مضامین

مزاحمتی خیمے کے درپر دستک

سرپنچ اور پنچوں نے بالآخر مزاحمتی خیمے پر دستک دیکر اجتماعی طور پر مستعفی ہونے کے بارے میں اْن کے خیالات جاننے کا آغاز کردیا ہے۔ پنچایتی نمائندوں نے سید علی گیلانی اور محمد یاسین ملک کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کرکے اس بات کو باور کرایا کہ مستعفی ہونے سے قبل وہ نہ صرف مزاحمتی لیڈران بلکہ سول سوسائٹی گروپوں اور دیگر طبقوں کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ ملاقاتوں کے دوران گیلانی نے جہاں انہیں اخلاقی بنیادوں پر مستعفی ہونے کا مشورہ دیا تو وہیں یاسین ملک نے انہیں بتایا کہ مستعفی ہونے کے فیصلے سے متعلق انہیں سب کو ساتھ لینا چاہئے۔ بتایا جاتا ہے کہ گیلانی نے سرپنچوں اور پنچوں کے وفد کو بتایا کہ وہ کشمیر پر قبضہ کرنے والی قوتوں کا الہ کار نہ بنے بلکہ یہ بہت اچھی بات ہوگی کہ اگر وہ اخلاقی بنیادوں پر اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں۔ گیلانی نے پنچایتی نمائندوں کو وزیراعظم منموہن سنگھ کی وہ تقریر یاد دلائیں جو انہوں نے پنچایتی انتخابات کے فوراً بعد 2011 میں کی تھی، جس میں منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ جن لوگوں نے پنچایتی انتخابات میں ووٹ ڈالے دراصل انہوں نے بھارت کو ووٹ دیا،نئی دلی ہمیشہ انتخابات کو کشمیر میں ریفرنڈم قرار دیتی ہے جو کہ غلط ہے، گیلانی نے پنچایتی ممبران کی ہلاکتوں کی بھی مذمت کی۔ گیلانی نے انہیں واضح کیا کہ ہم پنچوں و سرپنچوں پر اپنا کوئی فیصلہ ٹھونس نہیں سکتے بلکہ ہم صرف انہیں رواں تحریک کی پاکبازی اور قربانیوں کی یاد دہانی کرا سکتے ہیں اور انہیں تحریک کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں جانکاری فراہم کر سکتے ہیں۔ اس دوران دوسرے مرحلے میں پنچایتی نمائندوں نے محمد یاسین ملک کی رہائش گاہ پر اْن سے ملاقات کی۔ فرنٹ کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں بتایا گیا کہ پنچایتی ممبران نے انہیں حالیہ ہلاکتوں اور اْس کے بعد پیش آنے والی صورتحال سے متعلق باور کرایا۔ پنچوں وسرپنچوں کے نمائندوں نے یٰسین ملک سے کہا کہ حالیہ کئی واقعات نے جس میں کئی لوگوں کو اپنی جان بھی گنوانی پڑی ہے، نے اْن کی زندگیوں کو خطرات سے دوچار کردیا ہے جس کی وجہ سے وہ اجتماعی طور پر استفیٰ دینے کی سوچ رہے ہیں اور اس ضمن میں مزاحمتی قائدین سے مشورہ لینے کی سعی میں ہیں۔اس موقعہ پنچوں اور سرپنچوں کے وفد سے کہا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس ضمن میں مشورہ اور فیصلہ بہرصورت اِنہی کو کرنا ہے۔چیئرمین فرنٹ نے کہا کہ اس قسم کے فیصلے پائیداری،مستقل مزاجی اور مضبوطی کے حامل ہونے چاہیں اور ایسے حساس اوراہم فیصلے کرنے کیلئے ان لوگوں کو پہلے اپنے طور پراجتماعی فیصلہ لینا چاہئے جس کے بعد اس ضمن میں مزاحمتی جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھ کر کوئی اجتماعی فیصلہ لیا جاسکتا ہے۔