اداریہ

!مجبوری کا نام…ہے

حریت(گ) چیرمین سید علی شاہ گیلانی نے اگر چہ پاسپورٹ کی حصولی کے لئے آن لائین درخواست دیا تاہم اُس وقت اُن کے پاسپورٹ کی اجرائی پر سیاست کی گئی ۔ کئی ایک نے اپنی ساکھ بنانے کیلئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر گیلانی کو پاسورٹ دینے اور سید علی شاہ گیلانی کو پاسپورٹ اجراء کرانے پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کی باتیں کیں اور کئی ایک نے پاکستانی جھنڈا لہرانے والے کو پاسپورٹ دینے کی مخالفت کی ہے۔ تاہم گیلانی نے اس وقت پاسپورٹ آفس میں ضروری لوازمات پورا کرنے کیلئے پولیس کی طرف سے مہیا کی گئی گاڑی کی پیشکش کو مسترد کیا۔ گیلانی نے اُس وقت کہا کہ وہ خانہ نظر بندی کے بعد ہی پاسپورٹ آفس ضروری لوازمات پوراکرنے کیلئے از خود جائیں گے۔اس دوران مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ایک تقریب پر کہا تھا کہ گیلانی نے ابھی پاسپورٹ کیلئے ضروری لوازمات پورے نہیں کئے اور انہیں ابھی پاس پورٹ اجراء کرنے کے بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ اس طرح سے اس وقت یہی خدشہ ہو رہاتھا کہ بھارت سرکار گیلانی کو پاس پورٹ نہیں دینا چاہتی تھی۔
اب جبکہ آج حالات ایکدم بدل گئے، گیلانی صاحب کی رہائش گاہ پر پولیس کا پہرہ ہٹنے کے فوراً بعد ہی وہ اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ہمراہ از خود سرینگر کے پاسپورٹ آفس میں ضروری لوازماات پورا کرنے کے لئے حاضر ہوئے جہاں انہوں نے بیرون ملک سفرکیلئے انڈین پاسپورٹ کوہرکشمیری کیلئے ایک مجبوری سے تعبیرکیا اور کہا میں پیدائشی ہندوستانی نہیں ہوں ۔اپنی علیل صاحبزادی کی خبرگیری کیلئے سعودی عرب جانے کے خواہشمند سیدعلی گیلانی نے حصول پاسپورٹ کیلئے آن لائن کے ذریعے اپنا فارم داخل کیا تھا لیکن سرینگر میں قائم پاسپورٹ آفس کے حکام نے اس بات کو لازم قرار دیا کہ سید علی گیلانی اور ان کے دیگر اہل خانہ اپنی اپنی پاسپورٹ درخواستوں کے لوازمات کو مکمل کرنے کیلئے اس دفتر میں بذات خود حاضر ہوجائیں۔ تاہم انہوں نے تب تک پاسپورٹ آفس نہ جانے کا موقف اختیار کیا جب تک نہ ان کی رہائشگاہ واقع حیدر پورہ کے ارد گرد تعینات پولیس اہلکاروں کو ہٹایا جائے اور موصوف کی خانہ نظر بندی کو ختم کیا جائے۔ سید علی گیلانی اپنی اہلیہ اور چھوٹے فرزند کے ہمراہ سرینگر میں قائم پاسپورٹ دفتر پہنچے جہاں انہوں نے پاسپورٹ درخواستوں کی لوازمات کو پورا کیا۔ اس طرح سے سید علی گیلانی اور ان کے دیگر اہل خانہ نے پاسپورٹ فارم کو خود یہاں آکر مکمل کیا اور ایک مخصوص کالم میں تینوں نے اپنی قومیت ’ہندوستانی ‘ لکھی۔ تاہم بعد میں سید علی گیلانی نے کہا کہ بیرون ملک سفر کیلئے ہندوستانی پاسپورٹ حاصل کرنا ہر کشمیری کی مجبوری ہے۔ جنم سے یا پیدائشی ہندوستانی نہیں ہوں لیکن دوسرے کشمیریوں کی طرح مجھے بھی پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے کچھ لوازمات کو پورا کرنا پڑ رہا ہے۔ سید علی گیلانی نے کہا ہے ’میں پیدائشی ہندوستانی نہیں ہوں،بلکہ ہم جبری قبضے میں جکڑے گئے ہیں اور ہندوستانی پاسپورٹ پر سفر کرنا محض ہماری مجبوری ہے۔اس طرح سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ مجبوری کے وقت انسان کچھ بھی یعنی سب کچھ کر سکتا ہے جس طرح سے گیلانی صاحب خود کو ہندوستانی نہیں کہہ سکتا تھا تاہم جب مجبوری سامنے آئی تو ان کو بھی مجبوری کے وقت اپنے موقف میں تبدیلی لانی پڑی اور اسی کا نام مجبوری ہے۔ اس کو کہتے ہیں مجبوری کا نام… ہے!