سرورق مضمون

لوک سبھا انتخابات، بڑے پیمانے پر بائیکاٹ/ محبوب اور محبوبہ کا مقابلہ ، جیت گیلانی کی

لوک سبھا انتخابات، بڑے پیمانے پر بائیکاٹ/ محبوب اور محبوبہ کا مقابلہ ، جیت گیلانی کی

24 اپریل کو جنوبی کشمیر کی پارلیمانی نشست کے لئے انتخابات ہوئے ۔ اس نشست پر بارہ افراد قسمت آزمائی کے لئے میدان میں اترے ہیں ۔ لیکن اصل مقابلہ نیشنل کانفرنس کے امیدوار ڈاکٹر محبوب بیگ اور پی ڈی پی لیڈر محبوبہ مفتی کے درمیان ہے ۔ یہ نشست اننت ناگ کے علاوہ کولگام ، پلوامہ اور شوپیان اضلاع پر مشتمل ہے ۔ یہاں ووٹ ڈالنے کے لئے 1615 پولنگ بوتھ مقرر کئے گئے تھے جن کے لئے آٹھ ہزار سے زیادہ ملازمین ڈیوٹی پر لگائے گئے تھے ۔ تمام تیاریوں کے بعد معلوم ہواہے کہ لوگوں نے ووٹ ڈالنے کے بجائے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کو فوقیت دی ہے ۔ انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد چیف الیکٹورل آفیسر نے اپنے بیان میں اقرار کیا کہ لوگوں نے اکثر مقامات پر الیکشن کا بائیکاٹ کیا ہے ۔ ان کے بیان کے مطابق پورے انتخابی حلقے میں 28 فیصد ووٹ ڈالے گئے اور باقی ماندہ 72 فیصد لوگوں نے اپنے ووٹ کا حق استعمال نہیں کیا ۔ پورے علاقے میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے بڑے پیمانے پر پولیس اور سیکورٹی فورسز تعینات کئے گئے تھے ۔ اس کے باوجود پولنگ کے دن بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ اور سنگ باری کی گئی ۔ کئی جگہوں پر پولنگ عملہ زخمی کیا گیا جبک ایک پولنگ آفیسر کی موت واقع ہوئی ۔ این سی کے نامزد امیدوار محبوب بیگ کا ماننا ہے کہ علاقے میں علاحدگی پسندی کا رجحان پایا جاتا ہے اور لوگوں نے حریت کے کہنے پر الیکشن کا بائیکاٹ کیا ۔
الیکشن میں بڑے پیمانے پر انتخابات کا بائیکاٹ ہونے کے بعد نتائج کے بارے میں رائے زنی مشکل دکھائی دیتی ہے ۔ این سی کا کہنا ہے کہ بائیکاٹ کے بعد ان کا خیال ہے کہ محبوب بیگ آسانی سے الیکشن جیت جائے گا ۔ اس کے برعکس کئی لوگوں کا اندازہ ہے کہ محبوبہ مفتی کا پلڑہ بھاری رہے گا ۔ نور آباد کے پورے علاقے میں بڑے پیمانے پر ووٹنگ ہوئی ۔ اس حلقے سے نیشنل کانفرنس کی سکینہ ا یتو اسمبلی میں نمائندگی کررہی ہے ۔ یہ این سی کی واحد ممبر ہے جو جنوبی کشمیر سے کامیاب ہوئی ہے ۔ اس وجہ سے اندازہ ہے کہ یہاں این سی امیدوار کو بڑے پیمانے پر ووٹ ملیں گے ۔ ادھر ہوم شالی بُگ ، شوپیان ، ترال اور وچی سے پی ڈی پی کو بڑے پیمانے پر ووٹ حاصل ہونے کی امید تھی ۔ لیکن یہاں بہت کم ووٹ ڈالے گئے ۔ ڈالے گئے ووٹوں میں سے زیادہ تر ووٹ این سی کو ملنے کا خیال ظاہر کیا جارہاہے ۔ گیلانی کی بائیکاٹ کال کو کامیاب بنانے میں نوجوان طبقے نے خاص طور سے دلچسپی کا اظہار کیا ۔ یاد رہے کہ انتخاب سے چند روز پہلے اونتی پورہ میں پی ڈی پی کے ایک پنج اور ترال سے تین افراد کو جنگجووں نے ہلاک کیا تھا ۔ اس وجہ سے پورے علاقے میں دہشت پھیل گیا اور لوگوں نے ووٹ ڈالنے کے بجائے بائیکاٹ کرنا بہتر خیال کیا ۔ اس وجہ سے پولنگ کے روز علاقے میں جنگ کی سی صورت حال پائی جاتی تھی ۔ ووٹروں نے گھروں میں بیٹھنے کو ترجیح دی جبکہ نوجوان سارا دن پولنگ بوتھوں اور سیکورٹی فورسز پر سنگ بھاری کرتے رہے ۔ اس سے سارے علاقے میں جنگ کا سماں پایا جاتا تھا ۔ حریت رہنما اور پول بائیکاٹ کی کال دینے والے لیڈر سید علی گیلانی نے انتخابات کا بڑے پیمانے پر بائیکاٹ کرنے کے لئے لوگوں کا شکریہ کیا ہے ۔