اداریہ

قدرتی آفات سے نمٹنے کےلئے جموں کشمیر کتنی تیار

جموں وکشمیر میں آئے زلزلے نے ایک بار پھر لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا کیا ہے کہ جموں کشمیر جو سالہاسال سے قدرتی آفات سے جھوج رہی ہے۔ زلزلے جیسی قدرتی آفت سے جھوجھنے کے لئے تیار ہے۔ جموں کشمیر ایک انتہائی خطرناک سسمک زون میں آتی ہے اور ماہرین ہمیشہ اس بات کی دہائی دیتے آئے ہیں کہ یہاں مستقبل میں ایک بڑے زلزلے کا امکان ہے لہٰذا مستقبل میں اس طرح کے زلزلے یا دوسری طرح کی کسی قدتی آفت سے نپٹنے کےلئےسرکاری اور سماجی سطح پر تیاریاں بے حد ضروری ہیں۔ اس لحاظ سے ماہرین نے ہمیشہ بنیادی ڈھانچے کی بہتری خاص طور سے ہمارے تعمیراتی نظام کو مکمل بدلنے یا اس میں سائنسی طریقوں پر ترویج کی وکالت کی ہے۔ جس طرح سے گذشتہ پچاس برسوں میں جموں کشمیر میں غیر منصوبہ بند تعمیرات ہوئیں ہیں، چاہئے وہ ذاتی رہائشی مکانات ہوں، تعلیمی ادارے یا دیگر تجارتی عمارات ہوں، سائنسی ضوابط اور ماہرین کی رائے کو بالائے طاق رکھا گیا ہے۔
۲۰۰۵میں جموں کشمیر میں آئے ایک بھیانک زلزلے نے یہاں بنیادی ڈھانچے کی فراہمی اور قدرتی آفات سے نپٹنے کی تیاریوں کی قلعی کھول دی تھی، البتہ زلزلہ بھی ہماری منصوبہ بندی کے لئے کچھ کارگر ثابت نہیں ہوا۔ جموں کشمیر جہاں حالیہ برفباری نے تباہی مچائی اور متعدد رہائشی ڈھانچے منہدم ہوئے، کس طرح سے ایک شدت بھرے زلزلے سے نپٹ سکتی ہے۔
سرکار ایک منظم تعمیراتی پالیسی، جو ان قدرتی آفات کو مد نظر رکھ کر تیار کی جاتی کو منظر عام پر لانے سے قاصر رہی ہے۔ آبادی میں بے تحاشہ اضافہ اور غیرمنصوبہ بند تعمیرات ہمارے لئے ایک ایسا خطرہ ہے، جس کی تلافی شاید ہی ممکن ہے، اگر سات یا سات سے زائد شدت کا زلزلہ آئے۔ جاپان جہاں روز افزوں چھ شدت کے زلزلے آتے ہیں، مگر کسی بڑے نقصان کی خبر نہیں آتی ایک ایسا تعمیراتی نظام رائج کر پایا ہے جس سے کافی حد تک جموں کشمیر استفادہ کر سکتا ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے جموں کشمیر ایک حساس علاقہ ہے تاہم مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے منصوبہ بندی بے حد اہم ہے۔ ایسے میں سرکار کی اولین ترجیح ایک ایسے ترقیاتی منصوبے کی عمل آوری ہونی چاہئے جس میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، خاص کر قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں، رضاکاروں کی تربیت، عوام میں جانکاری پیدا کرنے، اور قدرتی آفتاب کا مقابلہ کرنے کےلئے ایک جامع منصوبہ بندی ہونی چاہئے۔ اگر چہ قدرتی آفتاب کو ٹالا نہیں جا سکتا مگر منتظم منصوبہ بندی سے نقصانات کو کافی کم کیا جا سکتا ہے۔ سماجی اور سرکاری سطح پر ماحولیاتی توازن کو بنائے رکھنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ماحولیاتی توازن بگڑنے سے اکثر قدرتی آفات رونما ہوتی رہی ہیں۔ مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لئے ایک منصوبہ بند پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