اِسلا میات

محبت ِ رسول اللہﷺ اور اس کا معیار

مولانا محمد سلمان منصورپوری
محبوب رب العالمین، سرور دوعالم، سیدنا ومولانا حضرت محمد رسول اللہﷺ سے محبت رکھنا اور آپ کی تعظیم و توقیر دل میں بٹھانا ایمان کا جزواعظم ہے، اس کے بغیر ایمان کا تقاضا نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’سو جو لوگ اس نبی پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں، اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کا اتباع کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا ہے، ایسے ہی لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں‘‘۔ (الاعراف:۱۵۷)
اسی طرح جناب رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:
’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میری ذات اس کی نظر میں اس کی اولاد، اس کے والدین اور تمام جہان کے لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جائے‘‘۔
تو معلوم یہ ہوا کہ محبت رسول روح ایمان ہے، جس شخص کا دل اس محبت سے خالی ہو وہ روح ایمانی سے محروم ہے، لہٰذا یہ ناممکن ہے کہ آدمی مومن بھی ہو اور اس کا دل عظمتِ محمدی سے معمور نہ ہو۔
حضرات صحابہؓ کے جذباتِ محبت کی ایک جھلک
نبی اکرم سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے جاں نثار صحابہؓ نےآپﷺ کے ساتھ جس محبت کا اظہار فرمایا وہ محبت کی تاریخ میں خود اپنی مثال آپ ہے۔ حضرات صحابہؓ کے رگ و پے میں محبت رسولﷺ سرایت کئے ہوئی تھی۔ ان کے دل و دماغ حبِ نبوی کے جذبات سے معمور تھے، گویا کہ ان کی پوری زندگی محبت رسول کا عنوان بن گئی تھی، ان میں کا ہر شخص جان ودل سے پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام پر فدا تھا۔
’’عروہ بن مسعود ثقفیؓ‘‘ جو صلح حدیبیہ کے موقع پر مشرکین اور مسلمانوں کے درمیان ثالثی کا فریضہ انجام دے رہے تھے انہوں نے اس وقت پیغمبرﷺ کی مجلس کا جو نظارہ دیکھا اس کو مشرکین کے سامنے جاکر اس طرح بیان کیا:
’’اے لوگو! اللہ کی قسم میں بادشاہوں کے دربار میں گیا ہوں، میں قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے دربار میں بھی حاضر ہوا ہوں، مگر بخدا میں نے کبھی کہیں کسی بھی بادشاہ کو ایسا نہیں دیکھا کہ اس کے درباری اس کی اتنی قدر اور عزت کرتے ہوں، جتنی محمدﷺ کے صحابہؓ محمدﷺ کی عظمت کرتے ہیں۔ قسم بخدا! آپﷺ کے دہن مبارک سے نکلا ہوا بلغم اور تھوک ان صحابہؓ میں سے کسی آدمی کے ہاتھ پر ہی گرتا ہے جسے وہ اپنے چہرہ اور بدن پر مل لیتا ہے اور جب آپﷺ ان کو کوئی حکم کرتے ہیں تو وہ اس کو بجالانے میں جلدی کرتے ہیں اور جب آپﷺ وضو فرماتے ہیں تو آپﷺ کے وضو کے مستعمل پانی کو لینے کے لیے ان میں جھگڑا سا ہونے لگتا ہے اور جب آپﷺ گفتگو فرماتے ہیں تو وہ آپﷺ کے دربار میں اپنی آوازیں پست کرلیتے ہیں۔ اور حد تو یہ ہے کہ آپﷺ کی انتہائی عظمت کی بناء پر وہ آپﷺ کی طرف نظر بھر کر دیکھتے بھی نہیں ہیں‘‘۔ (بخاری شریف ۱/۳۷۹)
عروہ بن مسعودؓ نے جو مشاہدہ بیان کیا یہ کوئی ایک دو دن کی بات نہیں، بلکہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا یہ معاملہ ہر روز اور ہر جگہ تھا۔ حضرات صحابہؓ نے محبت رسولﷺ اور جاں نثاری اور فدویت کے ایسے نمونے پیش فرمائے ہیںکہ ان کے مقابلہ میں شیریں، فرہاد اور لیلیٰ مجنوں کے قصے قطعاً بے حیثیت معلوم ہوتے ہیں۔
