سرورق مضمون

لالپورہ کپوارہ میں7جنگجوؤں کی ہلاکتیں:ہڑتال سے معمولاتِ زندگی درہم بر ہم گرفتاریاں اور پابندیوں کو باعث مذمت دیا گیا قرار

لالپورہ کپوارہ میں7جنگجوؤں کی ہلاکتیں:ہڑتال سے معمولاتِ زندگی درہم بر ہم گرفتاریاں اور پابندیوں کو باعث مذمت دیا گیا قرار

ڈیسک رپورٹ
24 فروری کو لولاب کپوارہ میں فوج کے ہاتھوں 7جنگجوؤں کی ہلاکت، عام شہریوں پر طاقت کے استعمال اور واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کرانے سے متعلق سید علی شاہ گیلانی کی طرف سے دی گئی ہڑتالی کال کے پیش نظر28 فروری کووادی بھر میں معمولاتِ زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئیں۔ اس دوران لالپورہ اور کپوارہ میں سخت ناکہ بندی کی گئی تھی جبکہ ہڑتال کے دوران سرینگر میں کئی جگہوں پر پُر تشدد جھڑپیں بھی ہوئیں۔
شہر سرینگر کے پائین علاقوں میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی پوری طرح مفلوج ہوکر رہ گئی جبکہ سول لائنز علاقوں میں بھی مکمل ہڑتال رہی اور کاروباری مراکزمکمل طور بند رہے۔اس دوران سرینگر کے کئی علاقوں میں پولیس اور فورسز کی بھاری تعداد تعینات کی گئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق کپوارہ میں اتو ار کی صبح سے ہی اہم شا ہراؤ ں پر خار دار تار بچھا ئی گئی تھی جبکہ ہڑتال کے پیش نظر پورے ضلع میں کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کے لئے پو لیس کو چو کنا کیا گیا تھا جبکہ لالپورہ میں جمعہ کی صبح کو ہی کر فیو کا اعلان کیا گیا اور لو گو ں کو اپنے گھرو ں میں باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ پورے قصبہ میں فورسزکی بھاری جمعیت کو تعینات کیا گیا تھا اور مرکزی جا مع مسجد لال پورہ کو جانے والی تمام سڑکو ں کو سیل کیا گیا تھا۔ ادھردرد پورہ میں نماز جمعہ کے بعد لو گو ں نے ایک جلو س نکالا اور لال پورہ کی طرف پیش قدمی کی تاہم پولیس نے انہیں لا ل پورہ جانے سے رو ک دیا۔ اس دوران کپوا رہ قصبہ،ترہگام ،کرالہ پورہ اور سو گام میں فو رسز نے لو گو ں کی نقل و حمل پر پا بندی عائد کر دی تھی۔
دریں اثناء جنوبی کشمیر کے اننت ناگ کے علاوہ پلوامہ، پانپور،ترال کولگام بجبہاڑہ میں بھی مکمل ہڑتال رہی اور تمام دکانیں بند رہی جبکہ سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں ملازمین کی حاضری بھی کم رہی۔ سڑکوں پر صرف اکا دوکا نجی گاڑیوں کو ہی چلتے ہوئے دیکھا گیا۔ ادھرسوپور قصبہ اور ملحقہ علاقوں میں بھی دن بھر ہڑتال کی گئی اور لوگوں نے احتجاجاً اپنے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔ سوپور میں انتظامیہ کی جانب سے امکانی گڑ بڑ کو روکنے کیلئے بھاری پیمانے پر سیکورٹی بندوبست کیا گیا تھا جبکہ کسی بھی جگہ سے کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیںآیا۔ تاہم نماز جمعہ کے بعد قصبے کی تمام مساجد میں لولاب میں مارے گئے جنگجوؤں کے حق میں دعا کی گئی۔بارہمولہ سے میں بھی دن بھر مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران معمولات زندگی متاثر ہوئے تاہم اس دوران ضلعے میں کسی بھی جگہ سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
ادھرلبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک کو اس وقت ساتھیوں سمیت گرفتارکیاگیا جب وہ پروگرام کے مطابق پتھری بل واقعہ سے لالچوک تک ریلی نکالنے کی کوشش کررہے تھے۔پولیس نے لبریشن فرنٹ کے احتجاجی جلوس کو روکنے کی غرض سے لال چوک جانے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کرلی تھی۔ ہڑتال کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے مقبول منزل پر جمع ہوکر اس احتجاجی جلوس میں شرکت کی۔ یہ جلوس جیسے ہی بڈشاہ چوک کے قریب پہنچا‘پولیس اور فورسز نے اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ جلوس میں شامل لوگوں نے سخت مزاحمت کرتے ہوئے پولیس کے گھیرے کو توڑ دیالیکن جب یہ جلوس تاج ہوٹل کے قریب پہنچا تو پولیس نے سی آر پی ایف اہلکاروں کے ہمراہ اسے ایک بار پھر گھیرے میں لے لیا۔ اس موقعہ پولیس نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ چیرمین اور دوسرے لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا۔
دریں اثناء حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سیّد علی گیلانی نے 28 فروی کے دن ان کی اپیل پر مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کرنے اور نماز جمعہ کے بعد پر امن احتجاج کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کیا ہے اور ساتھ ہی حریت پسند لوگوں خاص کر تحریک حریت پر کریک ڈاون کرکے قائدین اور کارکنوں کو گرفتار یاخانہ نظر بند کرنے کی پولیس کاروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یاد رہے ہڑتال اور احتجاج کی یہ اپیل درد پورہ لولاب کپواڑہ میں سات جوانوں کو مشکوک حالات میں فوجیوں کے ہاتھوں قتل کئے جانے اور پھر اس واقعے کے خلاف پر امن احتجاج کرنے والے علاقہ لال پورہ کے عوام پر تشدّد ڈھانے پر عوامی جذبات کا مظاہرہ کرنے کے لئے کی گئی تھی۔