اِسلا میات

قرآن کی حفاظت اور اہل بیت کا انتخاب

قرآن کی حفاظت اور اہل بیت کا انتخاب

عبد المعید ازہری
اللہ رب العزت نے انسان کی فلاح بہبود کیلئے طرح طرح کے نظام بنائے ۔چونکہ انسان کی تخلیق ہی اس واسطے ہوئی کہ وہ اللہ کی عبادت کریں ۔اللہ نے اپنی قربت کیلئے امتحان اور آزامائش کا پیمانہ بنایا کہ جو رب کی قربت چاہتاہے اسے ان راستوں سے گذرنا ہوگا ۔یہ نظام قدرت از اول رہا کہ نور کے سامنے ظلمت اور حق کے سامنے باطل ایمان کے سامنے کفر کی مانند رہا تاکہ روشنی کی اہمیت اندھیرا دیکھ کر محسوس ہوتی رہے۔
اندھیرے اجالے کا یہ سفر روز اول سے ہی چلا آرہا ہے ۔ اہل ایمان پر اس کی تفریق ہمیشہ سے واضح رہی ہے۔اللہ رب العزت نے حق و باطل کے درمیان فرق کو ظاہر کرنے کیلئے ہمیشہ کچھ نہ کچھ انتظام کیا ہے ۔ اس کیلئے مخصوص نشانی اور علامت کو منتخب کیا۔ اسی سلسلے کی بقا کی خاطر کئی وقفوں میں انبیاو و رسل کی تشریف آوری کا اور ان کے ساتھ قانون کی کتابوں کی آمد کا تسلسل برقرار رہا۔ایک نبی کے بعد دوسرا نبی، ایک کتاب کے دوسری کتاب اور یکے بعد دیگرے ضرورت کے مطابق رب کی جانب سے ہدایات وپیغامات نازل ہوتے رہے تاکہ بندہ خدا کسی بھی طرح سے اپنے خالق و مالک اور حقیقی پالنہار سے دوری اور محرومی کو اختیار نہ کر سکے ۔ نبیوں رسولوں کتابوں اور صحیفوں کا یہ سلسلہ ہمارے آخری نبی محمد صلعم پر منتہی ہو گیا ۔ اب نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ ہی کوئی کتاب۔ ہمارے رسول آخری اور ہمارا قرآن آخری ہے ۔
نبوت کا سلسلہ منتہی ہو گیا اس کا مطلب یہ ہرگذ نہیںکہ رشد وہدایت کا سلسلہ ختم ہو گیا کیوں کہ وہ بڑا عادل بادشاہ ہے ۔ احکم الحاکمین ہے ۔ اس آخری بنی کے رشد ہدایت کی میعاد و تاثیر کو قیامت تک کیلئے دراز کر دیا۔ وہ نور ہدایت 63 برسوں تک بشری لباس اور اس کے تقاضوں میں رہا ۔ اس کے بعد اس کے فیض سے اس نور کی تجلی خلافت کی شکل میں رشد و ہدایت کا فریضہ انجام دیتی رہیں۔نبی نے اپنی بشری زندگی میں اس کے واضح اشارے کر دئے تھے ۔
تبلیغ دین کے تئیں خلافت کے نظام کو قائم کیا گیا۔ لیکن نبی نے اپنی طرف سے کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کیا۔نہ ہی کوئی حکم خدا وندی آیا ۔ یکے بعد دیگرے صواب دید اور آراء اصحاب کے ذریعہ ذمہ داروں کا انتخاب ہوتا رہا ۔لوگ تائید کرتے رہے ۔ دین اسلام عام ہوتا رہا ۔یہاں تک کہ کونے کونے میں پہنچ گیا ۔
ایک وقت ایسا آیا جب دعوت و تبلیغ کی بجائے اس کی حفاظت کرنے کی نوبت آ گئی ۔ جب قرآن کے احکام اور اسلام کے اصول محفوظ ہی نہ ہوں گے تو کیسی دعوت اور کیسی تبلیغ ہوگی ۔
ایک بار جب روئے زمین اللہ کو معبود کہنے سے خالی ہونے لگی تھی ۔راہ حق و صداقت کے سارے راستے مخفی ہونے لگے تھے ۔ تو اس ظلمت کے خاتمے کیلئے نور محمدی کو مبعوث کیا تھا۔ تاکہ وہ لوگوں کو اس ظلمت کدہ سے نکال کر پھر سے ہدایت کے راہ پر لا کھڑا کریں۔
آ ج پھر ضرورت پڑی کہ قرآنی اصول کو خطرہ لاحق ہو گیا ۔ قانوں الٰہی کے سامنے علم بغاوت بلند ہو گیا۔اہل ایمان کا دین اسلام پر قائم رہنا مشکل نظر آنے لگا ۔یعنی خود دین ہی مشکل اور خطرہ میں پڑ گیا۔ تو اسی نور حبیب کو نور نظر کا انتخاب کیا گیا ۔
