سرورق مضمون

مخلوط سرکارکو اپنے انجام کی فکر لاحق / الیکشن کا بخار سر چڑھ کے بول رہاہے!!

مخلوط سرکارکو اپنے انجام کی فکر لاحق / الیکشن کا بخار سر چڑھ کے بول رہاہے!!

مخلوط سرکارکو اپنے انجام کی فکر لاحق /
الیکشن کا بخار سر چڑھ کے بول رہاہے!!

ڈیسک رپورٹ
این سی اور کانگریس کے اشتراک سے قائم ریاستی سرکار ان دنوں بڑی پھرتی سے اقدامات کررہی ہے ۔پہلے موبائل فونوں میں پری پیڈ سیموں پر مسیج بھیجنے پر پابندی ختم کردی گئی۔ اس کے بعد ایک اورکابینہ اجلاس میں سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کی وہ نئی پالیسی ختم کردی گئی جو اسی حکومت نے دو سال پہلے بنائی تھی۔ اب تازہ خبر یہ ہے کہ سرکاری ملازموں کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں دوسال بڑھادئے گئے۔ اب سرکاری ملازم اٹھاون سال کے بجائے ساٹھ سال کی عمر مکمل کرکے سبکدوش ہونگے۔ اسی کے ساتھ بے روزگار نوجوانوں کے لئے سرکاری ملازمت میں بھرتی کے لئے عمر کی حد چالیس سال کردی گئی۔ یہ ایسے فیصلے ہیں جو پارلیمانی انتخابات میں سخت اور کراری شکست کے بعد لئے گئے ۔ یاد رہے کہ مخلوط سرکار میں شامل این سی اور کانگریس نے مشترکہ طور یہ انتخاب لڑا تھا ۔ وادی کی تین نشستوں پر این سی کے امیدوار کھڑے کئے گئے جبکہ جموں ، لداخ اور اودھم پور کی نشستوں پر کانگریس کے امیدوار الیکشن لڑرہے تھے ۔ یہ چھ کہ چھ نشستیں اپوزیشن کو ملیں اور حکومتی امیدواروں کو سارے حلقوں میں شکست فاش ہوئی ۔ انتخاب ہارنے کے بعد جائزہ لیا جانے لگا کہ لوگ حکومت سے بدظن کیوں ہیں۔اس کے بعد حکومت نے اپنی سابقہ غلطیاں درست کرنے کا اعلان کیا اور اپنے کابینہ اجلاسوں میں یہ اہم فیصلے لئے۔ کہا جاتا ہے کہ ایسے فیصلے کرنے میں وزیراعلیٰ عمرعبداللہ پیش پیش رہے اور ان کی ذاتی خواہش پر یہ فیصلے لئے گئے ۔ اس حوالے سے این سی اور کانگریس کے لیڈروں کے بیانات الگ الگ ہیں۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ تازہ اقدامات اسی کی خواہش پر لئے گئے ۔ لیکن این سی لیڈر بتارہے ہیں کہ یہ تمام فیصلے اس کے وزرانے کئے ۔حقیقت چاہئے کچھ بھی ہے تاہم یہ بات واضح ہے کہ حکومت یہ اقدامات آنے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر کئے جارہے ہیں ۔ حکومت پر آنے والے انتخابات کا بخار سرچڑھ کر بول رہاہے ۔ اندازہ ہے کہ آئندہ چند دنوں کے دوران مزید کئی اقدامات کئے جائیں گے ۔ اس حوالے سے کہا جارہاہے کہ ڈیلی ویجروں کو مستقل کیا جائے گا اور بجلی فیس میں کمی کی جائے گی ۔ حکومت چاہتی ہے کہ عوامی راحت رسانی کے کئی ٹھوس اقدامات کئے جائیں تاکہ آنے والی اسمبلی انتخابات میں عوامی ہمدردی حاصل ہو جائے۔ان اقدامات سے کچھ حاصل ہونے والا ہے یا نہیں، یہ اسمبلی انتخابات کے بعد معلوم ہوگا ۔ تاہم حکومت اپنے آخری ایام میں عوام کے لئے کچھ کرنے کے لئے سنجیدہ نظر آتی ہے ۔
کابینہ اپنے ہر اجلاس میں کوئی نہ کوئی نیا فیصلہ لیتی ہے اور عوام کو خوش کر نے کے لئے نئے اقدامات کررہی ہے ۔ بہ ظاہر اس سے عوام خا ص کر سرکاری ملازم بڑے خوش نظر آتے ہیں۔ لیکن اس وجہ سے حکومت میں شامل دو بڑی جماعتوں کے درمیان تناؤ پیدا ہورہا ہے ۔ این سی چاہتی ہے کہ عوام میں اپنی ساکھ بہتر بنائے ۔ لیکن کانگریس اس سے خوش نہیں ہے۔کانگریس کے ریاستی صدر سیف الدین سوز نے وزیراعلیٰ کی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملازموں کے حق میں جو کچھ دیا گیا وہ ان کا اپنا منصوبہ تھا ۔ ادھر نائب وزیراعلیٰ تارا چند کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ غلام نبی آزاد کی مرضی کے مطابق ہوا ۔ اس سے ظاہر ہے کہ این سی اور کانگریس کے درمیان تعلقات ٹھیک نہیں ہیں اور دونوں ایک دوسرے سے رشتہ توڑنا چاہتے ہیں۔ این سی لیڈروں کا خیال ہے کہ کانگریس کے خلاف جو لہر پائی جاتی ہے اس کا اثر اسمبلی الیکشن تک رہے گا اور کانگریس کے خلاف اس لہر کی وجہ سے این سی کو بھی نقصان اٹھانا پڑے گا ۔ اس کے برعکس کانگریس کا خیال ہے کہ اس کے تمام وزیر الگ سے الیکشن میں کھڑا ہونے کی صورت میں الیکشن جیت جائیں گے ۔ البتہ این سی کے ساتھ اتحاد کی صورت میں انہیں نقصان ہوگا ۔یہی وجہ ہے کہ دونوں جماعتیں آئندہ انتخاب الگ الگ لڑنا چاہتی ہیں۔ اس وجہ سے دونوں کے درمیان قائم اتحاد ٹوٹنے کے اشارے مل رہے ہیں ۔ ممکن ہے کہ جولائی مہینے کے آس پاس دونوں ایک دوسرے سے الگ ہونے کی کوشش کریں گے ۔ ایسا ہونے کے نتیجے میں حکومت کے ٹوٹنے کا سخت خطرہ ہے ۔ اندرونی حا لات الیکشن کے بعد سے ٹھیک نہیں ہیں ۔ اس سے لگا یا جاتا ہے کہ حکومت کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے اور انتخاب ایسی صورت میں ناگزیر قرار دئے جاتے ہیں ۔