مضامین

مرکزی امداد بھونڈا مذاق/ ریاستی اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا جائے

مرکز کی جانب سے امدادی پیکیج کے نام پر حقیر رقوم دینے کے اعلان نے جہاں ریاستی سرکار کو ششدد کردیا ہے وہیں عموامی سطح پر بھی اسکا مخالفانہ رد عمل سامنے آیا ہے۔اس بات کا فائدہ اٹھاکر اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس نے نہ صرف مرکز بلکہ پی ڈی پی پر سیدھا نشانہ سادھا ہے۔نیشنل کانفرنس نے    ایک بار پھرکہا ہے کہ مرکزی حکومت ریاست جموں و کشمیر کے سیلاب زدگان کی خاطر اعلان شدہ پیکیج پر ازسرنو غور کرے جبکہ ریاستی حکومت کو اس معاملے پر بحث کیلئے خصوصی اسمبلی اجلاس طلب کرنا چاہئے۔پارٹی ہیڈ کوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ مرکزی حکومت نے سیلاب زدگان کی خاطر جو پیکیج کا اعلان کیا ہے وہ ناکافی اور متاثرین کے ساتھ بھونڈا مذاق ہے اور اس سے ریاست جموں و کشمیر کے عوام میں اچھا پیغام نہیں جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست مسلم اکثریتی ریاست ہے اور اگر بی جے پی سربراہی والی مرکزی حکومت اسی تناظر میں صورتحال سے نمٹنا چاہتی ہے تو اس سے عوام کے درمیان غلط پیغام جاتا ہے۔   موجودہ صورتحال ریاستی عوام میں غلط پیغام پہنچا رہی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ مرکزی حکومت اعلان شدہ پیکیج کا ازسر نو جائیزہ لیں کیونکہ ریاستی عوام خود کو تنہا محسوس کررہی ہے۔ ساگر نے ریاستی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر خصوصی اسمبلی اجلاس طلب کریں تاکہ اس معاملے پر بحث کی جائے اور متفقہ طور پر ایک حل تلاش کیا جاسکے۔ساگر نے کہا’’ ہم حکومت سے پوچھ رہے ہیں کہ آیا وہ اس معاملے پر سنجیدہ ہے اور اسے عوام کے درد کا احساس ہے تو اسے فوری طور پر خصوصی اسمبلی اجلاس طلب کرنا چاہئے اور مرکزی حکومت کی جانب سے اعلان کئے گئے پیکیج پر بحث ہونی جائے‘‘۔ خصوصی اسمبلی اجلاس کے دوران متفقہ طور پر تمام پارٹیاں جس پیکیج پر رضا مند ہوتی ہے وہی پیکیج مرکزی حکومت کو سونپ دیا جانا چاہئے۔ایوان اسمبلی واحد ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں عوامی مسائل کو اجاگر کیا جاسکتا ہے اور متفقہ طور پر اس طرح کے حساس معاملات کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ایوان اسمبلی سے ہی مرکزی حکومت پر ریاستی عوام کے ضرورت کے مطابق پیکیج کیلئے دبائو ڈالا جاسکتا ہے۔ ساگر نے کہا کہ یہ نہایت ہی ضروری ہے کیونکہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور تمام پارٹیوں کو اسمبلی میں پارٹی سیاست سے بالا تر ہو کر ایمانداری کے ساتھ عوامی مسائل پر اپنی آواز بلند کرنی چاہئے۔ جنرل سکریٹری نے موجودہ ریاستی وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابوںکے ان بیان جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس پیکیج سے مطمئن ہیں کو ،حیران کن قرار دیا۔ ایک طرف ریاستی وزیر خزانہ حسیب درابو مرکزی پیکیج پر اطمینان کا اظہار کررہے ہیں لیکن دوسری جانب پی ڈی پی کے لیڈر طارق حمید قرہ پی ڈی پی کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ بھاجپا کے ساتھ کئے گئے اتحاد کے حوالے سے ازسر نو جائیزہ لیں۔علی محمد ساگر نے کہا کہ وزیر خزانہ کے بیان سے ریاستی عوام کی توہین ہوئی ہے۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہاکہ اس پیکیج میں سیلاب زدگان کیلئے کیا کچھ ہے؟ ساگر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے کہاتھا کہ وہ ماہ رمضان سے قبل ہی عوام کے چہروں پر مسکراہٹ لائیں گے لیکن کیا وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوئے؟ کیا لوگ خوش ہیں؟ نہیں۔ساگر کا مزید کہنا تھا کہ تاجر برادری، سیاحت سے جڈے افراد، دکاندار اور عام لوگ شدت کے ساتھ مرکزی سرکار کے پیکیج کا انتظار کررہے تھے لیکن زخموں پر مرہم لگانے کے بجائے انہیں اور زیادہ کریدا گیا جنہیں ناسور بنتے بنتے دیر نہیں لگے گی۔ان کا کہنا تھا کہ مرکزی سرکار کے پیکیج نے سیلاب زدگان کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔علی محمد ساگر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے گزشتہ برس اسمبلی انتخابات تاخیر سے کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن پی ڈی پی جلد بازی میں تھی کیونکہ انہیں اس میں اپنا مفاد نظر آرہا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ انتخابات میں تاخیر اس لئے تھا کہ ہم لوگوں کو راحت پہنچا نا چاہتے تھے لیکن کچھ پارٹیاں جلد بازی میںتھی اور انہیں فائدہ بھی پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس نے سرینگر میں پانچ نشستوں پر شکست حاصل کی اور اس کی وجہ سیلاب تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی پی کو موقعہ ملا لیکن وہ عوام کیلئے کیا کررہی ہے؟
ادھر کشمیر ویلی فروٹ گرورس کم ڈیلرس یونین نے مرکزی سرکار کی طرف سے سیلاب زدگان کے حق میں ریلیف پیکیج کے اعلان کو ایک مذاق قرار دیا ہے۔یونین کے صدر بشیر احمد بشیر کی صدارت میں ہوئی ایک میٹنگ جس میں فروٹ ایسوسی ایشن سوپور ،بارہمولہ ،کپوراہ ،شوپیان ،پلوامہ ،کولگام ،کھوئی اور جبلی پورہ کے صدور اور جنرل سیکرٹری صاحبان نے شرکت کی ، جس میںکہا گیا کہ ریلیف پیکیج میں ہارٹیکلچر صنعت کے حق میں پیکیج نہ ہونے سے فروٹ گرورس کے زخموں پر نمک پاشی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ تباہ کن سیلاب میں وادی میں میوہ باغات کو شدید نقصان پہنچا اور باغ مالکان کو 2890کروڑ روپے کا نقصان ہوا ،جس کی تفصیل بھی وزیر اعظم نریندر مودی کو دی گئی۔میٹنگ میں کہا گیا کہ فروٹ گرورس اور ڈیلرس زبردست اقتصادی بحران سے دوچار ہیں اور میوہ صنعت سے وابستہ6لاکھ افرادزبردست پریشان ہیں۔فروٹ گرورس نے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید اور باغبانی کے وزیر عبدالرحمان ویری سے اپیل کی ہے کہ وہ یہ معاملہ مرکزی سرکار کے ساتھ اٹھائیں اور فروٹ گرورس اور ڈیلرس کو فورا مالی معاوضہ دینے کا اعلان کیا جائے۔