اداریہ

قیمتیں قابو سے باہر،انتظامیہ بے بس

وادی میں ان دنوں گوشت نایاب ہے اور لوگوں کا قصابوں پر من مانی قیمتوں پر گوشت فروخت کرنے کا الزا م بھی ہے تاہم انتظامیہ کی جانب سے گوشت کی نرخیں مقرر کرنے کے بعد بازاروں سے غائب قصاب پوشیدہ جگہوں پر گوشت کو فروخت کرنے میں ہی مصروف ہیں۔قصابوں کو جوابدہ بنانے اور سرکاری نرخ ناموں کی خلاف ورزی کی پاداش میں تادیبی کارروائی عمل میں لانے کے ساتھ ہی وادی میں گوشت نایاب ہوگیا ہے۔قصبوں اور دیگر بازاروں میں اکثر قصابوں کی دکانیں بند ہیںجبکہ مرغ، گوشت اور سبزیوں کے نرخوں میں اضافہ ہونے سے صارفین کافی حد تک پریشان ہیں۔ قصاب اور سبزی فروش زائد از نرخوں پر گوشت اور سبزی بیچتے ہیں اور اب تک انتظامیہ مہنگائی کو مکمل کنٹرول کرنے میں ناکام ہے ۔ اس طرح سے قیمتیں قابو سے باہر ہے اور انتظامیہ بھی قیمتیں قابو کرنے میں بے بس ہے۔ انتظامی نا اہلی نے عوام کی پریشانیوں میں اضافہ ہی کر دیا ۔ مثال کے طور اگر ہم گوشت اور سبزیوں کو لے لیں۔ سبزیوں کی قیمتوں نے اس حقیقت کو آشکار کردیا ہے کہ سبزی منڈی اور قصابوں پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔
سبزی منڈی میں عام طور پر اشیا سستی ہوتی ہیں لیکن خوردہ فروش مافیا منڈی سے شہر لاتے لاتے سبزیوں کی قیمتوں کو دگنا کردیتی ہے حالانکہ عام شہری سبزی منڈی جانے کی اہلیت نہیں رکھتے لہٰذا ریڑھی والوں سے ان کی مرضی کے مطابق قیمتوں پر سبزیاں خریدتے ہیں۔
عوام ان مہنگی سبزیوں اور گوشت کو خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ شہر میں اگر چہ قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کےلئے باضابطہ محکمہ ہے تاہم عملی طور پر ایسا لگتا ہے کہ کوئی پرائس کنٹرول ہی موجود نہیں ہے۔ حالانکہ اس محکمے کی ذمہ داری ہے کہ وہ سبزی فروشوں اور قصابوں کا احتساب کرے کیونکہ بھاری منافع قصاب اورسبزی فروش اس لیے کماتے ہیں کہ انھیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ یہ بات بڑی معنی خیز ہے کہ پرائس کنٹرول کرنے والی ایجنسی بھی قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔ سو اس لحاظ سے مہنگائی کنٹرول کرنا کسی طرح ممکن ہی نہیں لگتا۔
سرینگر شہر میں آج کل گوشت تقریباً نایاب ہی ہے ۔ اور اگر کہیں کہیں پردستیاب بھی ہے توپوشیدہ طریقے سے مہنگے داموں بیچا جاتا ہے۔اس طرح سے گوشت اور سبزیوں کی قیمتوں میں مہنگائی کا طوفان بڑ رہاہے۔ گوشت، سبزیوں دالوں اور سالن یعنی سبزیوں میں استعمال ہونے والی تقریباً سبھی چیزیں روز بہ روز مہنگا ہوتی جاتی ہیں۔سرمایہ دارانہ نظام میں منافع سب سے بڑی ترغیب ہوتا ہے اور منافع کا لالچ انسان کو حیوان بنا دیتا ہے۔ پرائس کنٹرول کرنے والی ایجنسی کے کارندے مارکیٹ ٹور ضرور لگاتے ہیں مگر عملی طور پر قیمتوں کو اعتدال کرنے میں بے بس نظر آتی ہیں۔