نقطہ نظر

ماضی کی باقیات

 

کلدیپ نائر

اندازہ کریں کہ رابندر ناتھ ٹیگور جیسی مشہور عالم شخصیت کو (جو ادب کا نوبیل انعام پانے والے برصغیر پاک و ہند کے پہلے شاعر تھے) سفید فام برطانوی حکمرانوں کی نشانی کلکتہ کلب میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیاتھا۔ اردو زبان کے بے مثل شاعر فیض احمد فیض کے ساتھ بھی لاہور کے ایک کلب میں یہی سلوک کیا گیا جب کہ بنگلہ دیش کے قومی شاعر نذر الاسلام کے ساتھ ڈھاکہ کلب میں ایسا ہی اہانت آمیز برتائو ہوا۔ ان تمام معاملات میں عوامی غیظ و غضب کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں۔
سفید فام حکمران چاہتے تھے کہ ملک کے چوٹی کے کلب جہاں وہ بیٹھ کر برصغیر پر حکمرانی کرتے ہیں‘ وہ جگہیں صرف انھی کے لیے یا ان کے اعلیٰ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے احباب کے لیے مخصوص رہیں۔ غیر سفید فاموں کو کلبوں میں داخلے کی اجازت نہ دینا ان کے نسلی تعصب کا اظہار تھا۔ بڑے کلبوں کے دروازے پر جلی الفاظ میں Dogs & Indians Not Allowed لکھا ہوتا۔ یہ حقیقت ہے کہ سفید فام حکمران مقامی لوگوں کی تذلیل کر کے لطف اندوز ہوتے تھے جب کہ ان پر توہین آمیز آوازے کسنا بھی ان کا شغل تھا۔
معاشرے کا اوپر والا طبقہ جو سفید فاموں کے ساتھ کھڑا ہونے پر فخر محسوس کرتا تھا وہ کم و بیش مغربی انداز میں ہی زندگی بسر کرتا تھا لہٰذا انھیں داخلے کی اجازت دے دی جاتی تھی۔ یہ حیرت کی بات نہیں کہ ہمارے معاشرے کے یہی لوگ جنہوں نے انگریزوں کے جانے پر ان کی جگہ لی تھی انھوں نے بھی ان کلبوں کے معاملات کو ویسے بھی چلایا تا کہ ان کی اجارہ داری قائم رہے۔ کلب انتظامیہ نے جو ’’ڈریس کوڈ‘‘ مقرر کیا وہ مغربی اسٹائل کا تھا جب کہ مقامی لباس پہننے والوں کو نزدیک پھٹکنے کی بھی اجازت نہ تھی۔چنائی کے ایک کلب نے تو دھوتی پر نہایت سختی سے پابندی عائد کر دی۔
مدراس ہائیکورٹ کے ایک معزز جج کو جنہوں نے حسب معمول دھوتی پہن رکھی تھی کلب میں جانے سے روک دیا گیا۔ اس بات پر بہت شور و غوغا ہوا۔ وزیراعلیٰ جے للیتا نے اسے تامل ثقافت کی بے عزتی قرار دیا۔ اور وعدہ کیا کہ فوری طور پر ایک قانون منظور کر کے اس قسم کی توہین آمیز روش پر پابندی لگا دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے تامل ناڈو کرکٹ ایسوسی ایشن کے خلاف بھی فوری کارروائی کرنے کا وعدہ کیا ہے جس نے جسٹس ہریپار نتھامن Hariparanthaman اور ان کے دو مہمانوں کے لیے ڈریس کوڈ کی پابندی نہ کرنے پر کلب کا دروازہ نہ کھولا۔
مدراس کلب انتظامیہ کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ تامل ناڈو اسٹائل کی دھوتی باندھنے سے عریانی کا خدشہ رہتا ہے۔ لیکن ایسی ریاست میں جہاں زیادہ تر سیاستدان دھوتی کو مغربی لباس پر ترجیح دیتے ہیں وہاں عریانی کے الزام کا بڑا سخت جواب دیا گیا۔ 77 سالہ سینئر ایڈووکیٹ آر گاندھی کو بھی جسٹس ہریپارنتھامن کے ہمراہ اندر نہیں جانے دیا گیا تھا‘ ان کا کہنا ہے کہ یہ کلب کے اسٹاف کی ذاتی ہٹ دھرمی تھی۔
جنوب مشرقی ایشیاء میں لوگ خواہ اپنی طبیعت میں کتنے ہی جمہوری کیوں نہ ہوں وہ خود کو بااختیار سمجھنا پسند کرتے ہیں۔ کلب گو کہ برطانوی حکمرانی کی باقیات ہیں لیکن یہ طاقت کی نمایندگی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی کے کلبوں کو اسی طرح قائم رکھا گیا ہے جیسے وہ تھے حالانکہ یہ بھارتی معاشرے سے مطابقت نہیں رکھتے۔
محکمہ پولیس انگریزوں کی ایک اور باقیات ہے جس کو ویسے کا ویسا ہی رکھا گیا ہے بلکہ اپوزیشن کو کچلنے کے لیے اس کو مزید اختیارات دیدیے گئے ہیں۔ اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کے دوران جن پولیس والوں نے احتجاج کرنے والوں پر جبر و تشدد کیا تھا ان کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔ یہ تقریب ابھی جاری ہی تھی کہ وزیراعظم اندرا گاندھی یک لخت اٹھ کھڑی ہوئیں اور تقریب ختم ہو گئی۔
