سرورق مضمون

لوک سبھاانتخابی جنگ عروج پر / اودھم پور کے بعد نظریں جنوبی کشمیر پر

لوک سبھاانتخابی جنگ عروج پر / اودھم پور کے بعد نظریں جنوبی کشمیر پر

ڈیسک رپورٹ
اودھمپور کی سیٹ پر پولنگ 17 اپریل کوہوئی۔ یہاں ریاست کے سابق وزیراعلیٰ اور کانگریس کے مرکزی وزیر غلام نبی آزاد میدان میں ہیں۔ان کا مقابلہ بی جے پی اور پنتھرس پارٹی کے امیدواروں کے ساتھ ہے ۔ اس کے علاوہ پی ڈی پی نے بھی اپنا امیدوار میدان میں اتارا ہے ۔ اصل مقابلہ بی جے پی اور کانگریس امیدوار کے درمیان ہے۔ تا ہم پی ڈی پی بھی کامیابی کے دعوے کررہی ہے۔ آزاد کے میدان میں ہونے کی وجہ سے اس حلقے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ پہلے آزاد نے یہاں الیکشن لڑنے سے انکار کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ مرکز میں کانگریس کی انتخابی مہم پر نظر رکھنے کے لئے انہیں دہلی میں رکھاجائے گا۔ لیکن عین موقعہ پر فیصلہ بدل دیا گیا اور میڈم سونیا نے انہیں اودھمپور جاکر الیکشن لڑنے کے لئے کہا۔ یہاں کانگریس اور این سی دونوں جماعتوں کے پاس بی جے پی کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی امیدوار موجود نہ تھا۔ آزاد کی غیر موجودگی میں بی جے پی امیدوار کے آسانی سے کامیاب ہونے کا امکان تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کو فوری طور اپنی آبائی ریاست سے الیکشن لڑنے کے لئے کہا گیا۔ اس کے بعد وہ یہاں آگیا اور ادھم پور سے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کئے۔ یہاں الیکشن مہم کافی زوردار رہی اور ووٹ بھی بڑے پیمانے پر ڈالے گئے ۔ ووٹنگ کی شرح مجموعی طور پچھلے انتخاب سے زیادہ رہی ۔ ووٹ ان حلقوں میں بڑی تعداد میں ڈالے گئے جہاں بی جے پی کااثر زیادہ ہے۔ اس وجہ سے کانگریس کے پاؤں میں تھر تھراہٹ پیدا ہوگئی ہے۔ادھر پی ڈی پی اور پنتھرس پارٹی کی طرف سے یہاں موجود امیدواروں کی الیکشن مہم بھی کافی زوردار رہی ۔ ان امیدواروں کو بھی کافی ووٹ ملنے کی امید ہے۔ اس بنیاد پر کئی لوگ خیال ظاہر کررہے ہیں کہ اپوزیشن کا ووٹ تقسیم ہونے سے بی جے پی کو فائدہ ملے گااور آزاد کی کامیابی خطرے میں ہے۔ اگر چہ وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے تاہم کانٹے کے مقابلے کا اندازہ ہے۔
ادھم پور میں ووٹنگ اختتام کو پہنچی۔ الیکشن لڑنے والوں کی تقدیر کا فیصلہ اب الیکٹرانک ووٹنگ مشین کرے گی ۔ اس کے بعد اب لوگوں کی نظریں اننت ناگ نشست پر مرکوز ہیں۔یہاں ریاست کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی میدان میں ہیں ۔ ان کا مقابلہ این سی کے موجودہ پارلیمنٹ ممبر محبوب بیگ سے ہے ۔ یہ حلقہ اس وجہ سے بہت ہی اہم حلقہ مانا جاتا ہے کہ یہ خطہ پی ڈی پی کا روایتی حلقہ ہے ۔یہاں پی ڈی پی کا کافی اثر ورسوخ ہے ۔ پورے خطے میں نیشنل کانفرنس کی طرف سے اسمبلی کے لئے ایک ہی امیدوار کامیاب ہوا ہے ۔یہاں نورآباد سے سکینہ یتو این سی کی نمائندہ ہیں۔یہ واحد حلقہ ہے جہاں پر این سی امیدوار محبوب بیگ بڑا عوامی جلسہ بلانے میں کامیاب ہوئے ۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ دو بار حلقے کا دورہ کرچکے۔ پہلے انہوں نے شوپیان میں ایک عوامی جلسہ بلانے کی کوشش کی۔ لیکن یہاں اس موقعہ پر عوام نے ان کے جلسے میں آنے سے انکار کیا اور قصبے کا مین بازار بند رہا۔ اس کے بعد عمر عبداللہ نے کولگام آکر جلسے بلایا۔ یہاں کیموہ کے علاوہ کولگام کے بازار میں ان کے کاروان پر سنگ باری کی گئی اور جلسے میں کم لوگ شریک ہوئے ۔اس کے ساتھ یہ بات معنی خیز بتائی جاتی ہے کہ کانگریسی رہنماؤں نے یہاں این سی امیدوار کے حق میں کوئی مہم نہیں چلائی۔ خاص کر کوکر ناگ سے پیرزادہ سعید نے این سی کے حق میں کوئی بیان نہیں دیا۔ اس کے علاوہ پانپور ، پلوامہ اور وچی میں بھی این سی کی طرف سے کوئی زوردار مہم نہیں چلائی جاسکی۔ اننت ناگ کے اس حلقے میں بائیکاٹ مہم کا بھی اثر نظر آتا ہے ۔ ترال ،وچی اور کولگام میں کم ووٹ پڑنے کا خطرہ ہے ۔ ایسی صورت میں این سی کو فائدہ ملنے کا امکان بتا یا جاتا ہے۔ اس وجہ سے سخت مقابلے کا امکان ہے اور دونوں جماعتیں اپنی کامیابی کا دعویٰ کرتی ہیں ۔