اداریہ

مائیگرنٹ پنڈتوں کیلئے مراعات کی منظوری

ریاستی کابینہ نے کشمیری مائیگرنٹوں کیلئے وزیر اعظم پیکیج میں مجوزہ ترامیم کو منظوری دی۔کابینہ اجلاس میں لئے گئے سب سے اہم فیصلے کے تحت کشمیری مائیگرنٹوں کی گھر واپسی کے حوالے سے وزیر اعظم کے امداد ی و بازآبادکاری پیکیج میں مجوزہ ترامیم کو منظوری دی گئی۔ کشمیری مائیگرنٹوں کے لئے وزیر اعظم کے پیکیج میں کچھ ترامیم عمل میں لائی گئی ہیں اور 6ستمبر 2013کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی سربراہی میں منعقد ہونی والی ایپکس ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ میں ان ترامیم پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اب یہ ترمیم شدہ منصوبہ اور اس کے ساتھ ریاستی حکومت کی سفارشات حکومت ہند کو بھیجی جائیں گی۔ مجوزہ ترامیم کے مطابق اب وادی لوٹنے کے خواہشمند تمام مائیگرنٹ کنبے وادی آکر اپنے گھر تعمیر کرسکتے ہیں، باوجود اس کے کہ انہوں نے اپنی جائیداد1997سے پہلے یا اس کے بعد فروخت کی ہو۔ ترمیم شدہ منصوبے کے مطابق وادی کے تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں کو اس بات کا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مائیگرنٹ کشمیریوں کے لئے ضلع ہیڈ کوارٹروں کے نزدیک ایک ہی جگہ پر اراضی کی نشاندہی کریں تاکہ مائیگرنٹ کنبے وہاں اپنے مکانات تعمیر کر سکیں۔منصوبے کے تحت کشمیری مائیگرنٹوں کوانفرادی اور اجتماعی سطح پر وادی میں بسنے کی سہولیت فراہم کی جائے گی۔ کسی ضلع میں سرکاری اراضی کی عدم دستیابی کی صورت میں متعلقہ ڈپٹی کمشنر ہی غیر سرکاری اراضی کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ مائیگرنٹوں کی طرف سے انفرادی طور یا گروپ ہاؤسنگ سوسائٹیز کی شکل میں رہائشی مکانات تعمیر کرنے کے لئے ایسی جگہوں پر زمین کی نشاندہی عمل میں لائی جائیں گی جہاں مقامی آبادی متاثر نہ ہو۔ جن کشمیری مائیگرنٹوں نے 1997کے بعد وادی میں اپنی جائیداد فروخت کی ہو ، ان کے بارے میں اراضی اور مکان تعمیر کرنے کی قیمتوں کا ازسر نو جائزہ لیا جائے گا اور یہی قیمتیں ترمیم شدہ پیکیج میں شامل کرکے مرکزی سرکار کو بھیجی جائیں گی۔ کابینہ میں لئے گئے فیصلے کے مطابق اب اس سلسلے میں رقومات کی واگذاری کے لئے حکومت ہند کے ساتھ رجوع کیا جائے گا۔ کشمیری مائیگرنٹوں کے لئے ایسی جگہوں پر زمین کا انتخاب عمل میں لانا ضروری ہے جہاں وہ اپنے آپ کو محفوظ تصور کریں۔ اس اقدام سے گھر واپسی کے خواہشمند مائیگرنٹ ان ہی اضلاع میں اپنے مکانات تعمیر کریں گے جہاں سے وہ وادی چھوڑ کر گئے تھے۔ اگر چہ کابینہ میں کشمیری مائیگرنٹوں کے حق میں فیصلہ دیا گیا ہے تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کیا مائیگرنٹ اس پیکیج کو عملائیں گے یا نہیں۔ کیا وہ وادی آنے کے لئے راضی ہوں گے کہ نہیں۔ اگر دیکھا جائے تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کشمیری مائیگرنٹوں میں مائیگرنٹ رہنے کی صورت میں بہت سارے مراعات دئے جا رہے ہیں اور اس لئے یہ مائیگرنٹ وادی آنے کے حق میں نہیں ہیں اور نہ رہیں گے۔