سرورق مضمون

محبوبہ مفتی کی نظری بندی ختم / گپکار ڈکلریشن پر پھر میٹنگ، جموں لیڈرشپ کی غیر حاضری

سرینگر ٹوڈےڈیسک
جمعرات کومین اسٹریم پارٹیوں کا ایک ہنگامی اجلاس این سی رہنما ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر منعقد کیا گیا ۔ اس اجلاس میں مبینہ طور کشمیر خطے سے تعلق رکھنے والی تمام مقامی مین اسٹریم پارٹیوں کے رہنمائوں نے شرکت کی ۔ اجلاس مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹر فاروق نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پچھلے سال گپکار ڈکلریشن کے نام سے جاری کئے گئے بیان کے لئے جدو جہد جاری رکھی جائے گی ۔ تمام پارٹیاں ایک ہی جھنڈے تلے حقوق حاصل کرنے کے لئے ایک ساتھ آگے چلیں گی ۔ اس موقعے پر اعلان کیا گیا کہ اس طرح کے اجلاس آگے بھی جاری رہیں گے اور تمام پارٹیاں آگے بڑھنے کے لئے لائحہ عمل طے کریں گے ۔
گپکار اجلاس کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں پی ڈی پی سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے شرکت کی ۔ محبوبہ مفتی کی یہ شرکت اس وجہ سے اہم مانی جاتی ہے کہ محبوبہ جی نے اپنی نظر بندی ختم ہونے کے بعد پہلے سیاسی اجلاس میں شرکت کی ۔ یاد رہے کہ محبوبہ جی کو 14 مہینوں کی مسلسل نظر بندی کے بعد اس وقت رہا کیا گیا جب اگلے روز اس حوالے سے ایک مقدمے کی شنوائی سپریم کورٹ میں ہونے والی تھی ۔ سپریم کورٹ میں مقدمے کی شنوائی سے پہلے ہی حکومت نے ان پر لگائے گئے پبلک سیفٹی ایکٹ کو واپس لینے کا اعلان کیا ۔ اس طرح سے محبوبہ مفتی کی طویل نظر بندی اچانک اپنے اختتام کو پہنچ گئی ۔ یاد رہے کہ محبوبہ مفتی کو پچھلے سال دوسرے بہت سے مین اسٹریم لیڈروں سمیت 4 اگست کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب مرکزی سرکار نے اگلے روز کشمیر کو حاصل خصوصی اختیارات ختم کرکے مرکزی انتظام والا علاقہ بنانے کا من بنایا تھا ۔ 5 اگست2019 کو ہندوستانی آئین میں موجود دفعہ 370 اور دفعہ35A کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ اس فیصلے سے کشمیر کو حاصل خصوصی درجہ اور مخصوص شہریت کے حقوق ختم ہوگئے ۔ اس کے ساتھ ہی جموں کشمیر کو ریاست ہونے کا درجہ ختم ہوگیا ۔ لداخ کو جموں کشمیر سے الگ کرکے دونوں خطوں کو مرکز کے زیرانتظام علاقہ قرار دیا گیا ۔ جموں کشمیر کے لئے اپنی اسمبلی ہونے کا اعلان کیا گیا ۔ تاہم لداخ کے لئے اس طرح کی اسمبلی کا آئینی حق ختم کیا گیا ۔اس طرح کے بہت سے فیصلے لئے جانے سے پہلے بہت سے علاحدگی پسندوں کے ساتھ مین اسٹریم پارٹیوں کے تمام لیڈروں کو گرفتار کیا گیا ۔ گرفتار کئے گئے بہت سے لیڈروں کو خصوصی جیلوں میں بند کیا گیا۔ جبکہ باقی رہنما اپنے گھروں میں نظر بند رکھے گئے ۔ نظر بند کئے جانے والے لیڈروں میں تین سابق وزراء اعلیٰ بھی شامل تھی۔ یہ وزراء اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ ، ان کے بیٹے عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی ہیں ۔ ڈاکٹر عبداللہ اور عمر عبداللہ کو کئی مہینوں کے بعد رہا کیا گیا ۔ اس کے ساتھ ہی تمام دوسرے لیڈروں کو بھی رہا کیا گیا ۔ پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس میں وزارت داخلہ کی طرف سے بیان دیا گیا کہ کشمیر میں اب کوئی بھی مین اسٹریم رہنما نظر بند نہیں ہے ۔ حالانکہ محبوبہ مفتی ابھی بھی نظر بند تھی ۔ اس کے ردعمل میں ان کی بیٹی التجا مفتی نے سپریم کورٹ میں درخواست دے کر محبوبہ مفتی کی نظر بندی ختم کرنے کی گزارش کی ۔ اس حوالے سے شنوائی ابھی جاری تھی کہ سرکار نے محبوبہ مفتی کی نظر بندی ختم کرنے اور انہیں رہا کئے جانے کا اعلان کیا ۔ محبوبہ مفتی کی رہائی کی خبر سنتے ہی ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ نے ان کی رہائش گاہ پر جاکر ان سے ملاقات کی ۔ کہا جاتا ہے کہ وہیں پر ڈاکٹر فاروق اور عمر نے انہیں گپکار اجلاس میں شرکت کی دعوت دی جسے محبوبہ جی نے قبول کیا ۔ اس کے اگلے دن فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر یہ اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں کئی طرح کے فیصلے لئے گئے ۔ اس حوالے سے فاروق عبداللہ نے پریس کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گپکار ڈکلریشن اب کے بعد عوامی اتحاد گپکار ڈکلریشن کے نام سے منسوب کیا جائے گا ۔ انہوں نے محبوبہ مفتی کی رہائی کو خوش آئند قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ تمام دوسرے سیاسی قیدیوں کو فوراََ رہا کیا جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ متحدہ پارٹیوں کی جدوجہد ایک آئینی جدوجہد ہے جو اس وقت تک جاری رہے گی جب تک 5 اگست2019 سے پہلے کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو بحال نہیں کیا جائے گا ۔ محبوبہ مفتی نے متحدہ اجلاس میں شرکت سے پہلے بجبہاڑہ جاکر اپنے والد مرحوم مفتی محمد سعید کی قبر پر حاضری دی ۔ انہوں نے وہاں پھول چڑھائے اور مبینہ طور جذباتی ہوکر آنسو بہائے ۔ ان کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کے کئی حامیوں نے ان کی رہائش گاہ پر آکر خوشی کا اظہار کیا ۔ اس دوران پی ڈی پی کے بہت سے کارکن انہیں ملنے کے لئے ان کی رہائش گاہ پر آئے ۔ ڈاکٹر فاروق اور عمرعبداللہ کے علاوہ پیوپلز کانفرنس کے سجاد غنی لون نے ان سے ملاقات کرکے ان کی خیر وعافیت پوچھی ۔ لون ان کی رہائی پر انہیں مبارکباد دینے آئے تھے ۔ محبوبہ مفتی نے رہا ہوتے ہی عوام کے نام ایک آڈیو پیغام جاری کیا ۔ پیغام میں محبوبہ جی نے کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کے فیصلے کو عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کا قدم قرار دیا ۔ انہوں نے اسے کشمیریوں کے ساتھ کیا گیا ایک مذاق قرار دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی کشمیری اس طرح کے مزاق کو برداشت نہیں کرسکتا ہے ۔ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ لوگوں کو اپنے حقوق مانگنے کے لئے اکٹھے جدوجہد کرنے کی اپیل کی ۔
بی جے پی نے متحدہ پلیٹ فارم کی مخالفت کی ہے ۔ اس حوالے سے بیان میں بی جے پی رہنما کا کہنا ہے کہ اتحاد میں سب کچھ ہے البتہ عوام نہیں ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے عوام کو کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مرکز کے لئے ایسا سخت قدم اٹھانے کے لئے این سی اور پی ڈی پی نے راستہ ہموار کیا ۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے جو خیالات سامنے آئے ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ اس اتحاد سے زیادہ پر امید نہیں ہیں ۔ کئی حلقوں کا کہنا ہے کہ مین اسٹریم جماعتوں سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا ہے ۔ انہیں اقتدار سے غرض ہے باقی کچھ حاصل کرنے کی ان میں شمتا نہیں ہے ۔ بہت سے لوگ دیکھو اور انتظار کرو کے حق میں ہیں ۔