خبریں

قانون ساز اسمبلی میں2014-15کا بجٹ پیش

قانون ساز اسمبلی میں2014-15کا بجٹ پیش

وزیر برائے خزانہ و لداخ امور عبدالرحیم راتھر نے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ٹیکس سے مبرا بجٹ پیش کیا۔ 115 منٹ کی طویل بجٹ تقریر میں راتھر نے کہا کہ محدود مالی اور ریاست کو درپیش کئی مسائل کے باوجود سماج کے متعدد طبقوں بشمول تجارت ، صنعت ، سیاحت ، زراعت اور دیگر متعلقین کو راحت پہنچانے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے۔ بجٹ میں کْل 43543 کروڑ روپے کے اخراجات دکھائے گئے ہیں جن میں 10595 کروڑ روپے کا کیپٹل کمپونینٹ بھی شامل ہے بجٹ میں تخمیناً7496 کروڑ روپے کی ٹیکس آمدن اور سنٹرل ٹیکسز کا شیئر5191 کروڑ روپے تک دکھایا گیا ہے جبکہ سنٹرل نان پلان گرانٹ 2096 کروڑ روپے ہیں۔ ریونیو بجٹ میں 32948 کروڑ روپے کا اضافہ ہونے کی توقع ہے۔راتھر نے کہا کہ اگلے سال کے منصوبے کا حجم 11300 کروڑ روپے بشمول پی ایم آر پی کمپونینٹ 600 کروڑ روپے کا ہو گا۔ راتھر نے کہا کہ حکومت نے ریاست میں ٹیکس اور ویٹ کے نظام کو مستحکم بنایا ہے جس کے نتیجہ میں حکومت کو ریونیو کی آمدن میں اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ،پنشن ادائیگیاں ،سْود کی ادائیگیاں اور توانائی کی خرید پر اخراجات ان کے علاوہ کچھ ریونیواخراجات اور بھی ہیں،جن میں سرکاری دفاتر کے رکھ رکھاو اور عوامی خدمات پر خرچ کی جانے والی رقومات بھی شامل ہیں۔
حکومت نے ایک اور اہم اور جرات مندانہ اقدام اْٹھایا ہے جس کا مدّعا یہ ہے کہ مستقبل میں زمرہIII اور زمرہIV میں ہونے والی تمام خالی اسامیوں کو ایک Stipendiary Mode میں پْر کرنے کا سلسلہ شروع کیا جائے۔اس اقدام سے ایک طرف توہم سرکاری نوکریوں کے مثلاشی تعلیم یافتہ بیروزگاروں کی زیادہ تعداد کی توقعات کو پورا کرسکتے ہیں اور دوسری طرف ہم اس طریقہء عمل سے تنخواہوں پر بڑھتے ہوئے اخراجات پر کسی حد تک قابو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔شروع شروع میں مقدمہ بازی کی وجہ سے اس عمل میں دقتیں پیدا ہوئیں مگر اب یہ طریقہ مکمل طور پر نافذِ عمل ہو چکا ہے۔ آئندہ ایک دو برسوں میںاس جرات مندانہ اقدام کے بہترین نتائج حاصل ہونے شروع ہوجائینگے۔
یہ بات بالکل عیاں ہے کہ بجلی کی خریداری پر کئے جانے والے اخراجات میں اْس وقت تک کسی طرح کی تخفیف ممکن نہیں ہے جب تک بجلی کی مانگ اور اس کی پیداوار کے درمیان تفاوت قائم رہے۔صارفین کے مختلف زمروں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہمیں ریاست کے باہر سے بجلی خریدنا پڑتی ہے۔اس خریداری پر اس وقت فی یونٹ 3.46روپے اوسطاً خرچ کرنے پڑتے ہیں اور بجلی خریدنے کے لئے ہم سالانہ اپنے بجٹ میں اچھی خاصی رقم خرچ کرتے ہیں۔ اس سال کے بجٹ میں اس مَدّکیلئے 3,336کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔
