مضامین

مسئلہ کشمیر کا حل مذاکرات واحد راستہ

مسئلہ کشمیر کا حل  مذاکرات واحد راستہ

میاں نواز شریف پاکستان کے وزیراعظم کی حیثیت سے ملک کی قیادت سنبھال رہے ہیں اور جن حالات میں وہ وزارت اعظمیٰ کا عہدہ سنبھال رہے ہیں ان حالات سے ہم بخوبی واقف ہیں اور ہم بخوبی محسوس کر رہے ہیں جس تخت پر آپ بیٹھے ہیں اس میں مختلف سائیز کے نوک دار کیل لگے ہیں۔ اور جو تاج آپ کے سر پر رکھا گیا ہے۔ اس میں ببول کے کانٹے لگے ہیں۔ ان کیلوں اور کانٹوں سے بھرے تخت اور تاج کو آپ نے پاکستانی عوام کی خاطر قبول کر لیا، سچ تو یہ ہے کہ عوام نے آپ کو اس کا مستحق جانا، کیونکہ پاکستانی عوام ایسے اہم مسائل سے نجات حاصل کرنا چاہتی تھی جن مسائل نے ان کی کمر توڑ دی تھی ، اس بات کو قبول کرنا پڑے گا کہ پاکستان جن حالات اور مشکلات میں گھیرا ہواہے اس لحاظ سے اس کا وجود رہنا ایک معجزہ سے کم نہیں۔ بہر حال ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر وجود باقی رہا بھی تو صحیح اور سالم نہیں رہا۔ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے پاکستان کو امریکی امداد کی ضرورت اور مجبوری ہے، اس کے لئے پاکستان کو امریکہ سے دوستی کرنا پڑتی ہے۔ البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے شروع سے لے کر آج تک پاکستان کو امریکہ کی دوستی اتنی مہنگی پڑی ہے کہ ایک تو پاکستان دو لخت ہو گیا، دوسرا بچا کچھا پاکستان قتل گاہ بن گیا، پاکستان کو پہلے سویت روس اور اس کے بعد امریکہ کی طرف سے افغانستان کا مسئلہ ورثہ میں ملا اس مسئلہ نے پاکستان کو ایک طرح سے تباہ کر کے رکھدیا ہے، پاکستان کو اس کے جنم کے ساتھ ہی جو مسئلہ کشمیر ورثہ میں ملا، اس نے پاکستان کو نہ صرف پڑوسی ملک ہندوستان کے ساتھ جنگ پر آمادہ کیا بلکہ پاکستان نے کشمیر مسئلہ پر خود کو داؤ پر لگا دیا۔
مسئلہ کشمیر دونوں ہمسایہ ممالک کیلئے آپس میں قتل و غارت، توڑ پھوڑ، تشدد اور دشمنی کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ اس مسئلہ نے دونوں ممالک کی اقتصادی حالت ایک طرح سے تباہ کر کے رکھدی ہے۔
برصغیر کی تقسیم کے دوران بھارت نے طاقت کی وجہ سے ریاست یعنی جموں کشمیر کا یہ حصہ اپنے حق میں کیا اور اس طرح سے یہ ایک مسئلہ بن گیا اور یہ مسئلہ انجمن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جا پہنچا، جہاں اس کا تصفیہ رائے شماری کے فیصلہ پر منتج ہوا، رائے شماری کا مطلب تھا ریاست جموں وکشمیر جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے یہ ہندوستان سے لے کر پاکستان کو دی جائے، ہندوستان نے اگرچہ اس فیصلہ کو قبول کر لیا البتہ اسے کشمیر چھوڑنے کی نیت نہیں تھی، لہٰذا ہندوستان کے حکمران نے کشمیر کے عوامی قائد کی خدمات حاصل کر کے انہیں رائے شماری کے عمل میں نہ صرف رکاوٹ کے طور پر پیش کیا بلکہ رائے شماری کے درمیان ایک سیسہ پلائی دیوار بنا کر رکھدیا لہٰذا رائے شماری نہ ہو سکی اس طرح مسئلہ کشمیر لٹکتا رہا، چونکہ یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان ایک سنگین تنازعہ بن گیا، یہ سنگین مسئلہ جب تین جنگوں کے بعد بھی حل نہ ہو سکا تو اندرونی اور بیرونی سطح پر اس مسئلہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا سجھاؤ آگیا۔