معلمِ انسانیتﷺ کا اندازِ تربیت
تاہم حضرات صحابہؓ کی اس پُرجوش محبت اور بے مثال جاں سپاری پر نبی اکرمﷺ نے ہمیشہ گہری نظر رکھی کہ کہیں امت محبت کے جوش میں راہ حق اور جادئہ اعتدال سے ہٹ نہ جائے اور غلو کا شکار ہوکر تباہی مول نہ لے لے؛ اس لیے آپﷺ نے حضرات صحابہؓ کو تلقین فرمائی کہ وہ پیغمبرﷺ کی تعریف میں اس قدر مبالغہ نہ کریں، جیسے یہود و نصاریٰ نے اپنے پیغمبروں کے بارے میں کیا۔ ارشاد نبویﷺ ہے:
’’میری تعریف میں اس طرح مبالغہ مت کرو جیسے کہ نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں مبالغہ سے کام لیا اس لیے کہ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، لہٰذا تم لوگ یوں کہا کرو کہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں‘‘۔
اسی طرح ایک موقعہ پر آپﷺ نے صحابہؓ کو تلقین فرمائی کہ وہ آپ کی فضیلت دوسرے انبیاء علیہم السلام پر اس انداز میں نہ بیان کریں جس سے دوسروں کی تحقیر لازم آئے۔ چنانچہ ارشاد نبوی ہے:
’’اللہ کے انبیاء علیہم السلام کے درمیان آپس میں فضیلت آرائی نہ کرو‘‘۔ (مسلم شریف ۲/۲۶۷)
علاوہ ازیں حضرت خاتم النبیین سیدنا و مولانا حضرت محمدﷺ نے اپنی وفات سے پہلے بار بار امت کو جو وصیت فرمائی اورنہایت تاکید کے ساتھ توجہ دلائی وہ یہ تھی کہ لوگ آپﷺ کی قبر اطہر کو سجدہ گاہ نہ بنائیں۔ آپﷺ نے اہل کتاب کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:
ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہو یہود و نصاریٰ پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا‘‘۔ (بخاری شریف:۱/۱۷۷)
یہ سب ہدایات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ محبت رسولﷺ کے بھی کچھ حدود و آداب ہیں، محض زبانی جمع خرچ یا نفسانی تقاضوں کے مطابق اظہار محبت کوئی معنی نہیں رکھتا۔ محبت کے لیے اطاعت لازم ہے، جو محبت اطاعت سے خالی ہو وہ محبت نہیں، بلکہ محبت کا ڈھونگ ہے۔ ایک عربی شاعر کا مشہور شعر ہے:
تَعْصِی الْاِلٰہَ وَ اَنْتَ تُظْہِرُ حُبَہٗ
ہَذَا لَعُمْرِیْ فِی الْقِیَاسِ بَدِیْعُ
لَو کَانَ حُبُّکَ صَادِقاً لَاطَعْتَہٗ
اِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ یُّحِبُّ یُطِیْعُ
ترجمہ: تو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے اور پھر اس سے محبت بھی ظاہر کرتا ہے۔ میری جان کی قسم یہ بات عقل کے خلاف ہے۔ اگر تیری محبت سچی ہوتی، تو تُو اس کی اطاعت کرتا، اس لیے کہ عاشق حقیقی اپنے محبوب کا فرماں بردار ہوتا ہے)۔
نبی اکرمﷺ ہر موقع پر اس کا خیال رکھتے تھے کہ صحابہؓ میں کوئی غلط جذبہ پروان نہ چڑھ سکے، چنانچہ ایک موقع پر جب کہ صحابہؓ آپﷺ کے وضو کے پانی سے برکت حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے اوپر گرے پڑ رہے تھے، تو آپﷺ نے پوچھا کہ تمہارے اس عمل کی وجہ کیا ہے؟ حضرات صحابہؓ نے جواب دیا کہ ہمارے دل میں اللہ اور ا س کے رسول کی محبت ہے اس لیے ہم آپﷺ کے وضو کے مقدس پانی سے برکت حاصل کرکے اپنی وارفتگی کا اظہار کر رہے ہیں، نبی اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس وقت صحابہؓ کا رخ زبانی جمع خرچ اور ظاہری نمود سے ہٹاکر حقیقی کردار سازی کی طرف یہ کہہ کر موڑ دیا:
ترجمہ: ’’جسےیہ پسند خاطر ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ سے محبت کرے یا وہ خدا اور اس کے رسولﷺ کا محبوب بن جائے تو وہ (۱)جب بولے سچ بولے (۲) اور جب اسے امین بنایا جائے تو امانت کو ادا کرے (۳) اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرے‘‘۔ (مشکوٰۃ شریف۲/۴۲۴)
قربان جائیے اس شاندار تعلیم اور بے مثال تربیت پر کہ آپﷺ نے کس بہترین انداز سے جذبات کو صحیح رخ عطا فرمادیا اور رہتی دنیا تک کے لیے تربیت اور نصیحت کا عظیم الشان نمونہ پیش فرمایا۔
آج ضرورت ہے
پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مذکورہ ہدایات کی روشنی میں آج ہمیں اپنے جذبات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں غور کرنا ہوگا کہ ہماری محبت، اطاعت کے سانچہ میں ڈھلی ہوئی ہے یا نہیں؟َ اس لیے اس کے بغیر اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نظر میں دعویٔ محبت قابل قبول نہیں۔ وجہ ہے کہ اسلام کوئی سطحی مذہب نہیں، بلکہ اس کی بنیاد پختہ اصولوں اور مستحکم بنیادوں پر ہے۔ محض وقتی شور شرابہ اور کھیل تماشوں اور نفسانیت پر اسلام کی بنیاد ہرگز نہیں رکھی گئی ہے۔ بے شک ہمارے دل میں پیغمبر علیہ الصلوٰۃٰ والسلام کی محبت کے جذبات سب سے زیادہ ہیں مگر ان کی روح اطاعت رسول میں مضمر ہے۔ اگر کوئی صاحب ایمان محبت رسول کا مدعی ہو مگر اس کا چہرہ، لباس، کردار، اخلاق، معاملات اور معاشرت سنت کے خلاف ہو اور پیغمبرﷺ کےدشمنوں کے موافق ہو، تو ظاہر ہے کہ ایسے مدعی کے دعوے کو ازروئے انصاف قبول نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح محبت کا دعویٰ ہو اور نماز، روزہ اور دیگر عبادات سے زندگی خالی ہو تو ایسا دعویٔ محبت کسی کام کا نہیں۔ محبت میں رنگ بھرنے کے لیے اطاعت اور اتباع کی روشنی ضروری ہے۔
موجودہ دور کا المیہ
لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ آج محبت کےد عوے تو بہت ہیں، لیکن جذبۂ اطاعت کا فقدان ہے۔ لوگوں نے اپنے من گھڑت چند بے اصل نظریات اور نفسانیت پر مبنی بعض رسومات کو ہی معیار محبت سمجھ لیا ہے اور پھر اس پر طرہ یہ ہے کہ جو اُن من گھڑت باتوں کو تسلیم نہ کرے اور قرآن و سنت سے ثابت راہ حق پر قائم ہو، الٹا اسے محبت رسولﷺ کا تارک قرار دینے کا طعنہ دیا جاتا ہے اور ان کی نفسانیت میں کوئی آڑے نہ آئے اس لیے اقدام کرکے علمائے حقانی اور ائمہ ربانین کی شان اقدس پر کیچڑ اچھالی جاتی ہے۔ اور منصوبہ بند طریقہ پر ناواقف عوام کو شکوک و شبہات میں ڈالنے کی کوشش پہلے بھی کی جاتی رہی ہے اور اب بھی کی جارہی ہے، حالانکہ اس وقت امت کی شیرازہ بندی کی سخت ضرورت ہے۔ فروعی اختلافات کو اپنے دائروں میں محدود کرکےعوام کو ایک لڑی میں پرونا وقت کا اہم تقاضا ہے، لیکن کچھ لوگ محض اپنی ساکھ اور اپنا امتیاز برقرار رکھنے کے لیے نہایت بے غیرتی کے ساتھ اس نازک دور میں بھی علمائے ربانین کے خلاف تکفیری محاذ کھولے ہوئے ہیں، بس اللہ ہی انہیں ہدایت سے نوازے اور ان کے شر سے امت کو محفوظ رکھے۔ آمین۔