مضامین

لوک سبھا انتخابات کے دلچسپ مناظر

سہیل انجم
اس وقت عام انتخابات کا موسم بہار آیا ہوا ہے۔ چاروں طرف خوش رنگ مناظر ہیں۔ سیاست کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں۔ سیاست دانوں اورامیدواروں کے دورے ہو رہے ہیں۔جگہ جگہ اسٹیج سجے ہوئے ہیں۔ ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ روڈ شو کیے جارہے ہیں۔ لچھے دار تقریریں ہو رہی ہیں۔ ہر کوئی ووٹروں کو لبھانے میں مصروف ہے۔ کہیں پر چرب زبانی کے جوہر دکھائے جا رہے ہیں تو کہیں پر نعرے بازیوں سے ماحول کو گرمانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی کے ساتھ ایک دوسرے کو لعن طعن بھی کیا جا رہا ہے۔ الزام اور جوابی الزام کا سلسلہ بھی چل رہا ہے۔ خود کو سب سے قابل سب سے لائق اور ملک کا سب سے وفادار ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے۔ جو حکومت میں آنا چاہتا ہے وہ برسراقتدار ٹولے میں برائیاں تلاش کر کر کے لوگوں کو بتا رہا ہے۔ غرضیکہ ہر وہ کام کیا جا رہا ہے جس سے دوسرے کو نقصان پہنچے اور خود کو فائدہ پہنچایا جائے۔ لیکن عوام ہیں کہ سب کچھ خاموشی سے سن رہے ہیں دیکھ رہے ہیں مگر بول نہیں رہے ہیں۔ وہ بولیں گے اور خوب بولیں گے مگر بہ زبان ووٹ بولیں گے۔ 16مئی کو پتہ چلے گا کہ رائے دہندگان نے کیا فیصلہ سنایا ہے اور کس کے سر پر تاج رکھ کر اس کی شوبھا بڑھائی ہے۔
یہ انتخاب سولہویں لوک سبھا کے لیے ہے۔ 31مئی کو پندرہویں لوک سبھا کی مدت ختم ہو رہی ہے اور اس سے قبل نئی لوک سبھا تشکیل پا جانی ہے۔ 543نشستوں کے لیے جو الیکشن ہو رہا ہے وہ ہندوستان کی پارلیمانی تاریخ کا سب سے طویل وقفے تک چلنے والا الیکشن ہے۔ پانچ مارچ کو انتخابی تاریخوں کا اعلان کیا گیا تھا اور 12مئی کو آخری پولینگ ہوگی۔ 7 اپریل کو پہلے مرحلے میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ 16مئی کو ووٹوں کی گنتی ہوگی۔ اس الیکشن میں 81کروڑ 45لاکھ ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ گذشتہ الیکشن کے مقابلے میں اس بار ووٹروں کی تعداد میں دس کروڑ کا اضافہ ہوا ہے۔ ان انتخابات میں اب تک کے انتخابات کے مقابلے میں سب سے زیادہ اخراجات آئیں گے۔ سیاسی پارٹیوں کے اخراجات کا تخمینہ تیس ہزار کروڑ روپے لگایا گیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے کاموں پر ساڑھے تین ہزار کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ یعنی پانچ بلین ڈالر۔ امریکہ کے صدارتی انتخاب کے بعد یہ دنیا کا دوسرا بڑا انتخاب ہے۔ امریکہ کے صدارتی الیکشن میں سات بلین ڈالر خرچ ہوئے تھے۔ اس طرح یہ الیکشن کئی معاملات میں سابقہ الیکشنوں سے مختلف ہے۔ الیکشن کمیشن نے صاف ستھرے اور آزادانہ انداز میں الیکشن کے انعقاد کے لیے زبردست حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔
یوں تو سیاست دانوں کے بارے میں یہ قیاس آرائی بالکل نہیں کی جا سکتی کہ وہ کب کس موقف سے قلابازی کھائیں گے اور کب اپنی ہی بات سے پھر جائیں گے۔ لیکن الیکشن کا سیزن ایسا لگتا ہے کہ انھیں قلابازی کھانے کا لائسنس دے دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الیکشن قریب آتے ہی بہت سے سیاست داں پالا بدلنے لگتے ہیں۔ وہ پانچ سال تک جس پارٹی میں رہتے ہیں اور جس کے گن گاتے رہتے ہیں الیکشن آتے ہی اس میں کیڑے پڑ جاتے ہیں اور وہی نیتا دوسری پارٹی میں جا کر اپنی پرانی پارٹی کو خوب برا بھلا کہتے اور نئی پارٹی کی خوب تعریفیں کرتے ہیں۔ کانگریس کے جگدمبیکا پال نے کانگریس کا دامن چھوڑ کر بی جے پی کا پلو تھاما تھا اور پھر انھیں بی جے پی نے فٹا فٹ ان کے حلقے ڈومریا گنج سے ٹکٹ بھی دے دیا۔ یہ سلسلہ اب بھی بند نہیں ہوا ہے۔ گوتم بدھ نگر سے کانگریس کے امیدوار رمیش چندر تومر نے تو بے اصولی پن کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ انھوں نے ہریانہ کے سابق وزیر اعلی بنسی لال کی یاد تازہ کر دی جب انھوں نے اپنی پوری پارٹی سمیت دوسری پارٹی جوائن کر لی تھی۔ تومر نے جو کہ کانگریس کے امیدوار تھے پولنگ سے ایک ہفتہ قبل کانگریس کو ہی چھوڑ دیا اور بی جے پی کا دامن تھام لیا۔ ایسا لگتا ہے جیسے پہلے سے ہی ان کی سیٹنگ تھی او رانھوں نے کانگریس پارٹی کو اس کی بھنک تک لگنے نہیں دی تھی۔ اب اس صورت میں جبکہ پرچہ نامزدگی داخل کرنے کا وقت نکل گیا ہے اس حلقے سے کانگریس بغیر امیدوار کے ہو گئی ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ووٹ ڈالنے کے وقت تومر کانگریس امیدوار کی حیثیت سے ووٹنگ مشین میں موجود رہیں گے۔ تومر 1991 سے ہاپوڑ سے چار بار بی جے پی کے ممبر رہے ہیں۔ 2004میں جب وہ ہار گئے تو انھوں نے کانگریس جوائن کر لی تھی۔
ادھر مرکزی وزیر کے ایس راؤ نے اپنی وزارت سے استعفی دے دیا۔ وہ حکومت سے پہلے سے ہی ناراض تھے۔ ان کی ناراضگی کی وجہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل تھی۔ وہ آندھرا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ابھی تو انھوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ کسی دوسری پارٹی سے الیکشن لڑنے نہیں جا رہے ہیں لیکن کل وہ کیا قدم اٹھا لیں گے کہا نہیں جا سکتا۔ تومر بھی ایک روز قبل تک بی جے پی میں جانے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے رہے تھے۔ دریں اثنا بی جے پی اور شیو سینا نے مرکزی وزیر اور این سی پی کے لیڈر شرد پوار کے بارے میں کہا ہے کہ وہ این ڈی اے میں شامل ہونے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ این سی پی نے اس خبر کی تردید کی ہے۔ در اصل شرد پوار کے بارے میں بھی کوئی پیشین گوئی نہیں کی جاسکتی کہ وہ کب کون سا بیان دیں گے۔ کچھ دنوں قبل انھوں نے نریندر مودی کی تعریف کی تھی او رجب اس پر نکتہ چینی ہونے لگی تو کہہ دیا کہ مودی کا دماغی علاج کرایا جانا چاہیے۔
ادھر گجرات سے کانگریس کے ایک سینئر لیڈر مدھوسودن مستری نے بجلی کے ایک کھمبے پر چڑھ کر مودی کا پوسٹر پھاڑ دیا اور اپنا پوسٹر چسپاں کر دیا۔ جس پر ان کو حراست میں لیا گیا او رپھر انھیں ضمانت مل گئی۔ در اصل مودی نے گجرات میں ہر اس جگہ پر قبضہ کر لیا ہے جہاں عوامی پوسٹر لگائے جا سکتے ہیں۔ مستری نے کئی روز قبل الیکشن کمیشن سے کہا تھا کہ بڑودہ میں بجلی کے تمام کھمبوں پر مودی کے پوسٹر لگے ہوئے ہیں ان کو اور دوسرے لوگوں کو پوسٹر لگانے کی جگہ نہیں مل رہی ہے اگر ان کو جگہ نہیں ملی تو وہ مودی کے پوسٹر پھاڑ کر اپنا پوسٹر لگائیں گے او رانھوں نے وہی کیا۔ در اصل گجرات کی حکومت مودی کی بہت زیادہ طرفداری کر رہی ہے۔ جب عوامی مقامات پر دوسری پارٹیوں کو بھی اپنے پوسٹر لگانے کی اجازت ہے تو ہر جگہ کو صرف مودی کے پوسٹروں سے کیوں بھر دیا گیا ہے۔
انتخابی مہم کے دوران مخالفین پر زبانی حملے تو ہو ہی رہے ہیں جسمانی حملے بھی ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کیجریوال کو زیادہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پہلے گجرات میں ان کے قافلے پر حملہ کیا گیا۔ اس کے بعد ہریانہ میں ایک شخص نے ان کو نشانہ بنایا۔ پھر بنارس میں ان پر انڈے پھینکے گئے۔ اب دہلی میں دو بار ان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دونوں مرتبہ روڈ شو کے دوران ان پر حملہ کیا گیا۔ اس پر عام آدمی پارٹی کا الزام ہے کہ یہ سب بی جے پی کی کارستانی ہے۔ ادھر بی جے پی کانگریس پر فرقہ واریت پھیلانے اور الیکشن کو فرقہ وارانہ رنگ میں رنگنے کا الزام لگا رہی ہے۔ جبکہ کانگریس دفاعی پوزیشن میں نظر آرہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس نے ابھی سے شکست تسلیم کر لی ہے۔ اس کے لیڈروں کے بیانات میں کوئی دھار نہیں ہے۔ لے دے کر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی ہی جارحانہ انداز میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ اس طرح یہ انتخاب سابقہ انتخابات کے مقابلے میں کئی لحاظ سے مختلف ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ 16مئی کے بعد الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے کیا کچھ برآمد ہوتا ہے۔