سرورق مضمون

مخلوط سرکار خطرے سے دوچار/ عید پر بیف پابندی کا مسئلہ سرپھٹول کا باعث/ اپوزیشن اور علماء حکومت کے خلاف یک آواز

مخلوط سرکار خطرے سے دوچار/ عید پر بیف پابندی کا مسئلہ سرپھٹول کا باعث/ اپوزیشن اور علماء حکومت کے خلاف یک آواز

ڈیسک رپورٹ
وادی میں بڑے گوشت پر پابندی کامسئلہ سخت رخ اختیار کررہاہے ۔ اس وجہ سے کولیشن سرکار میں سرپھٹول کا ماحول پایا جاتا ہے۔ ایسا لگ رہاہے کہ بڑے گوشت کے مسئلے پر سرکار ہی ختم نہ ہوجائے۔ بی جے پی پابندی کو جاری رکھنے اور پولیس کے ذریعے قانون کو نافذ کرنے پر زور دے رہی ہے۔ لیکن پی ڈی پی کے لئے یہ ایک سنگین مشکلات پیدا کررہاہے ۔ پی ڈی پی کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں کو کھانے پینے کے عادات بدلنے پر مجبور نہیں کرسکتی ہے ۔ اس نے اعلان کیا ہے کہ بڑے گوشت کے استعمال پر وہ لوگوں کے خلاف کاروائی نہیں کرے گی۔ دوسری طرف این سی کے علاوہ کانگریس نے بھی اس مسئلے پر مشترکہ لائن اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں پارٹیوں نے بیف پابندی کا قانون بدلنے پرزور دیا ہے۔ این سی نے اس حوالے سے اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں اس قانون کو بدلنے کے لئے ترمیمی بل لانے کا اعلان کیا ہے۔ این سی کے اس اعلان کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس نے زور دیا ہے کہ قانون کو بدلنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ اسمبلی میں معروف آزاد امیدوار انجینئر رشید نے پہلے ہی ایک بل لاکر قانون کو بدلنے پرزور دیا ہے۔ انجینئر رشید نے اس حوالے سے دستخطی مہم شروع کی ہے ۔ پہلے مرحلے پر اس نے سرینگر سے لوگوں کے دستخط حاصل کرناشروع کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق انہیں اس دستخطی مہم میں لوگوں کا بڑے پیمانے پر تعاون مل رہاہے۔ بڑی تعداد میں لوگوں نے اس مہم میں شرکت کرکے اپنی حمایت ظاہر کی ہے ۔
کولیشن سرکار میں اس وقت نیا تنازع شروع ہوا جب پی ڈی پی نے دو لاء آفیسروں کو ان کے عہدوں سے برطرف کیا ۔ اس سے پہلے نائب وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت پولیس کے ذریعے بیف پر پابندی کا قانون نافذ کروائی گی۔ ان کے اس اعلان سے اندازہ لگایا جارہاہے کہ حکومت میں شامل جماعتوں میں اس ایشو پر سخت اختلاف پایا جاتا ہے ۔ پی ڈی پی سے وابستہ وزیرقانون نے فوراََ حرکت میں آکر دو لاء آفیسروں کو برطرف کرنے کے احکامات جاری کئے۔ اس حوالے سے دی گئی اطلاعات کے مطابق جموں کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل وشال شرما اور ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل پرم کش سیٹھ کو ان کے عہدوں سے سبکدوش کیا گیا۔ اس پر بی جے پی نے سخت مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ بی جے پی کے جموں یونٹ کی طرف سے دبائو بڑھایا گیا ہے کہ اس آڈر کو واپس لیا جائے ۔ حکومت نے اس بنیاد پر دونوں کو ان کے عہدوں سے الگ کیا ہے کہ انہوں نے بیف پابندی کے مسئلے پر عدالت میں صحیح طریقے سے پیروی نہیں کی۔ یاد رہے بڑے گوشت کی پابندی کا مسئلہ اس وقت سخت رخ اختیار کرگیا جب ہائی کورٹ کے دو نفری بینچ نے عوامی مفاد کے ایک درخواست پر حکم دیا کہ پولیس اس قانون کو سختی سے نافذ کرے جس کے تحت ریاست میں گائے ، بیل اور اس قسم کے تمام جانوروں کو ذبح کرنے پر پابندی ہے ۔ عدالت کا فیصلہ سامنے آنے پر کشمیروادی میں اس کے خلاف سخت احتجاج کیا گیا اور زور دیا گیا کہ اس قانون کو ختم کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔لوگوں نے اس کے خلاف جلوس نکالے اور ایک درجن کے قریب گائیںذبح کرکے ان کا گوشت لوگوں میں تقسیم کیا گیا۔ اس حوالے سے مفتی اعظم مفتی محمد بشیرالدین احمد اور متحدہ علما کونسل نے لوگوں سے اپیل کی کہ عید قربان کے موقعے پر بڑے جانوروں کی قربانی کی جائے ۔ انہوں نے لوگوں کے مذہبی جذبات سے کھیلنے پر حکومت کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کیا ۔ اس وجہ سے کولیشن سرکار سخت خطرے میں آگئی ہے اور خدشہ ہے کہ حکومت زیادہ دن قائم نہ رہ سکے گی ۔