اداریہ

مذاکرات خالص کہنے کی باتیں

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کسی مسئلے کا حل مذاکرات یعنی بات چیت میں ہی ممکن ہوتا ہے ، اس بات سے ہر کوئی حلقہ یہاں تک کہ خاص و عام واقف ہے ،مگر بد قسمتی کہ ہر کوئی اس بات کو کہنے کے لئے استعمال کرتا ہے،عملی جامع پہنانے کے لئے کوئی ایک بھی متفق نہیں ہوتا، آج اگر چہ ہندوپاک قومی سلامتی مشیروں کے درمیان مذاکرات ہونے ہیں تاہم پاکستان کی طرف سے کشمیری علیحدگی پسند لیڈروں کو دعوت کیا ملے کہ بھارت سرکار نے اس بات کو لے کر کافی ہنگامہ کھڑا کرنے کی کوشش کی، بھارت کی طرف سے پاکستان کو اس بات کیلئے راضی کرنے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان کشمیری علیحدگی پسند لیڈروں کے ساتھ ملاقات نہ کریں اور اس طرح سے پاکستان کشمیری حریت پسند لیڈروں کو مذاکرات کا شریک نہ بنائیں مگر پاکستان بھی اپنے اس فیصلے پر بضد ہے کہ وہ ہر صورت میں کشمیری حریت پسند لیڈروں کے ساتھ ملاقات کریںگے۔
حالانکہ حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو حریت پسند لیڈروں کے ساتھ پاکستانی مشیر کی ملاقات سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے مگر پھر بھی بھارت نے اس مدعو کو لے کر کافی کچھ کہا۔ اس سے پہلے بھی بھاجپا سرکار میں ہی جب اٹل بہارج واجپائی ملک کے وزیر اعظم تھے اس قسم کے ملاقاتیں ہوئیں تھیں تاہم اس بار اس کو محض ایشو بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مذاکرات کے اس سلسلے کو آگے بڑھنے نہ دیا جائے ۔
پاکستان نے بھی اپنے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں لائی ان کا بھی کہنا ہے کہ وہ ہر صورت میں کشمیری حریت پسند لیڈروں کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے اور اس سلسلے میں پاکستانی ہائی کمیشن کی طرف سے حریت(گ) چیرمین سید علی گیلانی کو باضابطہ 24 اگست کے روز نئی دلی میں صبح9 بجے پاکستانی سلامتی مشیر سرتاج عزیز کے ساتھ ملاقات مقرر کیا۔ اس طرح سے پاکستان بھی اپنے موقف پر بضد رہا۔ ادھر حریت (ع) چیرمین میروعظ عمر فاروق نے حریت پسند لیڈروں کے پاکستانی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز کے ساتھ ملاقات کے خلاف بھارت کے موقف پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کئے بغیر دونوں ممالک کے درمیان پائیدار بنیادوںپر تعلقات اُستوار نہیں کر سکتے۔
بھارت کی ضد اور پاکستان کے موقف سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور و قومی سلامتی سرتاج عزیز بھارت آئیں گے ا ور نہ باہمی معاملات کے سلسلے میں کوئی مثبت پیش رفت ہو گی۔ اس طرح سے دونوں ملکوں کے عوام میں ایک بار پھر مایوسی کی لہر دوڑ جائے گی اور ریاست میں کئی سیاسی پارٹیاں اس بات پر زور دیتے رہیں گے کہ مذاکرات ہی مسائل حل کرنے کا واحد راستہ ہے، مگر مذاکرات کرانے کے لئے راستہ ہموار ہونے دیتے اور نہ راستہ بنانے میں کوئی پیش رفت کرتے ۔ اس طرح سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ مذاکرات کرانے کے لئے زور دینا محض اور خالص کہنے کی باتیں ہیں۔