بلاگ سرورق مضمون

لائن آف کنٹرول پرپھر سے سیز فائر/
عالمی دبائو یا ٹریک ٹو کا نتیجہ ؟

سرینگر ٹوڈےڈیسک
عوامی حلقوں میں اس بات پر خوشی کا اظہار کیا گیا جب ہندوپاک کی طرف سے جنگ بندی معاہدے پر سختی سے عمل کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ جمعرات کو جب یہ خبر سامنے آئی کہ ہند پاک کے ڈائریکٹر ملٹری آپریشنزنے سرحد پر امن کی بحالی اور گولہ باری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا ۔ سیاسی رہنمائوں نے اس اعلان پر خوشی کا اظہار کیا ہے ۔ این سی کے سربراہ فاروق عبداللہ نے امن معاہدے کو سراہا اور اسے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے ۔ دوسری سیاسی پارٹیوں کے رہنمائوں نے بھی اس حوالے سے کئے گئے اعلان کو خوش آئند بتایا ۔ اس بات کی جانکاری دیتے ہوئے کہا گیا کہ دونوں طرف کے ڈائریکٹر آپریشنزکے درمیان ہوئی میٹنگ میں پہلے سے موجود جنگ بندی معاہدے پر سختی سے عمل کرنے پر اتفاق پایا گیا ۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ گولہ باری سے احتراز کیا گیا ۔ اس سے ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں میں بڑی خوشی دیکھی گئی ۔ دونوں طرف کے عوام کئی سالوں سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ واجپائی کے زمانے میں ہند وپاک کے درمیان ہوئے امن معاہدے کو پھر سے بحال کیا جائے ۔ لیکن کسی طرف سے عوام کی اس مانگ پر توجہ نہیں دی گئی ۔ پچھلے کچھ عرصے سے گولہ باری میں تیزی لائی گئی جس سے سرحدی علاقوں میں رہنے والے عوام بڑے پیمانے پر مشکلات سے دوچار ہوئے۔ اس دوران آر پار کئی فوجیوں کے علاوہ کئی درجن عام شہری مارے گئے ۔ بہت سے لوگ زخمی ہوگئے اور لوگوں کو سخت مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑا ۔
جنگ بندی کے حوالے سے ایک مشترکہ بیان سامنے آیا جس میں دونوں ملکوں کی فوجوں نے حد متارکہ پر کئی مہینوں سے جاری گولہ باری بند کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ عالمی برادری لائن آف کنٹرول پر پائی جانے والی صورتحال سے کسی طور خوش نہیں تھی ۔ حال ہی میں یو این جنرل سیکریٹری کی طرف سے ایک سخت بیان سامنے آیا جس میں کشمیر میں پائی جانے والی کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ برطانیہ کے کئی اعلیٰ عہدے داروں نے کشمیر کے حالات پر بیان دیتے ہوئے حقوق انسانی کا مسئلہ اٹھایا ۔ اس کے علاوہ دوسرے کئی اداروں کی طرف سے مسلسل اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ دہلی سے شایع ہونے والے ایک معتبر جریدے کی طرف سے انکشاف کیا گیا کہ جنگ بندی معاہدے کی بحالی کا فیصلہ اس وقت لیا گیا جب وزیراعظم نریندر مودی کے قومی سلامتی کے مشیر اور پاکستان میں ان کے ہم منصب کے درمیان حال ہی میں گفتگو ہوئی ۔ اس حوالے سے اگرچہ زیادہ تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں ۔ حکومت کی طرف سے تاحال اس بارے میں کسی طرح کا بیان نہیں دیا گیا ۔ تاہم کئی تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کا معاہدہ وزیراعظم اور ان کے نزدیکی ساتھیوں کے مشورے کے بغیر نہیں لیا جاسکتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ایسا اہم فیصلہ لینے میں وزیرداخلہ اور خارجہ سیکریٹری کے علاوہ وزیردفاع راجناتھ سنگھ کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔ سیز فائر کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سری لنکا کے ایک اہم دورے پرتھے۔ عمران خان نے سری لنکا جانے کے لئے ہندوستانی آئر روٹ کا استعمال کیا جس کے لئے باضابطہ دہلی سرکار سے اجازت لی گئی۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے ہندوستانی صدر اور وزیراعظم نے اپنے بیرونی دوروں کے موقعے پر پاکستان سے ہوائی راستہ اختیار کرنے کی اجازت چاہی تھی ۔ لیکن پاک سرکار نے ایسی کوئی چھوٹ دینے سے انکار کیا ۔ تاہم جب عمران خان نے سری لنکا جانے کے لئے ہندوستانی سرکار سے رابطہ کیا تو انہیں ہندوستان کی ایر سپیس استعمال کرنے کی چھوٹ دی گئی ۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان حالات میں اچانک بہتری نہیں آئی۔ بلکہ اس کے لئے ضرور پس پردہ مذاکرات کئے گئے ہیں ۔ یہ مذاکرات کس سطح پر ہوئے اور کہاں انجام دئے گئے اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے ۔ تاہم کچھ جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کئی مہینوں سے خفیہ پیغام رسانی اور مذاکرات کا سلسلہ چل رہا ہے ۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ آگے چل کر دونوں ملک مزید کچھ قدم اٹھانے والے ہیں۔ اس سے پہلے چین کے ساتھ لداخ میں جاری جنگ جیسی صورتحال ختم کرنے کے لئے ایک معاہدہ کیا گیا ۔ ہندوستان کی طرف سے دعویٰ کیا گیا کہ چین کے ساتھ مذاکرات میں ہندوستان کا پلہ بھاری رہا ۔ معاہدے میں طے پایا کہ دونوں ملکوں کی فوجیں آمنے سامنے کھڑا رہنے کے بجائے واپس اپنی پہلی پوزیشنوں پر جائیں گی ۔ اس کے بعد دونوں طرف کی فوجوں نے پیچھے ہٹنا شروع کیا ۔ اس حوالے سے وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں اعلان کی دونوں طرف کی فوجوں نے اپنی پہلی والی پوزیشن اختیار کی اور پیچھے ہٹنے کا عمل مکمل ہوگیا ۔ اسے نریندو مودی کی ایک بڑی کامیابی قرار دے کر کہا گیا کہ چین کو ہندوستان کے کہنے کے مطابق عمل کرنا ہوگا۔ چین کے ساتھ امن معاہدے کے بعد پاکستان کے ساتھ جنگ بندی معاہدے پر پھر سے عمل کرنے پر اتفاق کیا گیا ۔ یاد رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ 2003 میں طے پایا تھا ۔ اس معاہدے کو دونوں طرف کے عوام کے علاوہ پوری دنیا میں پذیرائی ملی تھی ۔ لیکن مودی حکومت کے قیام کے بعد جب ہند وپاک کے دونوں ملکوں کے درمیان تنائو بڑھ گیا تو اس معاہدے پر عمل کرنا ختم کیا گیا اور آر پار کی فوجوں نے ایک دوسرے پر لگاتار گولہ باری کرنا شروع کی ۔ اس وجہ سے لائن آف کنٹرول پر سخت کشیدگی پائی جاتی تھی ۔ لوگ اس وجہ سے سخت خوفزدہ تھے ۔ بلکہ کئی سو لوگوں نے ان علاقوں کو چھوڑ کر محفوظ جگہوں پر پناہ لی تھی ۔ اب تنائو کو ختم کرکے جنگ بندی کا فیصلہ کیسے لیا گیا ۔ اس بارے میں وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے ۔ تاہم اس فیصلے کی ہر سطح پر پذیرائی کی جارہی ہے اور اسے خیر سگالی کا ایک بڑا قدم مانا جاتا ہے ۔