اداریہ

محبوبہ کا وزیراعلیٰ بننا…؟

قریباً تین مہینے پہلے کی بات ہے جب 7 جنوری 2016 کو ریاست جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید نے نئی دہلی کے میڈیکل انسٹی چیوٹ میں وفات پائی۔ یقینی طور ان کی موت سے ان کی پارٹی کے اندر صف ماتم بچھ گیا، مفتی سعید کی وفات کے بعد اکثر حلقوں میں اس بات کا چرچہ بھی ہو رہاتھا کہ کشمیر سیاست میں ایک نئی تبدیلی آنے ہی والی ہے اور محبوبہ مفتی کے لئے کانٹوں کا تاج سجنے جا رہا ہے تاہم مرحوم مفتی محمد سعید کی صاحبزادی محبوبہ مفتی فوری طور یہ کانٹوں کا تاج پہننے کے لئے تیار نہیں ہوئیں۔ محبوبہ جی نے پہلے خاموشی اختیار کی اور اس کے بعد جب خاموشی توڑ دی تو مرکز کے سامنے یعنی پارٹنر جماعت کے سامنے کئی نئے مطالبے سامنے رکھے۔ تقریباً ایک مہینے سے زیادہ کے عرصے کو ان مطالبات کی کسی بھی طرح کی کوئی تصدیق نہ کی گئی اور نہ عوام کے سامنے لانے کی کوشش کی گئی تاہم جب نامہ نگاروں نے کئی بار پارٹی کے سینئر لیڈروں سے یہ سوال پوچھنے کی کوشش کی کہ ان کے پاس کون سے نئے مطالبات ہیں جو بی جے پی کے سامنے تشکیل حکومت کی شرط پر رکھی گئی ہیں۔ تو ان لیڈروں کا جواب یقینی طور یہی تھا کہ پارٹی نے کوئی نیا مطالبہ یا شرط نہیں رکھا ان پارٹی لیڈروں نے اگرچہ شروع سے ہی نئے مطالبات یا شرائط رکھنے سے انکار کیا تاہم گذشتہ ہفتہ محبوبہ مفتی نے نئی دہلی میں بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ سے ملاقات کی اور کہا جا رہا ہے کہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے سامنے تشکیل حکومت کیلئے کئی نئے شرائط رکھے تھے جس کو بعد میں بی جے پی کے جنرل سیکریٹری رام مادھو نے صاف کیا کہ بی جے پی پی ڈی پی کا کوئی نیا شرط ماننے کیلئے تیار نہیں ہے، اس طرح سے پارٹی صدر اور وزیراعلیٰ عہدے کی امیدوار محبوبہ مفتی دہلی سے نامرادلوٹ کے سرینگر واپس لوٹ آئی۔ بی جے پی کے نئے شرائط پر حکومت تشکیل دینے کے انکار کے بعد ایک طرف محبوبہ مفتی سرینگر نامراد ہی واپس لوٹتی ہے تو دوسری طرف پارٹی کے دیگر سینئر لیڈران نے ڈھونڈرا پیٹنے کی کوشش کی کہ پی ڈی پی کے بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے کے لئے کوئی نئے مطالبے اور شرائط نہیں ہیں اس طرح سے پارٹی نے محبوبہ مفتی کا دہلی سے نا مراد لوٹنے کے بعد اور ایک رسوائی سہنے کی تھان لی۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر پی ڈی پی کو بی جے پی کے سامنے اول سے ہی کوئی نیا مطالبہ یا شرط نہیں تھا تو حکومت بنانے میں اتنا دھیر کیوں لگی اس کی وجہ کیا ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا عوام بے صبری سے جواب ڈھونڈ رہا ہے۔
اب رہا سوال محبوبہ مفتی کے وزیراعلیٰ بننے کا تو ظاہر ہے ان کی اپنی لابی اقتدار میں شریک ہو گا اور نئے چہرے سامنے آئیں گے ، جس سے یہاں کی سیاست میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آنے کا امکان ہے، محبوبہ مفتی کیلئے وزیراعلیٰ کے بطور تاجپوشی کو ان کے لئے کانٹوں کا تاج قرار دیا جار ہا ہے کیونکہ ان کی اب تک علیحدگی پسندوں کے حوالے سے بھی ایک نرم پالیسی رہی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعلیٰ بننے کے بعد ان کی یہ پالیسی جاری رہے گی۔ ویسے ان کی یہ پالیسی جاری رہنا بہت ہی مشکل ہے، اس وجہ سے ان کی عوامی حمایت میں کمی آنے کی بات کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