سرورق مضمون

مخلوط سرکارکی حلف برداری آج / پی ڈی پی اور بی جے پی مذاکرات نتیجہ خیز

مخلوط سرکارکی حلف برداری آج / پی ڈی پی اور بی جے پی مذاکرات نتیجہ خیز

ڈیسک رپورٹ
طویل مذاکرات اور صلح مشورے کے بعد پی ڈی پی اور بی جے پی نے ریاست میں مخلوط سرکار قائم کرنے کا اعلان کیا ۔ 24 فروری کو دہلی میں دونوں پارٹیوں کے صدور نے ملاقات کی جس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں ریاست میں حکومت بنانے پر اتفاق ہونے کا اعلان کیا گیا۔اس کے بعد پی ڈی پی سرپرست اور نامزد وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید نے 27 فروری کو دہلی میںوزیراعظم نر یندر مودی سے ملاقات کی۔ اس طرح سے مسلم اکثریتی ریاست میں پہلی بار بی جے پی مخلوط سرکار میں شامل ہورہی ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان پچھلے تین مہینوں سے مذاکرات جاری تھے۔ کئی معاملات پر اتفاق نہیں ہورہاتھا۔ بعد میں دونوں پارٹیاں کم از کم مشترکہ پروگرام کو حتمی شکل دینے میں کامیاب ہوگئیں۔ اس طرح سے ریاست میں تین مہینوں کے وقفے کے بعد گورنر راج ختم ہوکر جمہوری حکومت کا قیام عمل میں آیا ۔مفتی سعید ریاست کے اگلے   وزیراعلیٰ بن رہے ہیں۔ خود آپ دوسری بار ریاست کے وزیراعلیٰ بنے ہیں۔ اسے پہلے آپ کانگریس کی حمایت سے پہلی بار وزیر اعلیٰ بنے تھے۔ آپ تین سال تک اس عہدے پر فائز رہے۔ بعد میں پی ڈی پی اور کانگریس کا اتحاد ٹوٹ گیا اور کانگریس نے نیشنل کانفرنس کے ساتھ اتحاد بناکر چھ سال تک مخلوط سرکار بنائی۔ اس سرکار کی سربراہی عمر عبداللہ نے کی۔ لیکن پچھلے سال دسمبر میں ہوئے انتخابات میں این سی اور کانگریس کو عوام کی حمایت حاصل نہ ہوسکی۔ ان انتخابات کے نتیجے میں ایک معلق اسمبلی وجود میں آئی۔ پی ڈی پی 28 سیٹیں لے کر سب سے بڑی پارٹی کے روپ میں ابھر آئی اور بی جے پی کو جموں کی 25نشستوں پر کامیابی ملی۔ اب دونوں پارٹیوں نے مل کر ریاست کی حکومت بنائی ہے۔
پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان اتحاد بننے کے بعد لوگوں کی نظریں اس ایجنڈا پر لگی ہوئی ہیں جو دونوں پارٹیوں کے درمیان طے پایا ہے۔ اس حوالے سے کئی طرح کی چہ مے گوئیاں کی جارہی ہیں۔ پی ڈی پی لیڈروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بی جے پی کو اپنا ایجنڈا منوانے پر مجبور کیا ہے۔ کئی حلقوں کا ماننا ہے کہ سچ یہی ہے کہ بی جے پی نے مفتی کے تمام شرائط مان کر حکومت میں شامل ہونے کا اقرار کیا۔ دہلی انتخابات میں بی جے پی کی شکست نے اس کے لیڈروں کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ پی ڈی پی کے شرائط قبول کرے۔ اس سے پہلے بی جے پی کی لیڈر کوئی بات ماننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ ان انتخابات کے بعد مرکزی سرکار نے دفعہ 370 کو برقرار رکھنے اور فوج کی شہری علاقوں سے مرحلہ وار واپسی کی کڑی شرائط بھی مان لی ہیں۔ اسی طرح علاحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی بات بھی مان لی گئی ہے ۔ اس سے یہ بات مان لی جاتی ہے کہ پی ڈی پی کا پلڑا بھاری ہے ۔ تاہم علاحدگی پسند حلقے اس بات کو ماننے سے انکار کررہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ پی ڈی پی نے اقتدار حاصل کرنے کے لئے بی جے پی کے ہندو ایجنڈا کو کشمیر لایا ہے جو یہاں کی مسلم اکثریت کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ اس طرح سے ہندو انتہا پسند وں کے کشمیر وارد ہونے کا راستہ صاف کیا گیا۔ بی جے پی کئی بار اعلان کرچکی ہے کہ وہ کشمیرنقشے میں زعفرانی رنگ بھرنا چاہتی ہے ۔ اس سے پہلے پی ڈی پی کی حمایت سے بی جے پی پہلی بار کشمیر سے کونسل کی نشست کے لئے اپنے امیدوار صوفی یوسف کو کامیاب کرانے میں کامیاب رہی ہے ۔ ان سب باتوں کے پیش نظر پی ڈی پی کے خلاف کئی حلقوں میں سخت ناراضگی پائی جاتی ہے۔ البتہ یہ طے ہے کہ آگے حالات اسی طرح سازگار رہے تو مفتی محمد سعید چھ سال تک ریاست کے وزیراعلیٰ رہیں گے۔ یہ ان کی پارٹی کی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