سرورق مضمون

لشکراسلام کا منصوبہ/ حریت اور جہاد کونسل نے کیا ناکام/ فون سروس بحال ، بیان بازی جاری

لشکراسلام کا منصوبہ/ حریت اور جہاد کونسل نے کیا ناکام/  فون سروس بحال ، بیان بازی جاری

ڈیسک رپورٹ
یک ہفتے کے تعطل کے بعد وادی میں موبائل فون سروس مکمل طور بحال ہوگئی۔ یہ سروس اس وقت بند ہوگئی تھی جب لشکر اسلام نامی تنظیم کی طرف سے فون سروس کے لئے فراہم کی گئی زمین مالکان پر حملے کئے۔ حملوں کا آغاز سوپور سے ہوا جہاں ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ا س ہلاکت کے بعد وہاں فون سروس کے ساتھ جڑے لوگوں نے کسی طرح کاکام کرنے سے انکار کیا۔ ٹاوروں کے لئے فراہم کی گئی زمین کے مالکان نے ٹاور ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح ریچارج کرنے والوں نے اپنی دکانیں بند کی اور کسی طرح کا کوئی کام کرنے اسے انکار کیا۔ اس وجہ سے سوپور اور اس کے آس پاس علاقے میں فون سروس معطل ہوکر رہ گئی ۔ اسی دوران پٹن میں ایک ٹاور مالک کو ہلاک کیا گیا۔ ادھر جنوبی کشمیر کے کچھ علاقوں میں بھی پوسٹر چسپان کرکے ٹاور ہٹانے پرزور دیا گیا۔ اس وجہ سے پورے کشمیر میں فون سروس کے ساتھ کام کرنے والوں میں تشویش کی لہر پھیل گئی۔ کہا جاتا ہے کہ کشمیر میں فون سروس میں کام کررہے کارکنوں کی تعداد بیس ہزار کے لگ بھگ ہے اور ان لوگوں کی ملازمت خطرے میں نظر آنے لگی۔ خطرہ پیدا ہوا کہ ان لوگوں کو روزگار سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ اسی طرح کاروبار اور نجی لین دین متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ۔ آن لائن تمام سسٹم کو خطرہ لاحق ہوگیا۔ فون سروس بند ہونے سے بینکوں میں کام کاج متاثر ہوا اور کئی جگہوں پر اے ٹی ایم سے پیسہ نکالنے کا کام رک گیا۔ اسی طرح دفتروں میں بھی کام سخت متاثر ہوکررہ گیا۔ کئی لوگوں نے اسے پتھر کے زمانے کی طرف واپسی قراردیا ۔یہ صورتحال کئی دن تک جاری رہی اور علاحدگی پسندوں کے اس کاروائی میں ملوث ہونے سے انکار کے بعد فون سروس دوبارہ بحال کی گئی ۔
فون سروس بند کرانے کے لئے کی گئی کاروائیوں کی لشکر اسلام نامی تنظیم نے قبول کی۔ اس تنظیم کا نام اس سے پہلے نہیں سنا گیا۔ اس کی عسکری کاروائیوں میں حصہ لینے کی خبر پہلی بار میڈیا میں آگئی۔ اس کے باوجود لوگ سخت خوف زدہ ہوگئے اور پورے کشمیر میں تشویش کی لہر پھیل گئی ۔اس خوف میں اس وقت کمی آگئی جب حریت(گ) کے سربراہ سید علی گیلانی نے اس اقدام کی مخالفت کی اور اسے عوام دشمن قدم قرادیا ۔ گیلانی نے جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین سے اس معاملے پر بیان دینے کی اپیل کی۔ جہاد کونسل کے سربراہ نے ایسی کسی کاروائی میں کسی بھی جنگجو تنظیم کے ملوث ہونے کی بات مسترد کی۔ انہوں نے لشکر اسلام نامی تنظیم کے وجود سے انکار کیا اور اس کی کاروائیوں کو مشکوک قرادیا ۔ اس کے بعد سید علی گیلانی نے کھل کر موبائل فون بند کرنے کی کاروائی کی مزمت کی اور اسے ہندوستانی ایجنسیوں کا کام قراردیا ۔ انہوں نے لشکر اسلام کا تعلق ’را‘ کے ساتھ جوڑتے ہوئے اسے الفرقان طرح کی ایسی تنظیم قرادیا جس نے ماضی میں غیر ملکی سیاحوں کو ہلاک کرکے تحریک آزادی کو بدنام کرنے کاکام انجام دیا ۔ گیلانی اور صلاح الدین کی طرف سے آئی وضاحت کے بعد ریاستی وزیراعلیٰ نے پولیس سربراہ کو فون سروس جلد از جلد بحال کرنے کے احکامات دئے۔ پولیس نے حرکت میں آکر تمام علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں موجود ٹاور مالکان سے ان کو چالو کرنے کے معاملے پر بات کی۔ انہوں نے لوگوں کو ضرورت پڑنے پر سیکورٹی دینے کی پیش کش بھی کی۔ ان کی اس پیش کش کو لوگوں نے مسترد کیا ۔ تاہم اطمینان ملنے کے بعد ٹاور چالو کئے گئے اور وادی میں کئی دنوں سے گڑ بڑ کی شکار موبائل سروس بحال کی گئی۔ اس طرح یہاں پائے گئے تنائو کو ختم کیا گیا اور حالات پھر سے معمول پر آگئے ۔