خبریں

مخلوط حکومت کا قیام جوابدہ سرکار فراہم کرنے کیلئے ہو ا

پی ڈی پی اوربی جے پی کے درمیان حکومتی اتحاد ریاستی عوام کے مفاد میں ہوا ہے تاکہ جموں وکشمیر کے عوام کو کورپشن سے پاک ،مستحکم اور جوابدہ سرکار ملے۔افسپا کی منسوخی کو مرکزکے حد اختیار کا معاملہ قرار دیتے ہوئے بھاجپا نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ موجودہ حالات’افسپا‘ ہٹانے کے حوالے سے سازگار نہیں ہے۔پارٹی کے سینئر لیڈر اور نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے ایک انٹر ویو میں کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں ابھی حالات افسپا کی منسوخی کے حوالے سے سازگار نہیں ہیں۔ان کا کہناتھا کہ بھاجپا اور پی ڈی پی مخلوط حکومت اس قانون کو ہٹانے کے حوالے سے کسی جلد بازی میں نہیں ہے۔ ان کا کہناتھا کہ ریاستی سرکار کے پاس افسپا کی واپسی کا کوئی منصوبہ ز یر غور نہیں ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر سے فی الحال افسپا ہٹانے کے بارے میں حکومت نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ان کا کہناتھا کہ وادی کشمیر میں اب بھی ملی ٹینسی کے واقعات رونما ہورہے ہیں ایسے میں افسپا کی منسوخی ناممکن ہے۔ان کا کہناتھا کہ جموں و کشمیر میں بدعنوانی کا خاتمہ اور جوابدہ سرکار ریاستی عوام کو فراہم کرنے کیلئے ہی بی جے پی – پی ڈی پی کے درمیان حکومتی اتحاد ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی صورتحال اس بات کی اجازت نہیں دیتی ہے کہ افسپا میں ترمیم یا اس کو واپس یا پھر ہٹایا جائے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ریاست میں پی ڈی پی بی جے پی حکومت کا قیام صرف اس لئے ہوا ہے تاکہ ریاست میںعوام کو کورپشن سے پاک ،مستحکم اور جوابدہ سرکار فراہم ہو۔وادی میںعسکری حملوں میں آئی تیزی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست میں گزشتہ ماہ سے کچھ حد تک عسکری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ، تاہم حکومت اور سیکورٹی فورسز اس طرح کی کارروائی کا جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔ان کا کہناتھا کہ پی ڈی پی اور بھاجپا کو افسپا پر کوئی بھی فیصلہ لینے سے قبل سیکورٹی صورتحال کا جائیزہ لینا ہوگا۔نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو ابھی تک جموں وکشمیر میں امن وامان پوری طرح سے قائم نہیں ہوا جبکہ کچھ قوتیں یہاں کے امن کو بگاڑنے کے درپے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت قومی مفاد کے لئے کوئی سودا نہیں کرے گی اور عسکریت پسندوں کا سخت جواب دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ فوج کو چوکس کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کا بھر پور جواب دیا جائے خاص کر سرحد پر ہو رہی دراندازی اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کو روکنے کے لئے سرحد پر تعینات فوج چوکس ہے اور روزانہ تلاشی کاروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