حکومت تمام سرکاری دفاتر کے کام کاج میں کفایت شعاری کے اقدام نافذ کر رہی ہے۔ عوامی خدمات کی احسن فراہمی کو متاثر کئے بغیر ،تمام سرکاری دفاترکے بجٹ کی مختلف مَدّات میں جہاں بچت ممکن ہو،کٹوتی کی جاتی ہے۔اور اس پر سختی کے ساتھ عمل کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ محکموں کی طرف سے خدمات کو Out-Source کرنا اور بجلی کی کھپت بچانے کے لئے تمام سرکاری دفاتر میں CFLاستعمال کرنا جیسے کم خرچیلے طریقے اختیار کئے گئے ہیں۔
پارلیمنٹ کے اگلے عام انتخابات کی وجہ سے ،مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کے سامنے عبوری بجٹ پیش کرنے اور اگلے مالی سال کی کچھ مدت کے لئے Vote on Accountحاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منصوبہ ساز کمیشن مرکزیا کسی بھی ریاست کے لئے منصوبہ ترتیب دینے کی کوئی مشق اِ س وقت درِ دست نہیں لے رہا ہے۔ان وجوہات کے تناظر میں منصوبہ ساز کمیشن کے ساتھ اگلے مالی سال کے لئے ریاستی منصوبے کا مناسب حجم تجویز کرنے کے معاملے میں سرکاری افسروں کی سطح پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔منصوبہ ساز کمیشن کے عہدہ داروں کے ذریعے مقرر کردہ پیمانوں کی بنیاد پر اور اگلے مالی سال کیلئے ریاست کے مالی وسائل کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ منصوبہ ساز کمیشن کے پاس 11,300کروڑ روپے حجم کے منصوبے کی تجویز رکھی جائے۔ منصوبے کے لئے ریونیو جْز کا تخمینہ 3,395کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔منصوبہ کے لئے مالیات فراہم کرنے کی جس سکیم کو ہم نے تجویز کیا ہے اْس میں بعد میں تبدیلی کے امکانات ہیںکیونکہ منصوبہ ساز کمیشن پارلیمانی انتخابات مکمل ہونے اور مرکز کا حتمی بجٹ منظور ہونے کے بعد ،مرکزی بجٹ کو دھیان میں رکھ کر ہی ،ریاست کے سالانہ منصوبے کے حجم اور Scheme of Financingکا تعیّن کر سکے گا۔اگلے سال کے تخمینہ شدہ بجٹ آمدن اور مجوزہ اخراجات کے لئے 43,543 کروڑ روپے منظور کئے جائیں جبکہ رواں مالی سال کے نظر ثانی شدہ تخمینہ جات میں ان اخراجات کا اندازہ 36,289 کروڑروپے لگایا گیا ہے۔جہاں تک آمدن کی مّدات کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں کیپٹل اور ریونیو آمدن کا تخمینہ بالترتیب 4,322کروڑ روپے اور 39,221کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔
