اِسلا میات

ماہِ رَمَضان کی عظمت و فضیلت

ماہِ رَمَضان کی عظمت و فضیلت

ڈاکٹرجوؔہر قد ّوسی[مدیر’الحیاۃ‘]

رَمَضان المبارک شرف و عظمت کا وہ مہینہ ہے جس میں کشورِ انسانیت کی از سر نو تعمیر ہوئی۔ یہ مہینہ سعادتِ انسانیت اور عظمت ِ آدمیت کی وہ یادگار ہے جس کا دروازہ قرآن حکیم کے نزول سے دُنیا پر کھلا اور عبد و معبود میں ہجر و حرماں کی جگہ وصل و محبت کے راز شروع ہوئے۔ یہ مہینہ رحمتوں کی فصلِ بہار ہے اور اسی موسم بہار میں اللہ کی رحمتوں کی پہلی پہل بارش ہوئی اور دنیا کی وہ سب سے بڑی خشک سالی ختم ہوئی، جو صدیوں سے دنیا کے روح و قلب پر چھائی ہوئی تھی۔ اسی مبارک مہینے میں فیضانِ الٰہیہ کا سمندر جوش میں آجاتا ہے اور برکات کے خزینے سائلین ِ رحمت کے لیے سراپا منتظر ہو جاتے ہیں۔ پھر پکارنے والا پکارتا ہے: ’’اے بھلائی کے طالب آگے بڑھو اور اے برائی کے خواستگار رُک جائو‘‘۔
حدیث شریف میں آیا ہے، جس کی حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ سرکار دوعالمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطان اور سرکش جِن قید کر دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، حتیٰ کہ ایک دروازہ بھی کھلا نہیں رہتا۔ پھر مُنادی پکارتا ہے : ’’اے نیکی اور ثواب کے طلبگار! آگے بڑھ اور نیکیاں کر اور اے برائی اور معصیت کے طلبگار! برائیوں سے رُک جا‘‘ اور پھر اللہ کے فضل و کرم سے کتنے ہی لوگ دوزخ سے آزاد ہو جاتے ہیں اور یہ عمل ہر رات کو ہوتا ہے‘‘۔
نیکیوں کی موسم بہار
گویا رمضان المبارک وہ موسم بہار ہے جس میں نیکیوں کی فصل اُگتی ہے، پنپتی اور پھلتی پھولتی ہے اور پھر لہلہاتی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ ہی سے ایک اور روایت ہے کہ فرمایا آقائے نامدار حضرت احمد مجتبیٰ محمد رسول اللہﷺ نے: ’’ابن آدم کا ہر عمل کئی گُنا بڑھا دیا جاتا ہے اور نیکی کی جزا دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے، سوائے روزے کے۔ اللہ فرماتا ہے بے شک روزہ خالص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا کہ بندہ میری ہی خاطر اپنا کھانا اور اپنی خواہشِ نفس سب کچھ چھوڑ دیتا ہے۔ نیز فرمایا: روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں :ایک افطار کے وقت اور ایک اپنے رب سے ملاقات کے وقت اور بیشک روزہ دار کے منہ کی بُو اللہ کے نزدیک مُشک سے زیادہ اچھی اور پاکیزہ ہے‘‘۔
امام غزالی ؒ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ روزے کو خدا کی طرف منسوب ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اگر چہ ساری عبادتیں خدا ہی کے لیے ہیں مگر روزے کا وہی مقامِ بلند ہے، جو خانۂ کعبہ کا ہے، حالانکہ ساری زمین اللہ تعالیٰ کی ہے۔ وہ آگے چل کر فرماتے ہیں کہ روزے کو یہ شرف دو وجہ سے ہے:
اولاً روزہ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان چند چیزوں سے باز رہے اور بعض افعال ترک کردے۔ یہ ایک پوشیدہ معاملہ ہے جسے یا تو بندہ جانتا ہے یا اس کا خدا۔ اس عبادت میں کوئی عمل ایسا نہیں جسے انسانی آنکھ دیکھ سکے، جب کہ دوسری عبادتوں کا حال بالکل مختلف ہے کیونکہ وہ عموماً لوگوں کی نگاہوں میں ہوتی ہیں۔
ثانیاً روزے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دشمن پر دبائو ڈالنا اور اس پر غلبہ پانا ہے۔ شیطان کا وسیلہ انسان کی خواہشات و شہوات ہوتی ہیں اور شہوات کھانے پینے سے قوی ہوتی ہیں۔ روزے میں کھانے پینے سے اجتناب کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں شہوتیں کمزور ہو جاتی ہیں اور اللہ کا دشمن مغلوب ہو جاتا ہے۔
