اور اس دوران گورنر انتظامیہ نے ریاست میں کئی اہم فیصلے لئے اور ہر طرف گورنر انتظامیہ کی پذیرائی مل رہی تھی، تاہم دوسری اور گورنر راج کے اختتام ہونے اور ریاست میں نئی سرکار معرض وجود آنے کے بعد گورنر انتظامیہ کے کچھ ایسے فیصلے اور پالیسوں کے لب لباب سامنے آنے لگے جو اب محبوبہ حکومت کو عملانے ہیں تاہم ان سارے معاملوں کو لے کر ایک ایسا لاوا پکنے کا انداز کیا جا رہا ہے جس کا اشارہ گذشتہ دنوں حریت کے دونوں دھڑکوں کے ساتھ ساتھ لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یٰسین ملک نے دیا۔ اس بارے میں اگر چہ سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے سب سے پہلے سینک کالونیوں کا معاملہ اٹھا کر سب کو حیران کر دیا تاہم سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے انکشاف کے بعد وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس معاملے کو سرے سے ہی نکارا۔ مگر اس بات کو نکارنے سے یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا کہ ایک اور نیا معاملہ سامنے آیا جو ریاست کی نئی صنعتی پالیسی کا روپ دھارن کر گیا جس کی ہر طرح سے مخالفت ہونے لگی تاہم اس پالیسی پر نظر ثانی کرنے کے لئے اگرچہ حکومت کے ترجمان نعیم اختر نے گذشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس میںاس بات کا اظہار کیا کہ نئی صنعتی پالیسی کو نظر ثانی کرنے کے لئے کابینہ کے سامنے رکھیں گے اور اس پر نظر ثانی کرنے کی سفارش کی جائے گی۔ تاہم ترجمان نعیم اختر کی پریس کانفرنس کے بعد لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یٰسین ملک نے ایک پریس کانفرنس میں سینک کالونی ،مائیگرنٹ پنڈتوں کو الگ بسانے اور نئی صنعتی پالیسی کے منصوبوں کو اسرائیلی طرز عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں کیخلاف فرنٹ کی طرف سے بنائی گئی 5رکنی کمیٹی حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں ،بار ایسوسی ایشن،تاجروں اور طلباءانجمنوںسے مشاورت کرے گی تاکہ ان کا توڑ کرنے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل بنایا جائے۔ ملک نے کہا کہ ہر دس روز بعد یہاں نئے نئے ایشوز کھڑے کرکے لوگوں کو الجھایا جاتا ہے اور پھر ہمیں پی ڈی پی کے ترجمان نعیم اختر کا جھوٹ سننا پڑتا ہے۔انہوں نے کہاپنڈتوں کو الگ بسانے کے بعد سینک کالونی کے قیام اور اب نئی صنعتی پالیسی جیسے ایشوز کو لیکر یہاںالجھن پیدا کی جاتی ہے۔ ایک طرف ریاست مخالف کئی ایشوزکو کھڑا کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف ان کا توڑ کرنے کا لائحہ عمل ترتیب دیا جا رہا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت کو ایسے منصوبوں کو ہرگز عملانا نہیں چاہیے جس سے یہاں کی خرمن امن کوزک پہنچے۔ اس لئے ایسے منصوبوں کو روکنے کےلئے فوری سدباب کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے منصوبوں کو اگر ریاست میں عملایا گیا تو ہوسکتا ہے کہ یہاں ایک اور ایجی ٹیشن شروع ہو گی اور حکومت کو لینے کے دینے پڑے گا۔ اس لئے سینک کالونی کے منصوبے کے ساتھ ساتھ صنعتی پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے جس کو فوری طور پر عملی جامع پہنچانا چاہیے ورنہ سینک کالونی منصوبہ اور نئی صنعتی پالیسی ایک زبردست رخ اختیار کر سکتا ہے۔