اداریہ

لگاتار انکار کے بعد اعتراف

سرحدی ضلع کپوارہ کے کنن پوشہ پورہ میں اجتماعی عصمت ریزی کے سانحہ پر لگاتار 22 برس تک خاموشی اختیار کرنے کے بعد بالآخر بھارت نے اعتراف گناہ کر ہی لیا اور اسے شرم آور قرار دیا۔وزیر خارجہ سلمان خورشید نے برملا طور اس واقعے پر شرمندگی کا اظہار کیا اور کہا کہ بھارت جیسے دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک میں ایسا نہیں ہونا چاہے تھا۔سرینگر میں سیول سوسائٹی ممبران ،صحافیوں اور کانگریس کارکنوں سے خطاب کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے سلمان خورشید نے کہا کنن پوشہ پورہ میں اجتماعی عصمت ریزی کاواقعہ شرم آور ہے ، وزیر خارجہ نے کہا مجھے شرم محسوس ہورہی ہے کہ میرے ملک میں میرے لوگوں کے ساتھ ایسا ہوا ہے ، انہوں نے کہامیں معذرت خواہ ہوں کہ میں اس واقعہ کے بارے میں کچھ کرنے کے قابل نہیں ہوں، انہوں نے مقرر دہرایا کہ مجھے شرم محسوس ہورہی ہے کہ میرے ملک میں ایسا واقعہ ہوا ہے۔
یاد رہے کنن پوشہ پورہ ایک گاؤں ہے جو کپوارہ ترہگام سے تقریباًدو کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ اس گاؤں کو 1991 ء میں 22اور23فروری کی درمیانی رات کو محاصرے میں لیا گیا تھا۔ گاؤں کے مردوں کو گھروں سے باہر نکال کر یہاں کھیتوں اور کھلیانوں میں یرغمال میں لے کر محاصرے میں لیا گیا۔ اس دوران خانہ تلاشی کی آڑ لے کر یہاں کی مستورات جن میں 8 سال کی بچی سے لے کر 80 سال کی معمر خواتین شامل ہیں، ان کے ساتھ کنواری لڑکیاں ، شادی شدہ عورتوں کے علاوہ حاملہ عورتوں کی انفرادی اور اجتماعی آبرو ریزی کی گئی۔ گاؤں کے ہر گھر میں مخصوص تعداد میں فوج کے گھسنے اور ان کی کارروائی مکمل ہونے پر دوسرے جوانوں کو ان گھروں میں موج میلا کرنے کیلئے بھیجا گیا۔تقریباً ہر گھر کی خواتین چاہیے وہ جواں ہوں ، بوڑھی ہوں یا نابالغ ہوں ان کی اجتماعی عصمت دری کی گئی۔
تعجب کی بات ہے کہ آج22 سال گذرنے کے بعد ملک کے وزیر خارجہ سلمان خورشید کو کنن پوشہ پورہ اجتماعی آبروریزی واقعے پر شرمندگی ظاہر کرنی پڑی ہے۔ 22برس گذرنے کے بعد وزیر خارجہ کا اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرکے معذرت کرنا کہ میں اس واقعے کے بارے میں کچھ کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ اگر ملک کا وزیر خارجہ اس واقعے پر کچھ نہیں کر پائے گا تو متاثرین کیا کر پائیں گے۔ اس سے بڑھ کر تعجب اور افسوس کیا ہو سکتا ہے؟