اداریہ

مخلوط حکومت کے 100دن

ایک طرف اقتدار میں رہ رہے لیڈران ریاست میں حکومت کے سودن کی کامیابی کا خلاصہ پیش کر رہے ہیں تو دوسری طرف کئی لیڈران انکے اوپر منہ توڑ جوابی وار کرتے ہیں البتہ عام لوگ زد میں آکر سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ایک طرف رواں ماہ کی8 تاریخ کو نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ مفتی حکومت کی قیادت والی مخلوط حکومت کے ابتدائی 100 دنوں کو کامیاب قرار دیتا ہے تو دوسری طرف خزانہ خالی ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا کرنے کا ڈھونڈورا بھی پیٹ رہا ہے۔ ان کے مطابق کچھ متنازعہ معاملات کی وجہ سے حکومتی امور متاثر ہوئے لیکن ان تمام کو حل کر دیا گیا اور یقینا کہا جا سکتاہے کہ حکومت کے 100 دن کامیاب رہے البتہ پی ڈی پی ۔بی جے پی حکومت کو سابق مخلوط حکومت کا پیدا کردہ مسائل کا انبار ورثہ میں ملا۔ اس دوران حکمران جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر الطاف بخاری نے اس بات کا اعتراف کیا کہ حکومت ترقیاتی محاذ پر تاحال ناکام ہے اور پہلی بار کھلے عام نائب وزیراعلیٰ اور دیگر کابینی ساتھیوں کو کشمیر میں باز آبادکاری سمیت کئی اہم مسئلوں پر تنقید کا نشانہ بنایا۔اس دوران حزب اختلاف کے لیڈر، نیشنل کانفرنس کاگذار صدر اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی مخلوط سرکار کے سو دن کا لیکھا جوکھا پیش کرتے ہوئے مخلوط سرکار کی کارکردگی کا پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کیا جس میں کہا گیا پی ڈی پی نے سیاسی طور بھاجپا کے سامنے سرنڈر کیا اور انتخابات کے دوران عوام سے کئے گئے وعدوں پر یوٹرن لیا۔
بات روز روشن کی طرح عیاں ہے نیشنل کانفرنس کی لیڈر شپ نے ریاست کی مخلوط سرکار کی کارکردگی کا جو پوسٹ مارٹم کیا، اس پوسٹ مارٹم رپورٹ سے کوئی انکارنہیں کر سکتا، البتہ ہمارا یقین ہے پی ڈی پی کو مرکز کی بھاجپاسرکار سے جو امیدیں وابستہ تھیں وہ امیدیں ماندھ پڑ رہی ہیں اور آج حالت یہ ہے کہ پی ڈی پی، بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر کے سرکار بنانے پر سخت پچھتا رہی ہے، البتہ اب اسے نہ پیچھے ہٹنے میں وارہ ہے اور نہ آگے بڑھنے کے سوا کوئی چارہ ہے۔ اورآج عوامی حلقوں کی بھی رائے ہے کہ پی ڈی پی ۔بی جی پی مخلوط سرکار ہر محاذ پر ناکام رہی ۔ البتہ اقتدار میں رہ رہے لوگوں کو کامیابی ہی کامیابی نظر آرہی ہوگی۔
رہی بات پی ڈی پی بی جے پی سرکار کی نے تو ہم نے پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ آئندہ یعنی اگر ان چھ برس کی مدت اقتدار میں اچھی طرح سے گذارے تو بعد از چھ برس اس کے سخت نتائج نکل سکتے جس کا انداہ اقتدار میں رہ رہے لوگوں کو بھی ہوگا ،اس کے لئے خاص کر پی ڈی پی کو تیار رہنا ہوگا ۔ ویسے کہتے ہیں نا جووٹیو سو کھٹیا۔ عندیہ تو یہی ہے کہ بی جے پی ، پی ڈی پی کے لئے مہنگا ثابت ہو رہی ہے اور بی جے پی ڈی پی کی جو درگت بنائی رہی اس سے پارٹی کی ساکھ کافی حد تک متاثر ہو رہی ہے۔ اس بارے میں ہم نے پہلے ہی بتایا پی ڈی پی قیادت کو غیرت ،ضمیر اور حس بی جے پی کے پاس گروی رکھنا ہے تب ہی تو وہ اقتدار میں رہنے دیں گے البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے اگر اسمبلی الیکشن کے بعد سرکار بنانے کے لئے بی جے پی نے عمرعبداللہ کی پیشکش ٹھکرائی نہیں ہوتی اور ریاست پر بی جے پی اور نیشنل کانفرنس کی مخلوط سرکار ہوتی تو نیشنل کانفرنس کی بھی بی جے پی نے یہی حالت بنا رکھی ہوتی اور پی ڈی پی نے اپوزیشن میں رہ کر بی جے پی اور نیشنل کانفرنس کی مخلوط سرکار کا یہی پوسٹ مارٹم کیا ہوتا۔