اداریہ

قربانی جیسا نیک کا م با عث گنا ہ نہ بن جا ئے !
اجتماعی سماجی طرز عمل میں تبدیلی وقت کی ضرورت

عالم انسانیت کو اس وقت جن بڑ ے چیلنجوں اور مسائل کا سامنا ہے ان میں ما حولیا تی آلودگی بھی ایک بہت ہی بڑا اور سنگین مسئلہ ہے ۔سائنسدانوں نے پچھلے برس خبر دار کیا تھا کہ اگر دنیا نے ما حولیاتی آلودگی جیسے اہم مسئلہ پر فو ری تو جہ نہیں دی تو سال2050ء تک عالمی حدت میں دو ڈگری کا اضافہ ہوگا جو کہ کرہ ٔ ارض پر آبا د کئی حشرات کے لئے سنگین نو عیت کے نتا ئج کا حا مل ہو گا ۔ما حولیا تی آلو دگی کی وجہ سے ہی دنیا میں طرح طرح کی انتہا ئی مو ذی بیما ریاں پیدا ہو ئی ہیں اور اکثر و بیشتر لو گ صحت مند ہو تے ہو ئے بھی بیما ر لگتے ہیں ۔ایسے میں ما حولیا ت کے بچا ئو کی فکر کسی ایک ملک کی نہیں بلکہ پو رے عالم کی ہے اور سچ با ت تو یہ ہے کہ کرہ ٔ ارضی پر آبا د ایک ایک فرد کواس حوالے سے اپنا کر دار ادا کر نا ہو گا ۔پا نی کی آلودگی کا حال یہ ہے کہ دنیا میں ہر طرف پا نی ہی پا نی ہو نے کے با وجود زمین پر پینے کے صاف پا نی کی کمی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔ جموں و کشمیر خاص کر وادی کو قدرت نے جن قدرتی وسائل سے ما لا ما ل کیا ہے ان میں پا نی ایک بہت ہی بڑا اور قابل قدر وسیلہ ہے ۔یہ با ت ہما رے لئے باعث افتخار ہو نی چاہئے کہ کشمیر کے گلیشئر دنیا کی ایک تہا ئی آبادی کو پینے کا صاف پا نی فراہم کر رہے ہیں مگر ساتھ ہی ہمیں اس با ت کی فکر بھی لاحق ہو نی چاہئے کہ ان وسائل کا حجم دن بہ دن گٹھتا ہی جا رہا ہے اور آبی ذخائر کے گرد و نواح میں ہی نہیں بلکہ ان کے اندر بھی آلودگی بڑ ھ رہی ہے ۔ہما رے ندی نالے، ہما رے دریا اور جھیلیں اس با ت کا ایک جیتا جا گتا ثبوت ہیں ۔ہم اگلے چند روز کے اندر ہی ایک انتہا ئی مقدس دن پرمالک کائنات کی خوشنودی حاصل کر نے کے لئے جانوروں کی قربا نی پیش کر نے جا رہے ہیں ۔یہ ہما رے عقائد کی تاریخ کا ایک ایسا مقدس دن ہے جب ہم اپنے ما لک سے اس با ت کا عہد کر لیتے ہیں کہ ہم دنیا میںجو کچھ بھی کر یں گے صرف اس کی رضا کے لئے ہی کر یں گے مگر ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ابھی ہم جانوروں کی قربا نی کا فریضہ انجام ہی دے رہے ہو تے ہیں کہ ہم اپنے دعوئوں کی نفی کا عمل شروع کر دیتے ہیں ۔وادی کے اطراف و اکناف میںجہاں جہاں پر بھی جانور ذبح کئے جا تے ہیں وہاں وہاں پر لوگ انتہا ئی بے حسی کے ساتھ آبی ذخائر کو آلو دہ کر نے لگ جا تے ہیں ۔پہلے جانوروں کے خون سے پا نی کو آلو دہ کیا جا تا ہے اور بعد میں کئی روز تک یہ سلسلہ جا ری رہتا ہے ۔کچھ لو گ ذبح شدہ جا نوروں کی کھا لیں آبی ذخائر میں پھینک دیتے ہیں اور کئی گر می کی وجہ سے خراب ہو نے والا گو شت بھی ندی نا لوں میں پھینک دیتے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ اس عمل میں شہر و گا م کے اندر کو ئی امتیاز نہیں ہے ۔صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس با ت سے لگا یا جاسکتا ہے کہ ابھی عید الاضحٰی میں کئی دن با قی ہیں مگر سرینگر میونسپل کا رپو ریشن کے حکام آج سے ہی گا ڑیو ں میں گلی گلی اور محلہ محلہ جا کر لوگوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ قربا نی کے جانوروں کا گو شت اور دیگر قسم کا کوڑا آبی ذخائر میں نہ ڈالیں۔ہمیں بحیثیت ایک قوم کے اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہو گا اور اپنے اجتما عی سماجی وطیرہ میں تبدیلی لانا ہو گی تبھی جا کر ہما ری قربا نیاں بھی قبول ہو ں گی اور نیکی کی نیت سے کی جا نے والی یہ قربا نیاں ہما رے لئے با عث ِ گنا ہ نہیں بنیں گی ۔