آئندہ مالی برس کے دوران ریاست کی کْل ٹیکس آمدن کا تخمینہ 7,495.86کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔سال ِرواں کیلئے 6,700کروڑ روپے کے بجٹ تخمینہ جات کے مقابلے میں اگلے سال کے بجٹ تخمینہ جات کی یہ رقم 796کروڑ روپے زیادہ حاصل کرنے کا نشانہ ظاہر کرتی ہے۔ ریاست کی ٹیکس آمدن کی خاص مّدات میں ویٹ اور عام بِکری ٹیکس کے علاوہ جموں وکشمیر عام بِکری ٹیکس ایکٹ کے تحت عائد کردہ سروس ٹیکس ،مسافر ٹیکس ،اسٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس ،ٹول اور ایکسائز ڈیوٹی وغیرہ شامل ہیں۔ VAT کی وصولیابی میں ہماری کارکردگی انتہائی متاثر کن رہی ہے۔ سال 2008-09 میں VATکے تحت ہماری کْل آمدن صرف 1,836کروڑ روپے تھی۔اس کے مقابلے میں ،یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران یہ آمدن 5,344کروڑ روپے ہو جائے گی۔ یا یوں کہئے اس ٹیکس کی حصولیابی میں تقریباً تین گنا اضافہ ہو جائے گا۔آیندہ مالی سال کے دوران Toll اور مسافروں پر ٹیکس کی مدکے تحت 635کروڑ روپے کی آمدن کا تخمینہ ہے۔باالفاظِ دیگر اس مدمیں رواں سال کے بجٹ تخمینہ جات 516کروڑ روپے کے مقابلے میں اگلے سال تقریباً 120کروڑ روپے کا اضافہ ہو گا۔اس مد میں رواں مالی سال کے لئے نظر ثانی شدہ تخمینہ جات 559کروڑ روپے لگائے گئے ہیں۔اگلے مالی برس کے دوران ایکسائز ڈیوٹی کی آمدن کا تخمینہ سالِ رواں کیلئے 423کروڑ روپے کے بجٹ تخمینہ جات کے مقابلے میں 462کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔
آئندہ سال کے لئے کْل غیر ٹیکس آمدن کا تخمینہ 3,560.57کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔آمدن کی سب سے نمایاں مد بجلی صارفین سے وصول ہونے والی فیس ہے۔رواں مالی برس میں نظر ثانی شدہ بجلی فیس کی وصولیابی کے لئے 2,840.60کروڑ روپے کا نشانہ مقرر ہوا ہے۔ اس ضمن میں اگلے سال کے لئے 2,979.60کروڑ روپے کا نشانہ مقرر کرنے کی تجویز ہے۔
گذشتہ سال پنچایتوں کے سرپنچوں اور پنچوں کو اعزازیہ کی ادائیگی کی تجویز پیش کی گئی تھی۔اخراجات کی اس نئی مد کے لئے رواں سال کے نظر ثانی شدہ تخمینہ جات میں 46کروڑ روپے کی رقم شامل کی ہے۔
پنچائتوںکے ممبران کیلئے انشورنس سکیم مرتب کی گئی ہے اور اس کے لئے ٹینڈر طلب کئے گئے ہیں۔رواںسال کے نظرشدہ تخمینہ جات میں سرکاری حصص کیلئے میں نے 63.44لاکھ روپے مختص کئے ہیں۔
تجارتی بنکوں سے کسان کریڈٹ کارڈوں کے ذریعہ حاصل کردہ قرضہ جات پر ،سٹامپ ڈیوٹی پر مکمل چھوٹ کی حد 25,000روپے سے 1,50,000 روپے تک بڑھائی تھی۔گذشتہ چند برسوں کے دوران زرعی شعبہ میں قرضہ جات کی فراہمی نہایت حوصلہ افزا رہی ہے۔زرعی پیداوار کو مزید تقویت دینے کی غرض سے میں اس شعبہ کو KCCکے ذریعہ قرضوں کی مزید فراہمی کے لئے موجودہ 1,50,000روپے کی چھوٹ کو 3,00,000روپے تک بڑھانے کی تجویز رکھتا ہوں۔ میں اس رعایت میں بڑھائی گئی حد کو Artisan Credit Cardپر بھی لاگو کرنے کی تجویز رکھتا ہوں۔
