خبریں

مسئلہ کشمیر زندہ حقیقت

مسئلہ کشمیر زندہ حقیقت

حریت(ع) چیئر مین میرواعظ محمد عمر فاروق نے کہا ہے کہ جس کشمیر کو خون سے سینچا وہ کشمیر ہمارا ہے ۔کنگن کے مرکزی چوک میں تقریر کرتے ہوئے میرواعظ نے مطالبہ کیا کہ آر پار جموںوکشمیر کے تمام خطوں بشمول جموںوکشمیر ،آزاد کشمیر،لداخ، بلتستان ، گلگت وغیرہ میںحق خودارادیت کی بنیاد پر پوری ریاست کے عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلہ کرنے کا حق دیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم جموںوکشمیر کے تمام خطوں میں رہنے والے لوگوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ جموںوکشمیر ایک وحدت کا نام ہے اور اس وقت جو قوتیں اور شرپسند عناصر جموں اور لداخ میں ہندوتوا کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور جموںوکشمیر کی وحدت اورسالمیت کو توڑنے اور مسلم شناخت کو پارہ پارہ کرنے کی مذموم کوششوں میں لگی ہیں ان کا ڈٹ کر پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کیا جائیگا ۔گزشتہ ۵۲ برسوں کے دوران یہاں کے عوام نے مال و جان کی بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور ابھی گزشتہ دنوں ہی شوپیاں ، پلوامہ، اور کولگام وغیرہ علاقوں میںہمارے جن نوجوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے وہ ہمارا سب سے بڑا سرمایہ اور اثاثہ ہے اور حریت اسے کسی بھی قیمت پر ضائع ہونے نہیں دے گی وزیراعظم کے مجوزہ دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ ہم بھارت کی سیاسی قیادت اور حکمرانوں کو یہ یاد دلانا چاہتے ہیں کہ یہاں کے عوام نے قربانیاں اقتصادی پیکیجوں،مراعات اورمفادات کیلئے نہیں بلکہ اپنے جائز حق کے حصول کیلئے دی ہیں۔ اگر حکومت ہند اس مسئلہ کو حل کرنا چاہتی ہے تواسکے لئے ضروری ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل آوری یا پھر بھارت ، پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان بامعنی سہ فریقی مذاکرات کے ذریعہ ہی اسے مستقبل بنیادوں پر حل کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے مذہبی اور سیاسی سرگرمیوں پر آئے دن قدغنیں لگائی جاتی ہیں حتیٰ کہ نماز جمعہ اور عیدین کی نمازوں پر بھی پابندی عائد کی جاتی ہے اور ایسا کرکے یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہاں کے عوام اپنی قیادت سے دور ہوجائیں گے لیکن یہ ان کی غلط فہمی ہے کیونکہ حق خودارادیت کی تحریک یہاں کے عوام کے خون اور جذبوں میں رچی بسی ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر زندہ حقیقت ہے اور ہندوستان تو کیا دنیا کی کوئی بھی طاقت اس مسئلہ کی حقیقت اور حساسیت کو ہرگز کمزور نہیں کرسکتی ۔