خبریں

قانون ساز اسمبلی میں عمر عبداللہ کا حکومت پر تنقید

قانون ساز اسمبلی میں عمر عبداللہ کا حکومت پر تنقید

رواں ہفتے یعنی گزشتہ دنوں ریاست کے سابق وزیراعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر عمرعبداللہ نے موجودہ سرکار کو سمت اور بے نظریہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پچھلے 16ماہ ضائع کر دئے۔ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ NEETکا اطلاق ریاست کی خصوصی پوزیشن پر براہ راست حملہ ہے اور حکومت سپریم کورٹ میں اپنے مضبوط کیس کا دفاع کرنے میں ناکام ہوگئی۔انہوں نے ہندوارہ ہلاکتوں، نفسا، افسپا، پائور پروجیکٹوں کی واپسی، این آئی ٹی معاملے، سینک کالونیوں، مائیگرنٹ کالونیوں، ریاستی وزیر لعل سنگھ کے بیان اورنئی صنعتی پالیسی کے معاملات پر حکومت پر تابڑ توڑ حملے کئے۔قانون ساز اسمبلی گورنرکے خطبہ پر شکرانے کی تحریک پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ میں اپوزیشن کا وہ لیڈر نہیں ہوں جو کرسی حاصل کرنے کیلئے ریاست میں آگ لگائوں، تاہم انہوں نے محبوبہ مفتی سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ وقت ضائع کر رہی ہو اور موجودہ سرکار ہرمحاز پر ناکام ثابت ہو چکی ہے۔انہوں نے محبوبہ مفتی سے مخاطب ہو کر کہا ’’میں سمجھتا ہوں کہ آپ مجبور ہو کر اس کرسی پر بیٹھی ہیں اور اس لئے میری آپ سے ہمدردی ہے۔جب میں بھی وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھا تھا تو مجھے بھی سب پر بروسہ کرنا کافی مشکل لگتا تھا۔کیونکہ اس کرسی پر بیٹھ کر شک پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں جو کہا جا رہا ہے کیا وہ سہی ہے اپ کو بھی اب کسی پر بروسہ کرنا کافی مشکل بن گیا ہے۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ اب لوگ بھی سرکار پربھروسہ نہیں کرتے۔پچھلے 16ماہ میں کسی بھی چیز پر قائم نہیں رہ سکیں ہیں، کیونکہ جب ریاست میں 2014کا الیکشن ہوا اس میں آپ نے پی جے پی کے خلاف نعرہ بازی شروع کر کے لوگوں کو یہ تاثردیا کہ اگر بی جے پی کو ناکام کرنا ہے تو عمر عبداللہ کو ووٹ مت دو کیونکہ عمرعبداللہ بی جے پی کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ اگر بی جے پی کا ڈر تھا تو ہاتھ کیوں ملا اور اب ہاتھ ملایا ہے تو ریاست کو کیوں تباہی کے دہانے پر پہنچارہے ہوں۔ عمر عبداللہ نے کم سے کم مشترکہ پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام اچھا ہے لیکن زمینی سطح پر دکھائی نہیں دے رہا ہے۔سیلاب زدگان کیلئے ریلیف نہیں،ریاست کی تعمیر وترقی نہیں، افسپا کی بات نہیں ، بجلی پرجیکٹوں کی بات نہیں، فوج کی واپسی کی بات کہیں نہیں،ہندستان وپاکستان سے بات چیت کہیں نہیں تو پھر کم سے کم مشترکہ پروگرام کیسا ؟۔ مرحوم مفتی محمد سعید کی وفات کے بعد پی ڈی پی کے کچھ لوگوں نے ایجنڈا آف الائنس پر سوال اٹھائے اور کہاکہ دس ماہ میں کچھ نہیں ہوا۔ آپ نے بی جے پی کے ساتھ سرکار بنانے سے قبل کہا تھا کہ اعتماد سازی اقدمات کی یقین دہانی کے بعد ہی سرکار بنانے کے بارے میں سوچا جائے گا،اور اس کی بحالی سے قبل میں اس کرسی کوسنبھالنے کیلئے تیار نہیں ہوں ،اگر یہ سب کچھ مرکز نے نہیں مانا تو پھر آپ نے کیوں دوماہ ضائع کئے ، آپ کو تو لوگ پہلے ہی دن وزیر اعلیٰ بنانے کیلئے تیار تھے اور آپ کے ممبران نے بھی اس کیلئے دستخط کئے تھے ،آپ نے بلا وجہ ریاست کے لوگوں کو دوماہ تک انتظار کروایا ، لیکن جب دو ماہ بعد کچھ حاصل نہیں ہوا تو آپ نے سرکار بنانے پر رضا مندی ظاہر کی۔ آپ جب وزیر اعظم سے دلی میں ملاقات کر کے یہاں پہنچی تو آپ نے میڈیا کو بتایا کہ وزیر اعظم سے اچھی ملاقات ہوئی لیکن سچائی تو یہ ہے کہ اس کے فوراً بعد بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ محبوبہ جی نے نہ کچھ مانگا اور نہ ہی مودی جی نے انہوں کچھ دیا ، محبوبہ جی نے وزیر اعظم سے آشیرواد مانگا اور انہوں نے آشیرواد دے دیا اور وہ چلی گئیں۔ اگرآپ نے آشیرواد کیلئے دوماہ ضائع کئے تو وہ آشیرواد پہلے بھی مل سکتا تھا۔کشمیر ایک چھوٹا ساشہر ہے اور یہاں افواہوں کا بازار گرم رہتا ہے، سنا ہے کہ آپ کی پارٹی کے کچھ لوگ دوبارہ حکومت بنانے کیلئے دلی گئے ہوئے تھے ،شائد انہوں نے آپ کو یہ کہا کہ آپ حکومت بنائیں یا نہ بنائیں لیکن ہم سرکار بنا کر رہیں گے اوراس لئے آپ مجبور ہوگئیں سرکار بنانے کیلئے ‘‘۔گورنر کے خطبے میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جس کا ہم کہہ سکیں کہ اس سرکار نے لوگوں کیلئے کچھ نہ کچھ کیا ہے بلکہ سرکار غلطی پر غلطی کر رہی ہے۔ریاست میں فوڈ سیکورٹی ایکٹ کو جذبات میں آکر لاگو کیا گیا ، اور اب سرکار ہی کہتی ہے کہ اس میں کئی خامیاں رہ گئی ہیں ور اب ریاست کے لوگوں کو سبسڈی پر راشن دینے کی بات کی جا رہی ہے۔مرکز سے آپ نے کچھ نہیں لایا بلکہ الٹا آپ ریاستی خزانے سے چاول خریدنے پڑ رہے ہیں۔ ریاست کی خصوصی پوزیشن کو بچانے کی بات کی جاتی ہے لیکن نیٹ کا امتحان سرکار روک نہیں پائی، یہ قانون ہماری ریاست پر لاگو ہی نہیں ہونا چاہئے تھا ،لیکن جب سرکار نیٹ کے معاملے پر عدالت عظمیٰ میں اپنا تحفظ نہیں کر پائی تو اس سرکار سے اور کیا توقعات کی جا سکتی ہے۔ نیٹ کا معاملہ سیدھے سیدھے ہماری خصوصی پوزیشن پر حملہ ہے کیونکہ اس ریاست کے پاس اپنا سٹیٹ سبجیکٹ قانون ہے۔این آئی ٹی معاملے پر سرکار کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا جب یہ معاملہ پیش آیا تو سرکار کی جانب سے یہ جواب آیا کہ یہ کوئی بڑا معاملہ نہیں ہے ، لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ بڑا معاملہ تھا کیونکہ ریاست کے طالب علموں کو باہر بدنام کیا گیا۔ محبوبہ سے مخاطب ہو کر عمر عبداللہ نے کہا کہ آپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ باہر کی ریاستوں سے جو طالب علم کشمیر میں پڑھنے کیلئے آتے ہیں، وہ ہمارے مہمان ہیں لیکن ایک بار بھی آپ نے یہ نہیں کہا کہ ہمارے بچے بھی باہر کی ریاستوں میں پڑھتے ہیں، اْن کا خیال رکھا جائے۔جس طرح ہم باہر کی ریاستوں کے بچوں کو یہاں عزت دے رہے ہیں ویسے ہی ہمارے بچوں کو بھی وہاں عزت ملنی چاہئے تھی۔ہندوارہ ہلاکتوںسے متعلق عمر عبداللہ نے کہا کہ وہاں بے گناہ لوگ مرے، اس میں بھی آپ نے ان لوگوں کوذلیل کیا ، آپ کی پارٹی کے ایک اعلیٰ لیڈر نے کہا کہ وہ بے قوف لوگ تھے، خودکشی کرنے نکلے تھے۔انہوں نے وزیر اعلیٰ سے کہا کہ انہیں ان تمام باتوں کا جواب دینا ہوگا۔ عمر نے کہا کہ ہندوارہ کی لڑکی کے بیان اور پولیس کے بیان میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ مجرم جو بھی ہو اْس کو سزا ملنی چاہئے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ یہاں خیالات کی جنگ کی بات کی جاتی ہے لیکن وہ بھی کہیں نظر نہیں آرہا ہے۔مرکزی اور ریاستی سرکار کے درمیان تال میل کہیں پر بھی نظر نہیں آرہا ہے ،کیونکہ مرکز ریاستی سرکار کواعتماد میں ہی نہیں لے رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے کہا کہ آپ کو وزیر اعلیٰ بنے تین ماہ کا وقت ہو گیا ،ان دو ماہ میں دو بار اعلیٰ سطحی میٹنگ دلی میں بلائی گئی، ایک بار اس میٹنگ میں گورنرگئے اور دوسری میٹنگ میں ریاستی سرکار کی جانب سے کوئی نہیں گیا۔ ایجنڈا آف الائنس میں افسپا کی بات کی جاتی ہے ،اور پارلیمنٹ میں آپ کے ہی ممبرکے سوال کے جواب میں آتا ہے کہ افسپا پر کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ہے تو پھر ایجنڈا آف الائنس میںافسپا کو کیوں لانا ؟،ایجنڈا آف الائنس میں آپ پاور پروجیکٹوں کی واپسی کی بات کرتے ہو تو جواب میں مرکز کے وزیر بجلی کہتے ہیں کہ مطالبات تو بہت ہوتے ہیں لیکن ان کو فیصلوں میں نہیں بدلا جاسکتاتو یہ کون سا ایجنڈا آف الائنس ہے؟۔ کشمیری کی زمین کو لیکر کوئی اہمیت نہیں کوئی سمت نہیں اور کوئی نظریہ نہیں ہے ،سینک کالونی کی زمین کے معاملہ پر آپ کے ممبر کہتے ہیں کہ یہ کالونیاں بننی چاہیں۔ آپ سینک کالونیاں بنائیں ،لیکن مجھے بتائیں کہ پھر سٹیٹ سبجیکٹ قانون کا کیا ہوگا۔ لوگوں کو جوڑنے کی بات کی جاتی ہے لیکن اقلیتی طبقے کے لوگوں کو ڈرا کر انہیں 1947کی یاد دلائی جا رہی ہے۔ جموں کے نچلے حصوںمیں لوگ سہمے ہوئے ہیں راجوری پونچھ اور چناب ویلی میں لوگ سہمے ہوئے ہیںاور یہ لوگ اپنے آپ کو غیرمحفوظ تصور کر رہے ہیںاور ان لوگوں کو تحفظ دینا سرکار کا فرض بنتا ہے۔ عمر عبداللہ نے محبوبہ مفتی سے کہا کہ آپ کو ایسی طاقتوں کو روکنا ہے جو ریاست کے ٹکڑے کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اگر آپ کو مرکز سے 80 ہزار کروڑ روپے ملے ہیں تو وہ کہاں ہیں ،کیوں لوگوں میں تقسیم نہیں کئے جاتے ؟۔ اس سرکار میں صرف ایک ہی کام ہوا ہے وہ الطاف بخاری صاحب کی مہربانی سے ہوا ،صرف سڑکوں پر تارکول بچھائی گئی،باقی کچھ نہیں ہوا۔عمر نے کہا کہ نہ بندوق سے نہ گولی سے بات بنے کی بولی سے یہ نعرہ آپ نے دیا ہے، اگر ہم نے دیا ہوتا تو ہم پر یہ الزام آتا ،لیکن یہ نعرہ آپ نے دیا لیکن جب آپ بولی والوں کو اندر رکھتے ہو تو اس نعرے کا کیا مقصد رہ جاتا ہے۔ آپ کی چلتی نہیں ہے آپ کے ہی جلسے میں مودی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمیں کشمیر کے معاملے میں کسی کی بھی ایڈوائس کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی کسی کے صلاع ومشورہ کی ضرورت ہے اس کے بعد گورنر خطبہ میں لکھتے ہیں کہ مودی پاکستان گئے وہاں یہ کیا وہ کیا۔ آپ وقت ضائع نہ کریں خاموش نہ رہیں ،بلکہ ایک نظریہ لیکر آگے بڑھیں۔ ہم اچھی چیزوں کیلئے سرکار کی حمایت کریں گے۔میں اپوزیشن کا وہ لیڈر نہیں ہوں جو کرسی کیلئے ریاست میںآگ لگادے۔ریاست میں حالات ٹھیک رکھنے،بھائی چارے اور امن کو قاہم رکھنے کیلئے آپ کو جہاں میری ضرورت ہو گئی،میں آپ کے ساتھ ہوں۔اگر آپ ایک قدم آگے بڑھیں گی تو میں دو قدم آپ کے پاس آئوں گا۔