بائیو فرٹیلائزرس ور کیمیاوی کھادوں کو VATاور TOLL سے مکمل طور پر مستثنیٰ کیا گیا ہے۔Bone meal میں فاسفیٹس اور پوٹاش جیسے اجزاء شامل ہونے کی بناء پر اسے بطور کھاد استعمال میں لانے کا رجحان روز بروز بڑھ رہا ہے کیونکہ یہ درآمد کردہ مہنگے فاسفورس اور پوٹاش کا سستا متبادل ہے۔لہٰذا میں بیرون ریاست سے bone meal کی درآمد کوTOLL سے مستثنیٰ رکھنے کی تجویز رکھتا ہوں۔
حکومت نے ریاست سے باسمتی چاول کی برآمدات کو ٹول سے مستثنیٰ رکھا ہے۔چونکہ تجارتی طور طریقوں میں تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں لہٰذا دو ٹکڑا باسمتی چاول اب 146146ٹوٹی باسمتی145145کے نام سے بھیجا جا رہا ہے۔اس لئے میں اگلے مالی سال سے 146146ٹوٹی باسمتی145145 کو بھی ٹول سے چھوٹ دینے کی تجویز رکھتا ہوں۔
گندم اور چاول کا بھوسہ (bran)مویشیوں کے لئے چارے کے طور پر استعمال میں لایا جاتا ہے۔ لہٰذا میں نے اس بھوسے کو پہلے ہی درآمدی ٹول سے مستثنیٰ کیا ہے۔میری نوٹس میں یہ بات لائی گئی ہے کہ دالوں اور branکے چھلکے جو مویشیوں کے چارے کیلئے ریاست سے باہر سے لائے جاتے ہیں اْن پر ٹول دینا پڑتا ہے۔ ان سبھی By PRODUCTSکا حتمی استعمال آپس میں ملتا جلتا ہے۔لہٰذا میں ان اشیاء کو بھی درآمداتی ٹول سے مستثنیٰ کرنے کی تجویز کرتا ہوں۔
شہد کی بِکری کو پہلے ہی VATسے مستثنیٰ کر دیا ہے۔ شہد کے چھتے کے مو م کو بھی VATسے چھوٹ دینے کی تجویز کرتا ہوں۔
سوکھی کھلیDeoiled cakeتیل ملوں کی ایک ضمنی پیداوار ہے۔ میں نے اِس کو پہلے ہی VATسے مستثنیٰ کیا ہے۔ کسان برادری کے نمائندوں نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ Oil cakeجو تیل کے کولھو کی گھریلو صنعت کی ایک ضمنی پیداوار ہے، اس پر 13.5فیصد شرح سے ویٹ عائد ہوتا ہے۔ میں تجویز پیش کرتا ہوں کہ Oil cakeکو بھی VAT سے مستثنیٰ رکھا جائے۔
مشینری کے کئی بہت سے itemsکو پہلے ہی VATاور TOLLسے مستثنیٰ رکھنے کی رعایت دی ہے۔ اب ہینڈ پمپ کو VATاور TOLLسے چھوٹ دینے کی تجویز رکھتا ہوں۔
کسانوں کی طرف سے اس بات کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے کہ میوہ اور دیگر Cash Crops کو انشورنس کے دائرے میں لایا جائے۔ حکومت Weather Based Crop Insurance Scheme شروع کرنے کا اِرادہ رکھتی ہے جس کے لئے کسانوں ،مالیاتی بنکوں اور حکومت کی شراکت سے پریمئم کا تعین کر کے ایک Pilotسکیم تیار کی جائے گی۔ جس میں سیب،ناشپاتی ، گلاس ،آم،زعفران اور باسمتی جیسی Cash Cropsکو دیہی پنچائت کی سطح پر Crop Loan اور Kisan Credit Card سکیموں کے ساتھ ملا کر انشورنس کے دائرے میں لایا جا ئے گا۔
