نقطہ نظر

محبوبہ جی اور گپکاربیٹھک ۔۔ اہداف کیا ہوں ؟

محبوبہ جی اور گپکاربیٹھک ۔۔ اہداف کیا ہوں ؟

آخر اب محبوبہ مفتی بھی ۱۴ ماہ کی مدت کے بعد رہا ہوئی ہیں،( مبارک کہہ نہیں سکتا میرا دل کانپ جاتا ہے ) یہ تو آپ کو یاد ہی ہوگا کہ عمر اور فاروق باپ بیٹے پہلے ہی رہا ہوچکے تھے اور انہوں نے اپنے سیاسی میدان کو نئے سرے سے ہموار کرنے کی راہیں اس اعلامئے سے کی تھیں جس سے اب عرف عام میں ’’گپکار اعلامیہ ‘‘سے موسوم کیا جاتا ہے اور اس منڈلی میں وہ سب لوگ ، وہ سبھی پارٹیاں موجود تھیں جنہیں ہم کشمیر اور بھارت دونوں جگہوں میں مین سٹریم کے نام سے جانتے ہیں ،، مینسٹریم کا جہاں تک میں مفہوم سمجھتا ہوں وہ یہی ہے کہ یہ لوگ الحاق ہند کو حتمی سمجھتے ہیں ،، یہ لوگ ۳۷۰ اور کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو پچھلے ستر برس کے دوران اپنے اپنے عہد کے دوران تھوڑا تھوڑا کرکے دیمک کی طرح چاٹ چکے ہیں۔ مرکزی سرکاروں کی خوشنودی کے لئے کالے قوانین سے عوام کو جمہوریت کا’’ غیر جمہوری ‘‘ تانڈو دکھا چکے ہیں اور شاید اسی لئے بی جے پی اور امیت شاہ نے یہ بیان دیا تھا کہ ۳۷۰ میں رہا کیا تھا بس اس کی حیثیت کاغذی ہی رہ گئی تھی ،ماضی کے ستر برس میں ان سب لوگوں کی ترجیحات اقتدار رہا ہے ، اور جیسا کہ قدرت کا اپنا منصوبہ ازل ہی سے رواں دواں ہے کہ ’’ وقت ‘‘ایک پیمانہ ہے جو اپنے مخصوص حالات اور لمحات میں ہر شئے کا محاسبہ کرتا ہے ، اور اس محاسبے کے رد عمل میں آج یہ سب لوگ ،یہ سب پارٹیاں گپکار میں جمع ہوکر اپنے لئے نئی سیاسی راہیں اور سیاسی چراگا ہیں تلاش کرنے پر مجبور ہوچکی ہیں ، لیکن یہ کوئی غیر فطری اور انہونی بات نہیں اور اس میں کسی بھی اچھنبے کا پہلو نہیں کیونکہ یہ اِن سیاسی پارٹیوں کی بقا اور ان کی زندگی سے جڑے ہوئے مسئلے ہیں ، بہرحال محبوبہ جی باہر آئی ہیں اور باہر آنے کے بعد ایک اچھا اور معقول بیان دیا ہے ، (فور جی ) کی بحالی جیسی بات نہیں کی ہے ، بلکہ اپنے بیانیہ میں اس بات کا پورا وزن ڈالا دیا ہے کہ ’’ راستہ کٹھن ہے اور ہم عزم کے ساتھ اس سے طے کریں گے ا ور یہ کہ ۳۷۰ کی بحالی تک جدوجہد جاری رکھیں گے ‘‘ پہلے ان کے بارے میں یہ چند باتیں ، محبوبہ جی سابقہ چیف منسٹر مفتی سعید کی صاحب زادی ہیں ، مفتی سعید مرکزی سرکار میں وی پی سنگھ کی کابینہ میں ہوم منسٹر تھے۔ مسلح شورش شروع ہوئی تو ان کی بیٹی روبینہ کو عسکریت پسندوں نے اغوا کیا ، جنتا دور ختم ہوا تو مفتی صاحب پھر کانگریس میں آئے اسی زمانے میں۱۹۹۶ میں پہلی بار محبوبہ جی سیاسی ستارہ بن کر چمکنے لگیں جب کانگریس ٹکٹ پر اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا اور بجبہاڑہ اپنی آبائی جگہ سے منتخب ہوئیں ، لیکن صرف تین سال بعد کانگریس کو خیر باد کہا اور پی ڈی پی کی بنیاد ڈالی اس تنظیم کی تشکیل اور تنکا تنکا جوڑنے میں اپنے والد صاحب کے سنگ سنگ بڑی محنت اور مشقت اٹھائی ، صرف چھ سال بعد مفتی سعید جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ بن گئے ، اور اس منزل تک پہنچنے میں سب سے کم وقت اسی پارٹی کو لگا جس کی بہت ساری اپنی وجوہات ہیں( ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور )۲۰۱۴ میں بی جے پی نے مرکز میں اقتدار سنبھالا ، جموں میں بی جے پی اور کشمیر میں پی ڈی پی نے بھاری اکثریت حاصل کی ، اور مفتی نے کشمیری منڈیڈیٹ کے خلاف بی جے پی سے ہاتھ ملایا اور پہلی بار اس پارٹی کو کشمیری سر زمین میں پناہ گاہیں دیں ، مفتی انتقال کر گئے تو محبوبہ نے کئی مہینوں کی کشمکش کے بعد بی جے پی کے اشتراک سے اقتدار سنبھالا جو اس کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی کیونکہ آثار و قرائن سے بالکل واضح تھا کہ بی جے پی وعدہ وفا کرنے کی رسم اور روائت سے ہی نا آشنا ہے اور اس نے اچانک محبوبہ جی کی حمایت واپس لے کر انہیں کرسی سے محروم کیا بی جے پی کے ساتھ اشتراک کے اس فیصلے میں ہمارے تجزئے کے مطابق اس کا اندرون اور احساس شاید ہم آہنگ نہیں تھا ہم نے بھی اپنے کئی آرٹیلوں میں تحفظات کا اظہار کیا تھا لیکن کئی ڈرامائی نوعیتوں نے انہیں اس اشتراک کو بنا کسی شرط کے قبول کرنے پر آمادہ کیا تھا ، اور اس سارے کھیل کے پیچھے ’’اقدار کی ہوس ‘‘کے دو الفاظ تشریح کے لئے کافی ہیں ، اور ان دو الفاظ نے اپنے عہد کے سیاسی قدآوروں کی شان اور آن بان بھی اتنی گھٹا دی کہ اب تاریخ کے پنوں پرسیاہ حروف سے لکھی ہوئی تحریر کے سوا کچھ نہیں، یہ ہماری ستر برس کی تاریخ ہے کہ اقتدار کی بہت زیادہ بڑھی ہوئی جستجو اور آرزو نے ہمارے ان کرم فرماؤں میں دبی زباںمیں بھی کشمیر مخالف قوانین اور خصوصی آئینی درجے کے حق میں بات کرنے کا حوصلہ نہیں چھوڑا ۔ بلکہ حق یہی ہے کہ اقتدار کی کرسی ہی ایسی شرائط سے بندھی تھی کہ ہر لمحہ ہمارے چیف منسٹروں کو یہ خوف اور ڈرستاتارہا کہ کرسی اب گئی کہ تب گئی ،اور یہ ایک ایسی حکمت رہی جس نے کسی بھی چیف منسٹر کو کھل کر کام کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا،،پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس اور دوسری مینسٹریم میں کوئی فرق سوائے اس کے نہیں کہ یہ سب ایک کرسی کے پیچھے اپنے لگ الگ ٹریک پر اپنی اپنی ٹیم کے ساتھ تعاقب کرتی ہیں ، اور آج اس سٹیج پر جو اسوقت موجود ہے سب تعاقب کرنے والی جماعتوں سے ’’ کرسی‘‘ معدوم ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ اب کوئی ایسا لائحہ عمل مرتب کیا جائے اور ایسے راستے تلاش کئے جائیں کہ کم سے کم کرسی نظر آنے لگے ،،، یہ ایک نقطہ نگاہ ہے اور اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اب تمام مینسٹریم اپنی اصل حیثیت اور مقام سے واقف ہوکر ، اس جادؤئی ہالے سے باہر آچکے ہوں جو ستر برس کی وفاؤں کے صلے میں انہیں حاصل ہوا ہے ، ان کے لئے یہ محظ قید اور نظر بندی کا مسئلہ نہیں اگر لوگ ایسا سمجھتے ہیں ۔