پولیس کی اصلاحات کرنیوالے کمیشن کی رپورٹ سے جو نفرت انگیز سلوک کیا گیا وہ اس رویے کی ایک اور مثال ہے۔ اس سے اس خدشے کی تصدیق ہوتی ہے کہ عین ممکن ہے کہ شاہ کمیشن کی رپورٹ کو تلف ہی کر دیا گیا ہے کیوں کہ اس رپورٹ کی کوئی ایک کاپی بھی مارکیٹ میں موجود ہے اور نہ ہی سرکاری دفاتر ہیں۔ کیا کانگریس یہ سمجھتی ہے کہ اس کی ایسی گھٹیا حرکتوں سے ایمرجنسی کا دور تاریخ سے حذف ہو جائے گا؟ اصل حقیقت یہ ہے کہ پولیس ریفارمز کمیشن کی رپورٹ بدستور موجود ہے مگر اس کی سفارشات کو نافذ نہیں کیا گیا کیونکہ زیادہ تر ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ مسز گاندھی سے کم تحکمانہ مزاج نہیں رکھتے۔
بی جے پی محسوس کرتی ہے کہ وہ اپنے آزاد خیال ہونے کا تاثر پھیلا سکتی ہے ایسے وقت میں جب کہ نرم ہندوتوا نے بائیں بازو کی پارٹیوں پر بھی اپنا اثر قائم کر دیا ہے۔ کانگریس گزشتہ چند سالوں میں بڑے تسلسل کے ساتھ اپنا سیکولر تاثر کھوتی چلی گئی ہے اس بات کے باوجود کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد نے کانگریس کے حق میں ووٹ ڈالا لیکن مسلم کمیونٹی کے لیے آج سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انھیں تمام سیاسی پارٹیوں میں کوئی بھی آ زاد خیال پارٹی نظر نہیں آتی۔ ساری برادری کو عسکریت پسندی کی راہ پر ڈال دینا درست جواب نہیں حالانکہ ایسا ہو رہا ہے اور پوری مسلم برادری کو اس میں ملوث کیا جا رہا ہے حالانکہ مسلمان ہندوئوں کی دہشت گردی کا ہر گز مقابلہ نہیں کر سکتی کیونکہ ہندوئوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
میں نے محسوس کیا ہے کہ بعض مسلمانوں نے مایوس ہو کر تشدد کی راہ اختیار کر لی ہے کیونکہ ہندوئوں کی بعض عسکریت پسند تنظیمیں جیسے بجرنگ دل‘ رام سینا اور وشوا ہندو پریشد چاہتی ہیں کہ مسلم برادری اسی راہ پر چلے۔ ان تنظیموں کا احساس جرم مالی گائوں‘ اجمیر اور حیدر آباد میں بم دھماکوں سے ثابت ہوگیا ہے۔ ابتدائی شبہ حسب معمول مسلمان کمیونٹی پر کیا گیا جیسا کہ پولیس کی عادت ہے اور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں شروع کر دی گئیں۔حیدر آباد میں پولیس نے انھیں بہت بری طرح مارا پیٹا لیکن تفصیلی تحقیقات سے پتہ چلا کہ یہ دھماکے تو خود ہندوئوں نے کیے ہیں۔
اگر بھارت میں احتساب کا کوئی محکمہ ہوتا تو پولیس کو اتنی درندگی کا مظاہرہ کرنے کی جرات نہ ہوتی۔ نوجوان لڑکوں کو بلا امتیاز پکڑ لیا گیا جب کہ عدالت انصاف میں ان کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہ کیا جا سکا۔ یہ کس کی غلطی تھی؟ ان غیر قانونی حراستوں کا ذمے دار کون تھا؟ اس کو سزا دی جانی چاہیے تا کہ مسلمانوں میں یہ تاثر ختم ہو سکے کہ پولیس ان کو بلاوجہ گرفتار کر لیتی ہے۔بھارت کے سابق چیف جسٹس جے سی ورما کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم کیا گیا تھا تا کہ مجرمانہ حملے (ریپ) کے قوانین کو زیادہ موثر بنایا جاسکے۔ طلباء سے جب ان کی رائے مانگی گئی تو انھوں نے ایسے جرائم کے لیے سزائے موت تجویز کی۔
یہ بہرحال عجیب بات ہے کہ حکومت صرف دبائو میں آ کر ہی کوئی اچھا کام کرتی ہے۔ جب طلباء کے احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے انڈیا گیٹ جانے والی تمام سڑکیں بند ہوگئیں اور طلباء پر لاٹھی چارج اور پانی کے گولے پھینکنے پر بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا بلکہ عوام کی طرف سے پولیس کے لاٹھی چارج کی مذمت کی گئی تب اس حوالے سے کوئی پیشرفت ہوئی۔ اصل بات یہ ہے کہ سیاستدانوں کو سب سے زیادہ مدد پولیس سے ملتی ہے جس پر کہ امن و امان برقرار رکھنے کی ذمے داری عائد ہے لیکن پولیس فورس میں سے مجرمانہ ذہن کے حامل عناصر کو باہر نکال دینا چاہیے۔ مگر ایسا کرنے کے لیے لازم ہے کہ پولیس کو مکمل خود مختاری حاصل ہو تا کہ وہ سیاستدانوں کے دبائو سے آزاد رہ سکے۔ بدترین مثال پنجاب اور ہریانہ کی ہے جہاں پولیس وزرائے اعلیٰ کی نجی فوج کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)