مضامین

مذاکرات مسئلہ کشمیر کا واحد حل

مذاکرات مسئلہ کشمیر کا واحد حل

میرواعظ عمرفاروق نے جنگ نہیں مذاکرات کومسئلہ کشمیر کے حل کاواحدراستہ قراردیتے ہوئے خبردارکیاہے کہ فوجی ٹکرائو ہندوپاک ہی نہیں بلکہ پورے خطے کی تباہی پر منتج ہوگا۔ مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حریت(ع) چیئرمین نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیکریٹری سطح کے مذاکرات کو بھارت کی جانب سے معطل کئے جانے کے بعد تعلقات نے جو منفی نہج اختیار کی ہے اس نے دونوں جوہری مملکتوں کو جنگ کے دہانے پر کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج 1965 یا 1971 سے صورتحال بالکل مختلف ہے دونوں ہمسایہ ملک جوہری ہتھیاروں سے لیس ہیں اور کوئی بھی فوجی ٹکرائو بھارت اور پاکستان کے ساتھ ساتھ اس پورے خطے کی تباہی پر منتج ہوگا۔ میر واعظ نے حکومت ہندوستان کو اپنی موجودہ پالیسی تبدیل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی فوجی حل تلاش نہیں کیا جاسکتا اور نہ طاقت اور تشدد یا جنگ سے یہ مسئلہ حل ہو سکتاہے بلکہ اس مسئلے کے تینوں فریقوں کے درمیان ایک بامعنی مذاکراتی عمل سے ہی اس مسئلے کا کوئی منصفانہ اور قابل قبول حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی کشیدگی کا خمیازہ جنگ بندی لائن کے آر پارجموںو کشمیرکے لوگوں کوہی بھگتنا پڑ رہا ہے ،جموں کشمیر کے لوگ خونی لکیر کی وجہ سے تقسیم ہو کر رہ گئے ہیں اور دونوں اطراف کے درجنوں دیہاتوں میں رہ رہے لوگ اس کشیدگی کی وجہ سے مصائب کے شکار ہیں۔ میر واعظ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو انسانی نقطہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس مسئلے کی موجودگی کی وجہ سے گزشتہ کئی دہائیوں سے سب سے زیادہ تباہی کشمیریوں کو دیکھنا پڑرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل کے لئے بامعنی مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کے سوا دونوں ممالک کے پاس کوئی چارہ نہیں اور دو جوہری ممالک کے درمیان موجودہ مخاصمت سے پوری دنیا میں تشویش کی لہر پیدا ہوئی ہے اور اس کشیدگی کی وجہ سے جنوبی ایشاء پر جنگ کے بادل منڈھلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کشمیری عوام دونوں ممالک کے درمیان ہمیشہ دوستانہ تعلقات کے خواہاں رہے ہیں اور موجودہ سرحدی کشیدگی پر انتہائی فکر مند ہیں تاہم حکومت ہندوستان کویہ حقیقت تسلیم کرنی چاہئے کہ طاقت اور تشدد سے کشمیریوں کی مبنی برحق جدوجہد کو کمزور نہیں کیا جاسکتا اور نہ کشمیری عوام کو ہی اپنی جائز جدوجہدسے دستبردار کیا جاسکتا ہے۔