سرورق مضمون

مریکہ کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی سے انکار گیلانی کی نظر بندی ختم،اپوزیشن کو تشویش

مریکہ کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی سے انکار  گیلانی کی نظر بندی ختم،اپوزیشن کو تشویش

ڈیسک رپورٹ
پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے پچھلے دنوں امریکہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے وہاں کے صدر باراک اوبامہ سے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے ثالثی کرنے کی اپیل کی ۔ ان کی یہ اپیل امریکی صدر نے مسترد کی۔ اس وجہ سے پاکستانی کو سخت خجالت اٹھانا پڑی۔ پاک امریکہ تعلقات ان دنوں سخت مشکلات کے شکار ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان دہشت گردی خاص کر پاکستان تحریک طالبان کے حوالے سے سخت اختلاف پایا جاتا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کرکے ان کو امن کی راہ پر لایا جائے ۔ لیکن خطے میں امریکہ کے دو اہم ساتھی ملک افغانستان اور ہندوستان ایسا نہیں چاہتے ہیں ۔ دونوں ممالک کو اس حوالے سے خدشات ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ طالبان کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے پرزو ر دے رہا ہے ۔ تاہم پاکستان نے اعلان کیا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں گے اور کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اسی دوران جب کہ پاکستانی وزارت داخلہ کی طرف سے ایک وفد پاکستان طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود سے ملنے وزیرستان جانے کی تیاری کررہا تھا محسود امریکہ کی طرف سے کئے گئے ایک ڈرون حملے میں مارا گیا ۔ اس ہلاکت پر سخت کشیدگی پیدا ہوگئی۔ ادھر یواین میں جاری ایک اجلاس میں ہند و پاک کے نمائندوں کے درمیان سخت گرم گفتاری دیکھنے کو ملی ۔ پاکستانی نمائندے نے مسئلہ کشمیر کو ایک حل طلب مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کو عوامی رائے شماری سے حل کرنے پر زور دیا۔ ہندوستانی نمائندے نے پاکستانی موقف کو مسترد کرتے ہوئے کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ انگ قرار دیا اور رائے شماری کرنے کے مطالبے کو مسترد کیا ۔ اس پر دونوں ملکوں کے نمائندوں کے درمیان نونک جھونک ہوئی۔ تاہم یہ بات بڑی خوش آئند ہے کہ پچھلے دو مہینوں سے سرحد پر پائی جانے والی کشیدگی کو بہت حد تک کم کیا گیا ۔ یہاں جاری گولی باری روک دی گئی اور وہاں رہنے والے لوگوں نے کسی حد تک سکون کا سانس لیا ۔ دونوں ملک ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگارہے ہیں ۔ یہاں کشمیر میں ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ حریت (گ) کے سربراہ سیّد علی گیلانی کو رہا کرکے عوامی جلسے کرنے کی اجازت دی گئی ۔ گیلانی پچھلے چھ مہینوں سے اپنے گھر واقع حیدر پورہ میں نظر بند تھے اور ان کے باہر آنے پر سخت پابندی لگی ہوئی تھی ۔ حکومت نے پچھلے دنوں اچانک وہاں قائم پولیس چوکی کو اٹھا لیا اور گیلانی نے باہر آکر لوگوں سے ملاقات کی ۔ اس کے بعد انہوں نے سوپور جاکر ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا اور اعلان کیا کہ وہ آنے والے انتخابات کے لئے بائیکاٹ کی مہم چلائیں گے ۔ اس وجہ سے گیلانی کی رہائی پر کئی لوگوں نے شک و شبہے کا اظہار کیا ہے ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ گیلانی کو حکومت نے جان بوجھ کر رہا کیا تاکہ وہ الیکش بائیکاٹ مہم چلائے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بائیکاٹ کی صورت میں نیشنل کانفرنس کو فائدہ ملنے کی امید ہے اور پی ڈی پی کو اس وجہ سے نقصان اٹھانے کا خطرہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ این سی نے گیلانی کو ایسے وقت رہا کیا جب کہ ریاست مین الیکشن بہت ہی قریب ہیں ۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت مقررہ وقت سے پہلے ہی انتخابات کرنے کے حق میں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے گیلانی کو رہا کیا ۔ ان کی اس رہائی پر حریت کے اعتدال پسند گروہ نے بھی شک و شبہے کا اظہار کیا ۔ اس گروہ کے ایک اہم لیڈر عباس انصاری نے گیلانی کی رہائی کی کھل کر تنقید کی ہے جبکہ گروہ کے سربراہ مولوی عمر فاروق نے کہا ہے کہ الیکشن بائیکاٹ کی مہم ابھی قبل از وقت ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ موذون وقت پر الیکشن کے بارے میں اپنا موقف پیش کریں گے ۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ الیکشن ان کے لئے کوئی اہم ایشو نہیں ہے اور الیکشن میں لوگوں کی شرکت سے مسئلہ کشمیر پر کو ئی خاص اثر پڑنے والا نہیں ہے ۔ اس کے باوجود گیلانی اپنے موقف پرڈٹے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے کئی جگہوں پر خطاب کرنے کا پروگرام بنایا ہے ۔