بلکہ اس سے زیادہ اور بہت زیادہ یہ کہ وہ جس بھرم میں جی رہے تھے وہ ٹوٹ چکا ہے اور یہ بھی کہ جس نخلستان میں وہ ایک طویل عرصے تک محو سفر رہے ہیں وہ ایک فریب تھا اور ایک سراب کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوا ،اس سٹیج پر اور اس موڑ پرضمیر اور احساس کی ایک رمق کی موجودگی بھی سارے وجود کو چکنا چور کرنے کے لئے کافی ہونی چاہئے اور اگر یہ سب بھی نہیں توبھی سنبھلنے کے لئے ایک مدت درکار ہوگی۔ محبوبہ جی نے بڑے جذباتی الفاظ استعمال کرتے ہوئے یہ واضح کردیا ہے کہ ہماری جدوجہد جاری رہے گی اور ہم عزم کے ساتھ اس منزل کی طرف ( ۳۷۰ اور ۵۳ اے ) کی طرف محو سفر رہیں گے ، میرے خیال میں اس سے بھی زیادہ یہ بات اہم ہے کہ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی ہزاروں قربانیوں کو یاد رکھیں جو ہم نے دی ہیں ‘‘ عوام نے ہزاروں تو کیا بلکہ ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے سے زیادہ جانوں کا نذرانہ دیا ، پچھلے ستر برس سے ایک انتشاری اور اضطرابی ، زندگی گذاری ہے ، مختلف ادوار میں نیلوفر آسیہ جیسے ریپ اور دوہرے قتل ہوئے ہیںاور محبوبہ جی کے دور میں بھی ایک سو سے زیادہ نوجوانوں نے اپنی عزیز جانوں سے ہاتھ دھو لئے۔ یہاں عملی طور پر سینکڑوں جلیانوالہ باغ وجود میں آچکے ہیں اور قریہ قریہ قبرستانوں میں نوجوانوں کی لاشیں دفن ہیں ، محبوبہ کے دور میں پیلٹ گنوں سے سینکڑوں نوجون اپاہج ہوکر کس مپرسی کی زندگی گذار رہے ہیں ، تفصیل طویل ہے اور یہ میرا موضوع نہیں ، لیکن اس اہم جملے سے عوام کو کیا پیغام جاتا ہے ؟سوال یہ ہے کہ عوام کو انہی لوگوں کے جھنڈے تلے کس منزل کی جانب روانہ ہونے کے لئے قربانیوں کی تیاری کرنی ہے؟ ،، یہ سفر شروع کرنے سے پہلے منزل کا تعین ہونا چاہئے اور منزل وہ ہو جو ہماری اور آنے والی نسلوں کی ضمانت بھی فراہم کرتی ہو ۔اگر مینسٹریم کی منزل اور اہداف وہی ہیں جو پہلے تھے ، تو یہ منزل وہ کبھی اور کسی بھی وقت لڑائی کے بغیر بھی جیت ہی لیں گے کیونکہ بہر حال بی جے پی کو بھی ایک دن جلد یا بدیر جمہوری چولا پہننا ہی پڑے گا اوراگر وہ یہ چوغہ نہیں پہن پائے توبھی ملکی سیاست کے سمندر میں اچانک سو نا میاں کوئی غیر متوقع بات نہیں ، تب یہ لوگ ماضی کی طرح انتخابات میں حصہ لے کر منزل (کرسی)تک پہنچ سکتے ہیں ، لیکن اگر گپکار اعلامیہ میں کچھ اور اہداف کا تعین ہوتا ہے تو یقینی طور پر کشمیری عوام کو اپنی زندگی اور اپنے تحفظ اور تشخص کی لڑائی میں نئے سرے سے لام بند ہوئے بغیر کوئی چارہ نہیں ، عوام ۵اگست سے ا س قدر خاموش کیوں ہے ؟ سینکڑوں نئے قوانین پاس ہورہے ہیں اور کشمیری عوام ہونقوں کی طرح اپنے لب کیوں سی چکے ہیں ؟ ڈر ۔ خوف یا پرائیوں سے زیادہ اپنے لوگوں کی مکاریاں ، خود غرضیاں اور فریب اس کے لئے ذمہ دار ہے ؟، مینسٹریم کو یہ سمجھنے اور اس کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے ،اور یہ ادراک ماضی میں جھانکنے کے بغیر نہیں ہوسکتا ، ۔ نئے حالات میں ۳۷۰ اور ۳۵ اے اب کوئی منزل نہیں ہوسکتی ،، کیونکہ اس دور ِ حکومت میں یہ ناممکن ہے کہ ان کی گاڑی پیچھے سفر شروع کرے بلکہ انہیں گھڑی کی سوئیوں کی مانند آگے ہی سفر کرنے کی مجبوری ہے،حالات اور واقعات جو ابھر کر آرہے ہیں وہ نئی جہتوں اور سمتوں کی عکاس ہیں ، مینسٹریم اگر سنجیدگی سے غور و فکر کریں تو اپنے ہی مقام یعنی مینسٹریم ہی رہنے اور آئین ہند کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی وہ اپنی منزل کا نیا تعین کرسکتے ہیں ۔ ۳۷۰ وغیرہ کی دہائی دئے بغیر جس کو ان لوگوں نے خود اپنے ہاتھوں سے کھوکھلا کیا تھا ۔سے بڑی بات کر سکتے ہیں جس پر عزم اور یقین محکم کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا اور وہ کہ ان تین شرائط کی بات کی جائے جن پر جموں و کشمیر کا الحاق آئینی اور تاریخی طور مسلم ہے دفاع ،کرنسی اور رسل و رسائل ۔،،،ہم سب ان امورات سے واقف ہیں ، مجھے لگتا ہے کہ یہ کٹھن منزل ضرور ہے اور فی الحال اگر آپ کو ناقابل حصول بھی لگے تو اس دور میں قابل حصول بھی کچھ نہیں ، پھر جس عزم اور قربانیوں کا تذکرہ ہورہا ہے وہ کس لئے، جب ہمارے الحاق میں پورا سو روپیہ ڈیپازٹ ہے تو ہم دس پیسے لینے کی بات پر راضی کیوں ہوجائیں ؟، پورے کے پورے سو کی بات کرو ، اور اس کے لئے عزم تو پہلے مینسٹریم کو کرناہوگا، پہلے تو ان لوگوں کو ہی رخت سفر باندھنا ہے ،اورقردار تک پہنچنے کے شاٹ کٹس کو تیاگ دینا ہوگا ۔ گپکار میں کوئی ٹھوس لائحہ عمل ابھر کر سامنے آئے جو عوام کی جستجوؤں کی عکاس ہو ناممکن سی بات ہے ۔ اب نہ تو نمک کی ڈلیاں فریب دیں گی ، نہ ایجنڈا آف الائینس اور نہ کاغذی اٹانومی ہی عوام کی خاموشیاں توڑ سکتی ہے ،دنیا کے سارے لیڈر ناقابل حصول کو قابل حصول بنانے کی تگ و دو کرتے ہیں اور ہمارے لیڈر صاحباں اپنی تحریری اور قابل حصول منزل کو اقتداری ہوس۔ راہ کی طوالت اور خوف کی وجہ سے خود ہی ،کوڈے دانوں کی نذر کرکے اپنے لئے آسان اور آرام دہ راستے اختیار کرتے ہیں ، شاید اب اس طرح کا میر کارواں خود بھی ناقابل قبول ہوجائے۔