خبریں

مذاکرات کا کوئی متبادل نہیں

پاکستان نے دہشت گردی کے معاملے پر بھارت کو اپنا’’ ہم پلہ ‘‘قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی پرجتنے تحفظات بھارت کے ہیں اتنے ہی ہمارے بھی ہیں لہٰذا الزام تراشی سے دہشتگردی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کا کوئی متبادل نہیں ہے، مذاکرات ہونے چاہئیں کیونکہ مذاکرات سے ہی بات آگے بڑھے گی۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستانی سیکریٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ بلوچستان میں بیرونی مداخلت کے ثبوت جن سے شیئر کرنا تھے، کردیئے،نیویارک میں بھی اس حوالے سے بات چیت ہوئی،ہم نے واضح کر دیا ہے کہ مذاکرات کا کوئی نعم البدل نہیں ہے انہوں نے امید کا اظہار کرتے ہو ئے کہا بھارت سے مذاکرات میں بات آگے بڑھے گی۔سیکریٹری خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلوچستان میں بیرونی مداخلت کے ثبوت سینیٹ میں بھی پیش کرچکے ہیں۔ جلیل عباس جیلانی نے کہا وزیراعظم نے دورہ امریکا کے دوران ڈرون حملوں کامعاملہ اٹھایا،وزیراعظم صدراوباماسمیت ہرفورمپر ڈرون حملوں کامعاملہ اٹھائیں گے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ملا برادر کی رہائی افغان مفاہمتی عمل کا حصہ ہے۔ سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ بلوچستان میں مداخلت کے ثبوت متعلقہ ہندوستانی حکام کو فراہم کردیے ہیں جبکہ دہشت گردی کے لیے ملکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان ہندوستان پر عسکریت پسندی کا شکار صوبے بلوچستان میں مداخلت کا الزام عائد کرتا ہے جبکہ ہندوستان کا موقف ہے کہ پاکستان اس حوالے سے ثبوت فراہم کرے۔ سیکرٹری خارجہ نے بتایا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان کو ہندوستان سے تحفظات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف نے نیویارک میں اپنے ہندوستانی ہم منصب منموہن سنگھ سے ملاقات میں یہ معاملہ اٹھایا تھا۔جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ بلوچستان میں مداخلت کے ثبوت متعلقہ ہندوستانی حکام کو دے چکے ہیں جبکہ اس حوالے سے ثبوت سینٹ اجلاس میں بھی پیش کیے جا چکے ہیں۔سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کا کوئی متبادل نہیں ہے، مذاکرات ہونے چاہئیں کیونکہ مذاکرات سے ہی بات آگے بڑھے گی۔ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی جتنی ہندوستان کیلئے تشویشناک ہے اتنی ہی پاکستان کے لیے بھی باعث تشویش ہے۔جیلانی کے مطابق ایک دوسرے پر الزام تراشی سے مسئلے کا حل نہیں نکلے گا، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے دونوں ممالک کو مل کر سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے منموہن سنگھ سے کہا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے کشمیر سمیت تمام مسائل حل کرنے چاہئیں۔سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی خواہش ہے جبکہ ملا برادر کو افغانستان سمیت کسی ملک کے حوالے نہیں کر رہے۔