اداریہ

محبوبہ !بھاجپا کیساتھ الائنس کر کے کیا کھویا کیا پایا؟

اب جبکہ پی ڈی پی بی جے پی سرکار دوبارہ بن رہی ہے اور محبوبہ مفتی ریاست کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ، تاہم عوام میں سرکار کی تشکیل کو لے کر کئی طرح کے خدشات ہیں جن کو صاف نہیں کیا جا رہا ہے کئی طرح ایسے بھی افواہیںاڑائی جا رہی ہیں کہ مخلوط سرکار بنانے کیلئے کئی شرائط رکھے گئے ، تاہم یہ بھی ایک شرط ہے کہ ان شرائط کو عوام میں نہیں لا جائے۔ عوامی حلقوں کی رائے ہے کہ آخر کیوں حکومت بنانے میں قریباً تین مہینے لگے اس کے پیچھے ضرور کچھ نہ کچھ راز ہوگا جو دونوں پارٹیاں عوام کے سامنے لانے میں ہچکچاہتے ہیں۔کئی حلقوں کی رائے ہے کہ ضرور پی ڈی پی نے نئے ڈیمانڈ بی جے پی کے سامنے رکھے اور ان ہی کی بنیاد پر دوبارہ الائنس کیا۔ کئی حلقے یہ بھی افواہیں اڑاتے ہیں کہ فی الحال محبوبہ مفتی نے اقتدار کو ترجیح دی اور سابق حکمرانوں کی روایات برقرار رکھنے پر آمادہ ہوئیں، باقی سب جو کہا گیا عوام کی بہبود اور فلاح کے لئے کرسی کو ترجیح نہیں دی جارہی ہے وہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔ کئی حلقوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ نہ کوئی نئے شرائط تھے اور نہ مطالبے بلکہ یہ محض وقت گذاری تھا۔ تاہم سنجیدہ حلقوں کا ماننا ہے کہ کچھ نہ کچھ تو ضرور ہوا جس کی پردہ داری ہو رہی ہے۔ سنجیدہ حلقوں کا ماننا ہے کہ ضرور پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان تشکیل حکومت کیلئے اور کئی نئے شرط تھے جن کو آپسی افہام و تفہیم کے ذریعے قبول کیا گیا۔ تاہم ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ان نئے مطالبات کو عوام کے سامنے ظاہر کرنے سے پارٹی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو اس لئے اس کو عوام کے سامنے ظاہر نہیں کیا جا رہا ہے۔ تاہم اتنا ضرور کہا جا رہا ہے کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہوا۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جو کچھ بھی ہوا کیا بی جے پی اس کو لاگو کر سکتا ہے اور محبوبہ مفتی کو بے شک وہ وزیراعلیٰ کے حقیقی منصب پر براجمان ہونے دیں گے،یا کچھ ایسا ہی ہو سکتا ہے کہ مرحوم مفتی محمد سعید کی طرح محبوبہ مفتی کو بھی خالص وزیراعلیٰ کی Designationعطا کریں گے، باقی سارے معاملات بی جے پی کے عہدیدار خود نپٹائیں گے۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت تھی۔ اس سے پہلے بھی جب ریاست میں مرحوم مفتی محمد سعید نے بی جے پی پی ڈی پی سرکار کو تشکیل دیا تھا، اس وقت بی جے پی کے ساتھ الائنس کرنے کے لئے اگرچہ پی ڈی پی کو عوام میں ناراضگی ہوئی ہے تاہم اُس وقت کے مخلوط سرکار کے سربراہ اور پی ڈی پی سرپرست وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید نے عوام کی ناراضگی دور کرنے کے لئے شروع سے ہی کچھ ایسے بیانات دئے جن سے عوام میں ناراضگی دور کرنے کی کوشش کی گئی۔مفتی محمد سعید نے وزیراعلیٰ بننے کے پہلے ہی روز ایک پریس کانفریس میں ریاست میں پُر امن انتخابات کرانے کا سہرا پاکستان، علیحدگی پسندوں اور جنگجوئوں کو دیا۔ جس پر کافی ہنگامہ کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں اس مسئلے کو سنبھالا ۔ اس کے بعد مفتی محمدسعید کے ایک اور بیان کہ اُن کی سرکار تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی عمل میں لائی جائے گی جن کے سنگین نوعیت کے الزامات نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے آزمائشی طور پر علیحدگی پسند رہنما، مسلم لیگ کے چیرمین مسرت عالم بھٹ کو رہا کیا گیا ۔ جس سے کافی شوروغل پیدا ہو گیا۔ ملک میں اپوزیشن نے سرکار کو گھیر لیا جس کے بعد پارلیمنٹ میں لگاتارمسرت عالم کی رہائی پر شورغل چل رہا تھا۔ تاہم مفتی محمد سعید نے اس بارے میں آگاہی دی کہ ریاست کی سرکار کو فیصلے لینے کا حق ہے۔ ایسے بیانات دینے سے ایک طرح کی پی ڈی پی کی ساکھ بنانے کی کوشش کی گئی۔ اُس وقت پی ڈی پی سرپرست اور اُس وقت کے وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کے بارے میں عوامی حلقوں میں سوال کھڑے کئے گئے کہ اگر وزیراعلیٰ کو قیدیوں کے بارے میں ایسے ٹھوس فیصلے لینے تھے تو پہلے اُن قیدیوں کی رہائی عمل میں کیوں نہیں لائی گئی جو غیر معروف تھے تاہم سب سے پہلے معروف علیحدگی پسند کی رہائی کو ہی کیوں عمل میں لایا گیا۔اس لحاظ سے عوامی حلقوں میں اور بھی سوالات کھڑے ہوئے تھے۔اب جبکہ دوبارہ دونوں پارٹیوں کے درمیان پھر سے الائنس کیا جا رہا ہے جس کی سربراہی محبوبہ مفتی کر رہی ہے اور اس طرح سے وہ ریاست کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بن رہی ہے دیکھنا یہ ہے کہ محبوبہ مفتی کا بی جے پی کے ساتھ پھر سے الائنس کرنے کا فیصلہ کون سا رنگ لایا گئے۔ سرکار کی مدت مکمل ہونے کے بعد محبوبہ مفتی بھی سمجھ جائے گے کہ بھاجپا کے ساتھ الانس کر کے وہ کیا کھویا اور کیا پایا؟