مضامین

مخلوط سرکار کی کارکردگی کا پوسٹ مارٹم رپورٹ

مخلوط سرکار کی کارکردگی کا پوسٹ مارٹم رپورٹ

مخلوط سرکار کے100دن مکمل ہونے کے بیچ ریاست کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس کے کارگزار صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ پی ڈی پی نے سیاسی طور بھاجپا کے سامنے سرنڈر کیا اور انتخابات کے دوران عوام سے کئے گئے وعدوں پر یو ٹرن لیا۔ مخلوط حکومت کے 100روزہ دور اقتدار پر 17صفحات پر مشتمل تنقیدی رپورٹ جاری کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ سیلاب زدگان کی باز آبادکاری میں تاخیر باز آبادکاری سے انکار کرنے کے مترادف ہے جبکہ حکومت کی نئی ریکروٹمنٹ پالیسی نوجوان مخالف ہے اور ملازمین کے جائز مطالبات کو پْر کرنے کے بجائے موجودہ مخلوط حکومت نے تکبر سے بھر پور اپروچ اپنایا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ریاست میں سیاسی عدم استحکام ہر سو نظر آرہا ہے اور اس کیلئے بھی پی ڈی پی ، بھاجپا حکومت ذمہ دار ہے۔ پی ڈی پی ، بھاجپا حکومت کے 100دن مکمل ہونے پر سرینگر میں ایک پْر ہجوم پریس کانفرنس میں ریاست کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس کے کارگزار صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تنقید سے بھر پور 17صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی۔ انہوںنے کہا کہ مودی ، مفتی اتحاد نے عوامی مسائل پر یو ٹرن لیا ہے جبکہ پی ڈی پی نے اقتدار کی خاطر بھاجپا کے سامنے ریاستی مفادات پر سرنڈر کیا۔ پی ڈی پی ، بی جے پی حکومت ’’ نظریات کی جنگ‘‘ کے نعرے کھوکھلے ثابت ہوئے اور پی ڈی پی نے سیلف رول نعروں پر اپنے سیاسی مقاصد کی خاطر سرنڈر کیا۔ حکومت کے 100دنوں کے دوران مخلوط حکومت نے مختلف معاملات پر یو ٹرن بھی لیا۔ اس ضمن میں انہوںنے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے خصوصی درجے پر پی ڈی پی اور بھاجپا کے درمیان تضاد پایا جارہا ہے اور دونوں جماعتوں نے اس حوالے سے مختلف اپروچ اپنایا ہے۔پی ڈی پی اور بھاجپا حکومتی اتحاد جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کا خفیہ منصوبہ رکھتے ہیں اور ان دونوں کا ایجنڈا دفعہ 370کا خاتمہ ہے۔ بھاجپا دفعہ 370کی منسوخی کے حوالے سے اپنے ایجنڈے پر کاربند ہے اور اس کیلئے لیڈران نے وقتاً فوقتاً 100دن کے دور اقتدار کے دوران اس کی منسوخی پر اپنے موقف کو اٹل قرار دیا۔ انہوںنے بھاجپا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس جماعت نے پہلے ہی یہ کہا ہے کہ دفعہ 370پر اس کے موقف میں کسی طرح کی تبدیلی نہیں آرہی ہے اور بھاجپا اس کی منسوخی کے حوالے سے وعدہ بند ہے۔ آئینی شق دفعہ 370کے تحت جموں وکشمیر کو خصوصی درجہ حاصل ہوتا ہے لیکن ریاست اور مرکز میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے سے اس کو خطرہ لاحق ہوا ہے اور اس کیلئے اس جماعت کی اتحادی پارٹی پی ڈی پی ذمہ دار ہے کیونکہ ریاست میں اقتدار میں آنے کیلئے پی ڈی پی نے ہی بھاجپا کو موقعہ فراہم کیا۔ آج مفتی محمد سعید اْس مخلوط حکومت کے وزیر اعلیٰ ہیں جس کی اتحادی جماعت ریاست جموں وکشمیر سے دفعہ 370کی منسوخی کے حوالے سے پْر عزم ہے۔ افسپا کا ذکر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس معاملے پر بھی حکومتی اتحاد میں واضح تضاد دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پی ڈی پی افسپا کی منسوخی کے حوالے سے دعوے کرتی آئی ہے لیکن اس کی حکومتی اتحادی جماعت افسپا کی منسوخی کی مخالفت کرتی ہے۔ انہوںنے سوالیہ انداز میں کہا کہ پی ڈی پی اور بھاجپا کے درمیان اتحاد کے حوالے سے جو ایجنڈا مرتب کیا گیا ہے اور اس میں جو وعدے کئے گئے اْن کا کیا ہوا۔افسپا کی منسوخی کے حوالے سے نیشنل کانفرنس نے اپنے دور اقتدار کے دوران پوری پوری کوشش کی تاہم مرکز میں کچھ افراد نے اس کی منسوخی پر روڑے اٹکائے جس کی وجہ سے اس پر اتفاق رائے پیدا نہ ہوسکی۔ اس معاملے پر بھی حکومتی اتحاد میں تضاد دیکھنے کو مل رہا ہے۔ جہاں بھاجپا یہ کہہ رہی ہے کہ افسپا کی منسوخی کے حوالے سے آخری فیصلہ سیکورٹی ایجنسیاں ہی لے سکتی ہے اور بھاجپا کے مطابق اگر سیکورٹی ایجنسیوں کو یہ محسوس ہورہا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں صورتحال بہتر ہورہی ہے اور موجودہ صورتحال افسپا کی منسوخی کے حوالے سے سازگار ہے تو اس حوالے سے انہیں حتمی فیصلہ لیا جانا چاہیے اور بار بار اس مسئلے کو پیدا نہیں کیا جانا چاہیے۔ ایک طرف بھاجپا افسپا پر اس طرح کا موقف اختیار کی ہوئی ہے تو دوسری طرف پی ڈی پی نے انتخابات مہم کے دوران افسپا کی منسوخی کے حوالے سے عوام سے وعدے کئے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ اگر یہ جماعت اقتدار میں آتی ہے تو ریاست سے ڈسٹربڈ ائیر ایکٹ ہٹایا جائے گا جس کے تحت جموں وکشمیر میں افسپا نافذ العمل ہے اور اس کے ساتھ ہی افسپا کی منسوخی کے حوالے سے راہ ہموار ہوجائے گی تاہم ابھی تک اس حوالے سے پی ڈی پی کی جانب سے کوئی سنجیدہ فیصلہ نہیں لیا گیا۔ نظریات کی جنگ پر پی ڈی پی کے موقف پر بولتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ایک طرف یہ جماعت علیحدگی پسندوں کے ساتھ نظریات کی جنگ کا دعویٰ کررہی ہے لیکن دوسری جانب اس معاملے پر بھی پی ڈی پی کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ بھاجپا نے یہ واضح کیا ہے کہ علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے مرکزی حکومت کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔ بھاجپا نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ ان کی جماعت سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے ایجنڈے کو آگے بڑھائے گی اور انسانیت ، کشمیریت اور جمہوریت کے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھایا جائے گا لیکن ابھی تک ریاست میں اس طرح کی کوئی بھی کوشش نہیں کی گئی اور اس معاملے پر بھی حکومتی اتحاد میں تضاد ہی دیکھنے کو مل رہا ہے۔پی ڈی پی بھاجپا حکومت کی ناکامی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ابھی تک پاکستان کے ساتھ بھارت نے مذاکرات شروع نہیں کئے۔پی ڈی پی کا یہ موقف تھا کہ نئی دلی کو اسلام آباد کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے وہ پْل کی حیثیت سے کام کرے گی لیکن مرکزی حکومت نے واضح کردیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے اور بھاجپا نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ عمر عبداللہ نے اپنی تنقیدی رپورٹ میں سیلاب زدگان کی باز آبادکاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب زدگان کی باز آبادکاری میں تاخیر بازآبادکاری سے انکار کے مترادف ہیں۔ انہوںنے حکومت کی نئی ریکروٹمنٹ پالیسی کو نوجوان مخالف قرار دیا۔حکومت کے غیر ذمہ درانہ رویہ کے نتیجے میں ریاست میں سیاحوں کی تعداد میں واضح کمی آئی ہے اور یہاں اس حوالے سے تشویش پائی جارہی ہے۔ عمر عبداللہ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ صنعت و حرفت کے شعبے کو بھی اس حکومت نے نظر انداز کیا جو کہ تاجروں کے ساتھ استحصال کے مترادف ہے۔ ملازمین کا ذکر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ موجودہ مخلوط حکومت نے سرکاری ملازمین کے جائز مطالبات کے حوالے سے تکبر کا اپروچ اپنایا ہوا ہے۔ ریاست میں سیاسی استحکام کے نتیجے میں غیر توازن اور تضاد پایا جارہا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں بیرو کریسی کو زعفرانی رنگ میں رنگنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس ساری صورتحال کیلئے وزیر اعلیٰ خود ذمہ دار ہیں کیونکہ بقول عمر عبداللہ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کا محکمہ وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے پاس ہے اور چیف سیکریٹری کوئی بھی فیصلہ لیتے وقت وزیر اعلیٰ سے منظوری حاصل کرتے ہیں۔ اگر ریاست میں بیرو کریسی کو زعفرانی رنگ میں رنگنے کی سازش رچائی جارہی ہے تو اس کے سنگین نتائج بر آمد ہوسکتے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ موجودہ سرکار کے 100 دنوں میں ہم نے یہی پایا کہ اس سرکار میں شامل جماعتوں کے درمیان کوئی ہم آہنگی نہیں ہے بلکہ ان کی منزل اور مقصد میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔ جب سے موجودہ سرکار نے اقتدار سنبھالا ہے تب سے ہر محاذ پر یہ سرکار ناکام ہوئی ہے۔ انہوں نے مفتی محمد سعید کی سربراہی والی حکومت کو یوٹرن سرکار سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 100 دنوں کے دوران سرکار نے جب کوئی فیصلہ لیا یا سرکار کے ذمہ داروں نے جو کوئی بیان دیا ، اس فیصلے یا اس بیان کو پھر بدلا گیا۔ جہاں تک موجودہ سرکار کی طرف سے حساس معاملات اور فیصلوں پر یو ٹرن لینے کا تعلق ہے تو موجو دہ سرکار بنتے ہی جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ایک سرکیولر جاری کیا گیا جس میں یہ بتایا گیا کہ قومی پرچم کی طرح ہی ریاستی پرچم کی بھی اہمیت ہے لیکن اگلے روز یہ سرکیولر واپس لیا گیا۔ نئی ریکریوٹمنٹ پالیسی کے بارے میں سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ اس سرکار کے پاس تو اصل مین بیروزگار نوجوانوں کو دینے کیلئے کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نئی نئی پالیسیاں بنا کر یہ سرکار بے روزگار نوجوانوں کو الجھن میں ڈال رہی ہے۔