صنعتی ترغیبات کی رو سے صنعتی اکائیاں خام مال کی مقامی خریداری پر ویٹ Remission کی مستحق ہیں۔یہ اکائیاں جب SICOPسے خام مال کی خریداری کرتی ہیں تو انہیں VATادا کرنا پڑتا ہے،جو بعد میں اْن کو زرِ نقد کی صورت میں واپس ادا کیا جاتا ہے۔اس عمل میں طوالت ہے اور بالعموم اس قسم کے معاملات التواء میں پڑے رہتے ہیں۔اس بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لئے میں آئندہ مالی سال سے ایسی خریداریوں پر VATادائیگیوں کا ایک cashlessنظام شروع کرنے کی تجویز رکھتا ہوںجس سے زرِ نقد کی صورت میں refund کی ضرورت باقی نہ رہے۔دریں اثنا میں VAT refundکے تمام سابقہ بقایا جات مرحلہ وار طریقے سے چکانے کی تجویز رکھتا ہوں۔
صنعتی شعبے میں بیمار یونٹوں کا revivalضروری ہے تاکہ صنعتی شعبے کی صحت کے ماحول میں بہتری آئے۔سرکار نے دو ٹاسک فورس،ایک کشمیر ڈویژن اور دوسرا جموں ڈویژن کے لئے تشکیل دیئے تھے۔ ان ٹاسک فورسز نے زمینی سروے کا بنیادی کام اس غرض سے کافی حد تک مکمل کیا ہے کہ یہ پتہ لگایا جائے کہ صنعتی یونٹوں میں بیماری کی نوعیت اور حد کیا ہے۔ اس سروے کا مقصد یہ بھی تھا کہ ایسے بیمار یونٹوں کی نشاندہی کی جائے جن کے مالک کارخانہ دار اْن کے revivalکے چیلنج کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں۔بیمار یونٹوں کے revivalکے لئے ایک CORPUS قائم کیا گیا تھا،جس میں بچی ہوئی کچھ رقمSIDCOکے پاس موجود ہے۔ میں تجویز پیش کرتا ہوں کہ آئندہ سال کے دوران اس CORPUSمیں ضرورت کے مطابق رقم بڑھا دی جائے۔دریں اثنا ،اِن TASK FORCESکو کہا گیا ہے کہ وہ جلد از جلد اس سلسلے میں اپنے action plansمرتب کر کے حکومت کی منظوری کے لئے پیش کریں۔
حکومت کی متواتر پیروی کے نتیجے میں مرکزی حکومت نے بالآخریہ تسلیم کیا ہے کہ مرکزی ایکسائز ڈیوٹیز میں رعایت ریاست کے اندر واقع صنعتی یونٹوں کو دوسری بار کی جانے والی بڑی توسیع یعنی Substantial expansion پر بھی حاصل ہو گی۔
ہاتھ سے بْنے ہوئے مقامی شال ویٹ سے مستثنیٰ ہیں۔بیرونِ ریاست مشین سے بْنے ہوئے ایمبرائیڈری والے شال ہماری بہنوں میںدن بہ دن مقبول ہوتے جا رہے ہیں۔ اِن شالوں پر 13.5فیصد VATعائد ہوتا ہے۔یہ ریٹ قانونی بحث و مباحثہ کا ایک مسئلہ بھی بن چکا ہے۔ اس بحث و مباحثہ کو ختم کر نے کے لئے نیز اپنی بہنوں کو Peace devidendکی شکل میں ایک تحفے کے طور پر ، میں اس قسم کی شالوں پر شرح VATکم کر کے اسے 5فیصد کرنے کی تجویز رکھتا ہوں۔
قواعد میں توضیح کی گئی ہے کہ جن ڈیلروں کی بکِری ایک مخصوص حد سے تجاوز کرتی ہو،اس کے حسابات کا آڈٹ، گوشوارے داخل کرنے سے قبل کسی سند یافتہ آڈیٹر سے کرانا ضروری ہے۔ اس وقت ایسی حد 60لاکھ روپے ہے۔ ڈیلروں کی بکِری میں مجموعی طور اضافہ کو مد ِ نظر رکھتے ہوئے میں تجویز پیش کرتا ہوں کہ موجودہ مالی سال سے مذکورہ حد 100لاکھ کر دی جائے۔ اس کا اطلاق اِن سالانہ گوشواروں پر ہو گا جو یکم اپریل 2014کے بعد دائر کئے جائیں گے۔