بہر حال پاکستان کے ساتھ بھارت نے بھی اس سنگین مسئلہ کو حل کرنے کے لئے مذاکرات کو مناسب فورم جان کر اس پر آمادگی ظاہر کر دی اور اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے مذاکرات کے کئی دور بھی چلے اس کے باوجود بھی یہ مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ اور یہی عندیہ ہے کہ یہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے بھی حل نہیں ہو سکے گا، کیونکہ دونوں ملکوں کی سرکار اس مسئلہ کو حل کرنے میں ہرگز سنجیدہ نہیں ہیں اور نہ ہی یہ مسئلہ حل کرنے کی نیت ہے۔ اندرونی اور بیرونی دباؤ کے تحت اگر بھارت سرکار گاہے بہ گاہے مذاکرات کی میز سجاتی ہے اور کبھی دہلی میں اور کبھی اسلام آباد میں مذاکرات کا اہتمام ہوتا ہے تو یہ محض ایک دکھاوا اورد کھاوا کے سوا اور کچھ نہیں۔ مذاکرات کی آڑ لے کر اکثر سرکاریں مسئلہ کشمیر کو نہ صرف طول دے رہی ہیں بلکہ ٹرخا بھی رہی ہیں۔ اس طول دینے اور ٹرخانے کی سرکار کی پالیسی بالآخر پاکستان نے محسوس کر لی اور پاکستان نے ان مذاکرات کو لاحاصل پروسس بتایا، البتہ اس کے باوجود پاکستان مذاکرات سے فرار حاصل نہ کر سکا ۔
میاں نواز شریف نے تیسری بار پاکستان کے وزیراعظم کا عہدہ سنبھال کر واضح کر دیا کہ بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے مذاکرات واحد راستہ ہے اور مذاکرات وہیں سے شروع ہو گی جہاں ۱۹۹۹ء میں چھوڑ دی گئی تھی۔
بھارت کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو وہیں سے آگے بڑھانے کے لئے ہم پُر عزم ہیں جہاں یہ عمل ۱۹۹۹ ء میں انہیں جنرل مشرف کی طرف سے اقتدار سے بے دخل کئے جانے کے بعد رک گیا تھا۔ اُس وقت کے اپنے بھارتی ہم منصب اٹل بہاری واجپائی کے ساتھ لاہور میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کئے تھے۔ جن کے دوران جموں وکشمیر سمیت تمام دوطرفہ مسائل کو حل کرنے کے حوالے سے ایک لائحہ عمل پر خیالات کا تبادلہ ہوا تھا۔ اب بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کے عمل میں نئی جہت پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کشمیر سمیت تمام دوطرفہ مسائل کو پُر امن طور حل کرنے کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔
نواز شریف نے بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت دیگر مسائل حل کرانے کی دوبارہ شروعات کا جو عندیہ دیا ہے۔ اس کے بارے میں ہم کہہ سکتے ہیں بھارت کی طرف سے آپ کو مستقبل قریب میں مثبت جواب ملے گا اور مذاکرات کے لئے میز کرسی بھی سجائی جائے گی، نئے سر ے سے مذاکرات کی شروعات کہاں ہوں، دلی میں ہو گی یا اسلام آباد میں، البتہ مذاکرات ضرور ہوں گے اور اگر یہ مذاکرات دلی میں ہوئے تو اگلے دور کے مذاکرات کا مقام اسلام آباد کا مقام مقرر ہوگا، جب دو تین ماہ کے بعد مذاکرات کے لئے اسلام آباد کا مقام مقرر ہوگا جب دو تین ماہ کے بعد مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے ۔ چند مہینوں کے بعد جب دہلی میں مذاکرات ہوں گے تو ان کو جاری رکھنے کے لئے اسلام آباد کا مقام مقرر ہوگا۔ اس طرح دہلی سے اسلام آباد اور اسلام آباد سے دہلی کے درمیان مذاکرات کے کتنے دور ہوں گے البتہ اگلے پانچ سال تک یہ مسئلہ خاص طور پر مسئلہ کشمیر حل ہوگا، سوچنا ہی عبث ہے۔ اس دوران بھارت میں اگلے سال انتخابات ہورہے ہیں اور یہاں نئی سرکار بنے گی، وہ نئی سرکار مسئلہ کشمیر حل کرانے کا کونسا سٹینڈ لے گی وہ تو دیکھا جائے گا۔ البتہ یہ توطے ہے کہ بھارت سرکار اس پالیسی پر چل رہی ہے کہ مسئلہ کشمیر سمیت دوسرے اہم مسائل پر پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنی ہے اور بات چیت کرتی رہنی ہے، لیکن نہ پاکستان سے کچھ لینا ہے اور نہ ہی کچھ دینا ہے، لہٰذا بھارت سرکار کے ساتھ مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعہ حل کرانے اور حل ہونے کی کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی۔