خبریں

قتل عام پر خاموش نہیں رہ سکتے

قتل عام پر خاموش نہیں رہ سکتے

حریت (ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کولگام میں ایک عام شہری کی ہلاکت کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ حریت کانفرنس کی جملہ قیادت اور کارکنان اقوام متحدہ کے مبصرین کے دفتر UNMOGIP کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل وقوع پذیر ہو رہے قتل عام کے حوالے سے خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی اور اس احتجاجی مظاہرہ کے ذریعے عالمی برادری سے اپیل کی جائیگی کہ وہ کشمیر میں بدتر انسانی حقوق کی صورتحال کو روکنے کیلئے مداخلت کریں۔ اس سے قبل میرواعظ نے اپنے خطاب مژھل فرضی جھڑپ میں ملوث فوجی اہلکاروں کو عمر قید کی سزا سنانے کے فیصلے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں ایسے کئی خونین واقعات  ہوئے ہیں جن میں معصوم لوگوں کو جنگجو جتلا کر فرضی جھڑپوں میں موت کے گھاٹ اتارا گیا اور ایسے تمام واقعات کی تحقیقات ہونی ہنوز باقی ہے۔ انہوں نے  کہا کہ جب بھی دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر بات چیت کا معاملہ آگے بڑھا کشمیر میں کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ دہرایا گیا جس میں پاکستان کو ملوث کرنے کی کوشش کرکے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا گیا۔ میرواعظ نے یاد دالتے ہوئے کہا کہ 30 اپریل2010 کو سارک سمٹ کے موقعہ پر ہندوستان اور پاکستان کے وزراء اعظم نے تھمپو میں ملاقات کے دوران بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا اسی وقت بھارتی ذرائع ابلاغ نے بڑھ چڑھ کر مژھل فرضی جھڑپ میں پاکستان کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا، اصل میںیہ عناصر سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں جو بھارت اور پاکستان کے  درمیان چلے آر ہے مسئلہ کشمیر پر کسی بھی طرح مذاکراتی عمل کو ہر قیمت پر پٹری سے اتارنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ میرواعظ نے کہا کہ مژھل فرضی جھڑپ پر فوجی عدالت کا فیصلہ کوانتخابات کے ساتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ایک انتخابی ڈرامے سے زیادہ اہمیت کا حامل اس لئے نہیں ہے کیونکہ گزشتہ کئی برسوں سے کشمیر کی ہندنواز جماعتیں اور خود ریاستی وزیراعلیٰ کشمیر سے افسپا اور دیگر کالے قوانین کے خاتمے کا اعلان کرتے آرہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اسمبلی میں بیٹھ کرعوام کے نمائندگی کا دعوی توکرتے ہیں مگر اصل میں عملاً یہ لوگ بے اختیار ہیںکیونکہ یہ لوگ دلی کے اشاروں پر کام کرتے ہیں اور ان لوگوں کو اپنے ذاتی سیاسی مفادات اور اقتدار کے سوا کوئی چیز عزیز نہیں ، اگر یہ لوگ اپنے ضمیر کی آواز سنتے تو کشمیریوں پر ہو رہے مظالم کیخلاف ایک ادنیٰ سی قرارداد پاس کرلیتے۔ میرواعظ نے کہا کہ کشمیر میں خونین واقعات کے حوالے سے آج تک کئی تحقیقاتی کمیشن  قائم ہوئے لیکن نتیجے کے اعتبار سے وہ غیر موثر ثابت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ریاستی حکومت اور آنے والی حکومتیں بھی اس بارے میں کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیںکیونکہ ان لوگوں کے بے اختیار ہونے کی حد یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ضمیر کو بھی دلی والوں کے پاس گروی رکھا ہے۔حریت چیرمین نے کشمیر میں ہوئے اجتماعی خونین واقعات جن میں 1990 میںگائو کدل،21 مئی 1990سانحہ حول،1991ء میں کنن پوشپورہ،1993ء  میں لالچوک سانحہ،1996 میں جلیل اندرابی کا قتل1997ء میں سنگرام پورہ سانحہ،1998ء میں وندہامہ،2001ء میں کشتواڑ ،2008, 2009, 2010 ء اور ایسے دیگر واقعات شامل ہیں کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک کشمیر سے افسپا سمیت ایسے تمام انسان کش کالے قوانین کا خاتمہ نہیں ہوتا جن کی وجہ سے یہاں تعینات بھارتی فورسز کو کشمیریوں کے قتل عام کی کھلی چھوٹ حاصل ہے تب تک کشمیریوں کا قتل عام بند نہیں ہوگا۔ انہوںنے عوام سے اپیل کی ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے 2800اور 3500کی جو امدادی چک تقسیم کی جارہی ہیں وہ قبول نہ کی جائے۔ میرواعظ نے کہا کہ’’ سیلاب کی وجہ سے کشمیری قوم نے ناقابل تلافی نقصانات برداشت کئے ہیں اور اس صدمے سے کشمیری قوم ابھی باہر ہی نہ آئی تھی کہ حکومت ہند نے انتہائی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہاں کے عوام پر الیکشن تھونپ دئے ہیں‘‘۔ میر واعظ نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت اور انتظامیہ اس کڑے وقت میں عوام کے شانہ بہ شانہ رہتی اور راحت رسانی کے کام پر بھر پور توجہ دیتی تاہم انتخابات کے اعلان کے بعد تمام انتظامیہ اس عمل میں مصروف ہوگئی ہے اور بے بس عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