چھوٹے موٹے ڈیلر جن کی سالانہ بکِری 7.5لاکھ روپے یا اْس سے کم ہے،VATجمع کرنے اور کوئی بھی VATگوشوارہ داخل کرنے سے مبّرا ہیں۔ تجارتی اشیاء میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر ،میں یہ حد 10لاکھ روپے تک بڑھانے کی تجویز رکھتا ہوں۔اسی طرح کی ملحوظات کے پیش نظر بکِری رقم پر Turn Overٹیکس کی حد بھی سالانہ 25لاکھ روپے تک بڑھانے کی تجویز پیش کرتا ہوں۔
ضروری اشیاء جیسے آٹا، میدہ، سوجی، بیسن، دالیں، دھان اور چاول کو سال بہ سال ویٹ سے مبّرا اشیاء کی فہرست میں شامل۔
امسال کسی شے یا خدمت پر موجودہ ٹیکس شرحوں میں کسی بھی تبدیلی کی تجویز نہیں ،نہ ہی آئندہ مالی سال کے لئے کسی نئی سروس کو ٹیکس کے دائرے میں لانے کا اِرادہ رکھتا ہوں۔
مارچ 2011میں 146146 بیٹی انمول145145کے نام سے ایک سکیم متعارف کرائی گئی جس میں 5000کی مالی اعانت کی توضیح کی گئی ہے جو حکومت کی طرف سے مہیا کی جاتی ہے۔یہ رقم خطہِ افلاس سے نیچے گذر بسر کرنے والے کْنبوں کی طالبات کو گیارہویں جماعت میں داخلہ لینے پر ان کے نام پر جمع کر دی جاتی ہے۔اس سکیم کا اطلاق اس وقت صرف 97بلاکوں پر ہوتا ہے۔اب آئندہ مالی سال سے مالی امداد کی یہ رقم 5000روپے سے بڑھا کر10,000روپے کردینے کی تجویز رکھتا ہوں۔ اس کے علاوہ میں خطہِ افلاس سے نیچے گذر بسر کرنے والے کْنبوں کی ایسی طالبات کے لئے ریاست کے تمام بلاکوں کو اس سکیم کے دائرے میں لانے کی تجویز رکھتا ہوں۔
ان پبلک سیکٹر انٹر پرائزز میں نئی روح پھونکنے کی غرض سے ،ایک بار اِن قرضوں سے نجات دلانا چاہتا ہوں۔ اور اس مقصد کے لئے ان Liabilitiesکو معاف کرنے کی تجویز رکھتا ہوں۔اِسی طرح تجویز پیش کی جاتی ہے کہ مناسب جانچ پڑتال کے بعد منصوبہ جاتی قرضوں کو Equity Capital میں تبدیل کیا جائے۔ جب ایک بار یہ پبلک سیکٹر انٹر پرائزز اْن تمام Liabiltiesسے چھٹکارا حاصل کر لیں گی تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ بہتری کی طرف اپنا پورا دھیان مرکوز کرنے کی اہل ہو جائیں گی۔
تقریباً57,000 نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کیا گیا ہے جو موجودہ حکومت کی کارکردگی کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔13,000مزید نوجوانوں کو آئندہ تقریباً دو مہینوں کے اندر بھرتی کرنے کی توقع ہے۔اس کے علاوہ بہت سی اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں جو بھرتی ایجنسیوں کو پہلے ہی ریفر کی جا چکی ہیں۔اس طرح آئندہ مالی سال کے ختم ہونے تک سرکاری ملازمتوں میں ایک لاکھ نوجوانوں کو بھرتی کرنے کا ہدف نہ صرف پورا ہونے بلکہ بڑھ جانے کی اْمید ہے۔