یہ انتخاب کوئی اچانک نہیںتھاکہ وقت کی ضرورت ہے ۔ یہ تو طے تھا ۔اس انتخاب میں رب قدیر کے کئی جلوے انکشاف کے منتظر تھے ۔ذبح خلیل کے ادھورے خواب کو شرمندہ تعبیر ہونا تھا ۔ اللہ تعالی نے حضرات ذبیح خلیل کو بلند سے بلند مقامات عطا کئے۔رب کے ایک امتحان کو پورا کرنے کی کسک کہیں نہ کہیں تھی جو پائے تکمیل تک پہنچنی تھی ۔ اللہ نے اپنے حبیب کی ہر خواہش کواپنی رضا کا درجہ دیا ۔یہاں تک کہ اپنی معرفت کو اپنے حبیب کی معرفت پر موقوف کر دیا ۔ اس حبیب نے تمنا کی تھی کہ میں میدان کارزار میں شہید کیا جاؤ پھر زندہ کیا جاؤ ں اور پھر شہید کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر شہید کیا جاؤں۔یہ انتخاب اسی آرزو کی تکمیل ہے۔
اللہ تعالی نے دین کی تبلیغ کیلئے کسی کا انتخاب نہیںکیا لیکن جب اس کی حفاظت کی بات آئی تو اپنے حبیب کی زبانی اعلان کرا دیا۔اے لوگوں ایسا بھی دور آئے گا جب حق و باطل کے درمیان فرق مٹ جائے ۔ کوئی حد امتیاز باقی نظر نہ آئے تو اہل بیت کو دیکھ لینا وہ کس طرف ہیں۔ وہ جدھر ہوں ادھر ہو جا نا کیوںکہ وہی صحیح راستہ ہوگا ۔کیونکہ اہل بیت وہ ہیں جن کواللہ نے خوب خوب پاک کر رکھا ہے ۔ اب ان میں وہ کیفیت پید ہو گئی ہے کہ وہ خود دوسروں کو پاک کر سکتی ہیں۔
ان اہل بیت اطہار اور نفوس قدسیہ میں سے ایک وہ ہے جس کی رضا میں رب کی خوشی ہے ’’خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم ،خدا چاہتا ہے رضائے محمد‘‘، اور قرآن بھی اعلان کرتا ہے ’’ اور فرما دیجئے اے محبوب کہ اگر تم اللہ کو محبوب رکھنا چاہتے ہو تو میری (نبی کی)اتباع کرو اللہ تمہیں محبوب رکھے گا (القرآن)۔اس کی جملہ ملکیت میںنبی کو تصرف حاصل ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’رسول جو تمہیں دیں اسے لے لو اور جس چیز سے منع کریںاس سے بعض آجاؤ (القرآن)۔ دوسرے وہ ہیں جن کے بارے میں نبی نے غدیر کے موقعہ پر فرمایا کہ جن کا میں مولیٰ ان کا علی مولیٰ۔ان کی عبادت اور اس میں احسان(دین کا ایک اہم رکن)کی عملی تفسیر اس سے بہتر کہا ں ملے گی کہ جب مولائے کائنات کو ایک جنگ میں تیر لگا ، وہ اتنا کاری تھا کہ محض چھونے سے مولیٰ علی ؓ کراہ اٹھتے تھے ۔ حکیم کو مشورہ دیا گیا کہ اب ایک ہی صورت ہے کہ جب یہ نماز میں ہوں تو تیر باہر نکالنا۔ تاریخ نے اس حیرت انگیز کارنامے کو اپنے سینہ میں خاص جگہ دی جب دوران نماز وہ مہلک اور کاری تیر جب نکالا گیا تو مولیٰ علی کو خبر تک نہ ہوئی۔تیسری وہ خاتون ہیں جو یہ شکایت کرتی ہیں اے مولیٰ تونے رات کو اتنی چھوٹی کیوں میری گفتگوادھوری رہ جاتی۔ عبادت مکمل نہیں ہوتی کہ صبح نمودار ہو جاتی ہے۔ایک وہ شہزادے ہیں جن کو خود مصطفیٰ کی شبیہ اور ان کا جمال دیا گیا۔امت کو انتشار سے بچانے کے لئے تخت خلافت کو ٹھوکر ماردی ۔ دوسرے شہزادے کیلئے اللہ کی خاطر کئے گئے سجدے کو طوالت دی گئی وہ بھی کوئی اور انہیں خود پیغمبر اعظم نے ایسا کیا۔
یہ وہ خاندان اہل بیت ہے جس کے بارے میں نبی نے فرمایا اے رب یہ میرے اہل و عیال ہیں میرے خاندان ہیں۔ میں ان سے محبت کرتا ہوں۔ تو بھی ان سے محبت رکھ۔اور ان سے بھی محبت فرما جو ان سے محبت کریں۔ اور ان پر غضب ہو گا جو ان سے منہ پھیرے گا۔ ان سے بغض و عناد رکھے گا ۔اے لوگوں جب تم پر ایمان و کفرمیں کا فرق مٹ جائے ، ظلمت و تاریکی میں تفریق نہ کر سکو ۔ایسے میں تمہاری رشد ہدایت کیلئے تم میں دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں ایک قرآن دوسرے اہل بیت ۔ کچھ روایات میں اہل بیت کی جگہ سنت کا لفظ آیا ہے۔
یعنی جہاں قرآن ہوگا وہاں اہل بیت ہونگے اور جہاں اہل بیت ہونگے وہاں قرآن ہوگا ۔جس طرح میری سنت نے قرآن سمجھنے میں تمہاری رہنمائی کی ہے اسی طرح یہ اہل بیت تمہاری رہنمائی کریں گے ۔قرآن و سنت کا عملی نمونہ اور تفسیر اہل بیت اطہار ہیں۔
abdulmoid07@gmail.com