روزہ اور رمضان کی عظمت و فضیلت کے لیے یہ کچھ کم بات نہیں کہ شب و روز کے خالق خدائے وحدہٗ لاشریک نے سال کے بارہ مہینوں میں سے صرف اس کا ذکر اپنے کلام میں فرمایا۔ چنانچہ سورہ بقرہ کی آیت ۱۸۵ میں ہے: شہر رمضان الذی اُنزِل فیہِ القرآن ہدیً للناس و بیّناتٍ من الہدیٰ والفرقان ترجمہ: ’’رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا، جو لوگوں کی رہنمائی، ہدایت اور حق و باطل میں فرق کر دینے والی باتیں لے کر آیا، تو تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پائے، اسے اس مہینہ کے روزے رکھنا چاہیں‘‘۔ (البقرہ: ۱۸۵)
رمَضان المبارک کی دو عظیم خوبیاں
یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اس مقدس مہینہ کی دو عظیم خوبیوں کا تذکرہ فرمایا، تاکہ مسلمان اس مہینہ کا احترام کریں۔ پہلی خوبی تو یہ ہے کہ اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب یعنی قرآن کریم نازل ہوا۔ اللہ کا اپنے بندوں پر یہ کس قدر عظیم انعام و احسان ہے کہ اس نے انہیں وہ کتاب عطا فرمائی، جو ان کی زندگی کا مکمل ضابطہ ہے اور جس کی پابندی ان کی دنیا میں ترقی اور آخرت میں نجات کی ضامن ہے۔یہ عظمت والی آخری کتاب نبی آخرالزماںﷺ پر نازل ہوئی، جو بلاشبہ افضل الانبیاء اور خیر الرسل ہیں اور جس امت کو یہ کتاب ملی، وہ افضل الامم اور خیر امت ہے تو یقینا وہ مہینہ جس میں یہ کتاب نازل ہوئی، تمام مہینوں سے افضل اور اعلیٰ ہی ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا ہر دن، ہر رات اور ہر گھڑی قابلِ احترام ہے۔
ماہِ صیام کی دوسری خوبی یہ ہے کہ ہر مسلمان مرد و عورت پر اس مہینے کے روزے فرض کئے گئے۔ روزہ خدا کی عبادت کا ایک ایسا بہترین طریقہ ہے جس میں کسی قسم کے ریا و نمود کا کوئی امکان نہیں۔ ایسی عبادت کے لیے اس مہینہ کو منتخب فرمانا اس کی عظمت کا ثبوت ہے۔ گویا اللہ کو یہی پسند ہے کہ اس کے بندے اس مہینہ میں حسب معمول زندگی نہ گزاریں، بلکہ ان کے شب و روز کے معمولات اور پروگرام تبدیل ہوں، ان کے اعمال میں تبدیلی ہو، ان کے اٹھنے بیٹھنے میں تبدیلی ہو، سونے جاگنے میں تبدیلی ہو، کھانے پینے میں تبدیلی ہو، عبادت و ریاضت میں تبدیلی ہو، لوگوں سے معاملات کرنے میں تبدیلی ہو، حتیٰ کہ ان کی فکر و سوچ اور تخیّل و تصوّر میں تبدیلی ہو۔ جو بندے صِدق دلی اور خلوصِ نیت کے ساتھ اللہ کی مرضی کے مطابق اس ہمہ گیر اور ہمہ جہت تبدیلی کو قبول کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں، اللہ کی طرف سے بھی ان کی دنیا و آخرت کی زندگی میں تبدیلی کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے، وہ اس طرح کہ دنیا میں وہ مصائب و آلام، تنگدستی اور ذلّت و خواری کے بجائے عزت و عظمت کی پُرسکون زندگی پاتے ہیں اور آخرت میں وہ عذابِ الٰہی سے نجات پاکر ہمیشہ باقی رہنے والی پُرراحت زندگی حاصل کر لیتے ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو یہ بات بلا تامل تسلیم کرنا پڑے گی کہ جس طرح بھوکے کے لیے کھانا، ننگے کے لیے کپڑا اور بے گھر کے لیے سر چھپانے کی جگہ اللہ کی بڑی نعمتیں ہیں، اسی طرح مضطرب و بدحال اور تیزی کے ساتھ تباہی و بربادی کی طرف جانے والی قوم کے لیے ایسے مہینے کا پھر ایک بار نصیب ہو جانا بھی کوئی کم نعمت نہیں، جس کی بے حد قدر کی جانی چاہیے۔
ماہِ صبر، ماہِ مواساۃ اور ماہِ وسعتِ رزق
