اداریہ

مذاکرات کی پیشکش

وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اگر چہ رمضان کے پیش نظر سیزفائر کا اعلان کیا تاہم رمضان کے کئی دن گذرنے کے ساتھ ہی وادی میں اگر چہ کئی ایک جگہ پر گرینیڈ پھینکنے کے واقعات سامنے آئے اور اس کے فوراً بعد ہی وزیر داخلہ نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ وادی میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھ بندھے ہوئے نہیں ہے بلکہ رمضان میں لوگوں کی سہولیات کے لئے روزمرہ کے آپریشنز بند کئے گئے، یاد رہے کہ وزیر داخلہ نے سیز فائر کا اعلان اُس وقت کیا جب وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے مرکزی سرکار سے ریاست میں سیز فائر کی مانگ کی ۔ اس کے بعد اگر چہ ریاستی حکومت میں شامل ساجھے دار پارٹی بی جے پی کے کئی ایک لیڈروں نے سیز فائر کی مخالفت کی اور یوں لگا کہ شاید وزیرا علیٰ کا وقار نہیں رکھا گیا تاہم وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے اچانک سیز فائر کا اعلان کیا جس سے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی اس سلسلے میں کچھ حد تک ساکھ بچ گئی۔ اب جبکہ وادی میںکئی دنوں سے لگاتار دھماکے یا گرینیڈ ہو رہے ہیں اس کے ردعمل میں وزیر داخلہ نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ کشمیر میں سیز فائر کا اعلان کیا گیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجیوں کے ہاتھ باندھ کر رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے ۔ وزیر داخلہ نے وضاحت کی ہے کہ رمضان کے دوران عام شہریوں کو بہتر ماحول فراہم کرنے کے لئے روزمرہ کے فوجی آپریشنوں کو معطل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وزیرداخلہ نے علاحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ حریت بات چیت کے لئے سامنے آئے تو مرکزی سرکار کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔ اس دوران وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے حریت لیڈروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بات چیت کے لئے سامنے آئیں ۔ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ حریت نے اس موقعے کوضایع کیا تو آگے چل کر ایسی پیشکش کرنا مشکل ہوگا۔ حریت پہلے ہی بات چیت کے لئے آمادگی ظاہر کرچکی ہے البتہ اس کے لئے سرکار سے کئی اقدامات کرنے کی اپیل کی گئی،بات چیت کہاں ہوگی اور کن حریت لیڈروں سے ہوگی اس کا ابھی پتہ نہیں چلا ہے ۔ دوسری صف کے کئی حریت رہنمائوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بات چیت کے لئے پہلے ہی تیار ہیں۔ مرکز ی سرکار واقعی ان کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھائے گی ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔ اور اس طرح سے اب سیز فائر کے بعد مذاکرات کے سلسلے کا آغاز کرنے کی پیشکش کی گئی تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی مذاکرات کرانے سبھی طبقے مخلص ہیں یا محض وقت گذاری کا سلسلہ شروع کرنے کے لئے ایسا کیا جا رہا ہے۔ بہر حال ضرورت اس بات کی ہے کہ مذاکرات ہی سبھی مسائل کا حل ہے اور مذاکرات کی پیشکش خوش آئند ہے۔