نیکیوں کے موسم بہار ماہِ رمضان کو ایک حدیث مبارک میں ماہ رمضان کے علاوہ ماہِ صبر، ماہِ مواساۃ اور ماہِ وسعتِ رزق بھی کہا گیا ہے۔ رمضان کے معنی ہیں جلا دینے والا۔ جس طرح آگ سونے کے میل کچیل کو جلاکر صاف کر دیتی ہے، اسی طرح اس مہینے کے روزے، تراویح اور دوسری نیکیاں مسلمان کے گناہوں کو جلا دیتی ہیں۔ اس مہینے میں متواتر شریعت کی پابندی اور گناہوں پر نادم ہونے والا اور توبہ کرنے والا مسلمان نورِ ایمان سے ایسا منّور ہو جاتا ہے جیسا سونار کی بھٹی سے میل کچیل والا سونا نکھر کر چمکتا ہوا نکلتا ہے اور جس طرح نکھرے ہوئے سونے کی قیمت بہت زیادہ ہو جاتی ہے، اسی طرح صائم النہار اور قائم اللیل مسلمان کا مقام بھی دنیا و آخرت میں بلند ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ حق تعالیٰ شانہٗ رمضان شریف میں روزانہ افطار کے وقت ایسے دس لاکھ آدمیوں کو جہنم سے خلاصی مرحمت فرماتے ہیں، جو جہنم کے مستحق ہو چکے تھے اور جب رمضان کا آخری دن ہوتا ہے تو یکم رمضان سے آج تک جس قدر لوگ جہنم سے آزاد کئے گئے تھے، ان کے برابر اس ایک دن میں آزاد کر دیے جاتے ہیں۔ ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ رمضان المبارک کی ہر شب و روز میں اللہ کے یہاں سے جہنم کے قیدی چھوڑے جاتے ہیں اور ہر مومن کے لیے ہر شب و روز میں ایک دُعا ضرور قبول ہوتی ہے۔
نبی کریمﷺ نے مختلف طریقوں سے روزے کے حقیقی مقصد کی طرف امت کی توجہ مبذول کرائی ہے اور یہ سمجھایا ہے کہ مقصد سے غافل ہوکر بھوکا پیاسا رہنا کچھ مفید نہیں۔ چنانچہ فرمایا: ’’جس کسی نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہیں چھوڑا تو اس کا کھانا اور پانی چھوڑ دینے کی اللہ کو کوئی حاجت نہیں‘‘۔ ایک دوسری حدیث میں فرمایا، ’’من صام رمضان ایماناً و احتساباً غفرلہ ما تقدم من ذنبہٖ‘‘ یعنی جس نے روزہ رکھا ایمان اور احتساب کے ساتھ، اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیئے گئے۔ ایمان کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے متعلق ایک مسلمان کا جو عقیدہ ہونا چاہیے، وہ عقیدہ ذہن میں پوری طرح تازہ رہے اور احتساب کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اللہ ہی کی رضا کا طالب ہو اور ہر وقت اپنے خیالات اور اپنے اعمال پر نظر رکھے کہ کہیں وہ اللہ کی رضا کے خلاف تو نہیں چل رہا ہے۔ ان دونوں چیزوں کے ساتھ جو شخص رمضان کے پورے روزے رکھ لے گا، وہ اپنے پچھلے گناہ بخشوالے گا، اس لیے کہ اگر وہ کبھی سرکش و نافرمان بندہ تھا بھی، تو اب اس نے اپنے مالک کی طرف پوری طرح رجوع کرلیا۔ ایسی احادیث بھی کتابوں میں درج ہیں، جن میں حضور اکرمﷺ نے فرمایا ہے کہ روزے کی حالت میں آدمی کو زیادہ سے زیادہ نیک کام کرنے چاہیں اور ہر بھلائی کا شوقین بن جانا چاہیے۔ خصوصاً اس حالت میں اس کے اندر اپنے دوسرے بھائیوں کی ہمدردی کا جذبہ تو پوری شدت کے ساتھ پیدا ہو جانا چاہیے۔ حضرت ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ خود سرکار رسالت مآبﷺ رمضان میں عام دنوں سے زیادہ رحیم اور شفیق ہو جاتے تھے۔ کوئی سائل اس زمانے میں تاجدارِ مدینہﷺ کے دروازے سے خالی نہ جاتا تھا اور کوئی قیدی اس زمانے میں قید نہیں رہتا تھا۔
مہلک امراض ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی میں
ایک اور حدیث، جس کی روایت حضرت سلمان فارسیؓ کرتے ہیں، میں نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے: کہ جو اس مہینے میں اپنے نوکر کا کام ہلکا کر دے تو اللہ اس کو بخش دے گا اور اس کو آگ سے آزاد کردے گا۔ یقینا اس حقیقت کا اعتراف ہمارے لیے مفید ہوگا کہ آج ہم دیگر بہت سی خوبیوں کی طرح باہمی ہمدردی، مواخاۃ، ایثار اور محبت سے بھی محروم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رشوت، ناجائز منافع خوری، چور بازاری، ذخیرہ اندوزی، سود خوری، ملاوٹ اور انہی جیسے دیگر مہلک امراض نے ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیا ہے۔ ہم اس قدر سخت دل اور ظالم بن گئے ہیں کہ:
آئیے!!خود کو بدل دینے کا عزم صمیم کرلیں!
آج ایک دکاندار حلال و حرام کی پرواہ کیے بغیر گاہکوں کو لوٹ کر دولت کمانے کو اپنی کامیابی گردانتا ہے۔ آج ایک ڈاکٹر مریض کو تڑپتا ہوا دیکھ کر بھی اس پر شفقت کا ہاتھ پھیرنے کو آمادہ نہیں ہوتا، آج ہمارا پولیس اہلکار یا افسر اپنے معمولی سے فائدے کے لیے پوری قوم کو جرائم پیشہ افراد کے سپرد کر دیتا ہے۔ غرض کوئی شعبہ ایسا نہیں، جس میں بگاڑ پیدا نہیں ہوا ہے۔ ایسے نازک حالات میں ہمیں ایک انقلابی فیصلہ کرنا ہوگا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے آغاز کے ساتھ ہی ہم خود کو بدل دینے کا عزم صمیم کرلیں۔یہ ہمارے لیے ایک سنہری موقع ہے۔ یہ وہ فصل بہار ہے جس میں ہمیں شعوری طور پر اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات پر عمل کرکے نیکیوں کو لوٹنا ہے کیونکہ ہمیں پیغمبر برحقﷺ نے خبردی ہے کہ جس نے رمضان میں کوئی نفلی عبادت کی تو اس کو اتنا ثواب ملے گا جتنا غیر رمضان میں فرض عبادات کا ثواب ملتا ہے اور جس نے اس مہینہ میں فرض عبادت ادا کی، تو اسے غیر رمضان کے ستر فرض ادا کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔ گویا رمضان المبارک کے دن اور اس مہینے کی راتیں مسلمانوں سے اس بات کی متقاضی ہیں کہ ایک ایک گھڑی، ایک ایک لمحے اور ایک ایک ثانیے کی قدر کی جائے اور ان نورانی لمحات کو غنیمت سمجھ کر ان سے بھرپور فیض حاصل کیا جائے، کیونکہ رمضان المبارک میں ہر قسم کی عبادات کے ثواب میں اضافے کا اعلان اس بات کو سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ بٹنے والے خزانوں کا مالک وہ سخی ہے، جس کو خود یہ بات پسند ہے کہ اس کے بندے زیادہ سے زیادہ اس کی نعمتوں سے مالا مال ہوں۔ لہٰذا خاص طور پر یہ اعلان کیا گیا کہ رمضان کا مہینہ ایسا مبارک مہینہ ہے کہ اس کی عبادت تمہیں جتنی نعمتوں، عنایتوں اور رحمتوں سے مالا مال کر دے گی، اتنی نعمتوں کو تم گیارہ مہینے کی مسلسل عبادتوں کے صلہ میں نہیں پاسکتے۔
کاش! ہم اپنی بداعمالیوں پر تائب ہوجائیں!
اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے اس احسانِ عظیم کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگر ہم اپنی بداعمالیوں پر تائب ہوکر اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کا عزم کرلیں تو اس ایک مہینے کے اندر احکامِ شرع کی پابندی تمام گزشتہ برسوں کے لیے کفارہ بن سکتی ہے اور یوں ہمارے اعمال و کردار کی خزاں رسیدہ کھیتی میں پھر سے بہار کی رونقیں لوٹ سکتی ہیں۔ یہ سلسلہ ہمیں رمضان کے بعد بھی جاری رکھنا پڑے گا اور اس موسم بہار میں جب کہ ہر طرف نیکیوں، خوش اعمالیوں اور اللہ کی بے پایاں رحمتوں کے پھول برس برس کر ماحول کو ایک عجیب قسم کی نورانی کیفیت عطا کرتے ہیں، خود کو ہمیشہ کے لیے بدلنے کا عزم کرلیں اور اگر ہم اللہ کے اس فضل پر یقین کرکے اس سے مستفیض ہونے کا پختہ ارادہ کرلیں تو ہم بڑے خوش نصیب ہیں کہ ہم اپنی بدحالی کو خوشحالی میں تبدیل کرنے کی کامیاب تدبیر اختیار کر رہے ہیں۔ اللہ ہمیں اس اقدام کا جذبہ اور ہمت و جرأت عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