مضامین

مسئلہ کشمیر کے حل میں مسئلہ فلسطین کا حل مضمر!

مسئلہ کشمیر کے حل میں مسئلہ فلسطین کا حل مضمر!

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سر زمین پاکستان میں 67 ویں یوم آزادی کے سلسلے میں موجود تھے اور پاکستان میں قیام کے دوران کئی تقاریب میں شمولیت کئے۔
نیویارک سے پاکستان کی طرف روانگی سے قبل انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی تنازعہ اور سرحدوں پر آر پار سرحدی حفاظتی دستوں پر فائرنگ اور دونوں طرف کی گولہ باری سے پیدا شدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کو صبرو تحمل سے کام لینے کی تلقین کرتے ہوئے بتایا بھارت اور پاکستان کو کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔ انہوں نے ایک بار اور اپنی طرف سے بھارت اور پاکستان کے درمیان تصفیہ طلب مسائل خاص طور پر مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں اپنی ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کو دو ٹوک الفاظ میں کہا ہندوستان اور پاکستان یعنی دونوں ممالک اگر متفق ہوں تو میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کے لئے تیار ہوں اور امید رکھتا ہوں بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہونے کی نوبت نہیں آنے دیں گے۔ انہوں نے دونوں ممالک سے تلقین کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسائل پر ہمسایہ ممالک کی حکومتوں کے رہنماؤں کو بات چیت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوپاک کی جانب سے مذاکرات میں مشغول ہونے کا حالیہ اقدام سے ہمیں خاص حوصلہ ملا ہے( چونکہ اس بیان کے بعد پونچھ سیکٹر میں سرحدی فائرنگ میں بھارت کے پانچ جوانوں کے مارے جانے پر جو لفظی جنگ شروع ہو کر دونوں ممالک کے پارلیمنٹ اور نیشنل اسمبلی میں پہنچ کر دھمکیوں پر منتج ہوا اس سے اب تک کے تمام کئے کرائے پر پانی پھر گیا) اور سیکریٹری جنرل بان کی مون کا یہ حوصلہ باقی نہ رہ سکا) انہوں نے اس بات کو بھی مقرر دہرایا کہ دہشت گردی عالمی برادری کے لئے ایک مشترکہ چیلنج ہے۔پاکستان یا کوئی اور ملک تنہا اس مسئلے سے نپٹ نہیں سکتا۔
انہوں نے کشمیر وادی میں بھارتی فورسز کی طرف سے تشدد کی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت اور پاکستان پر دیرینہ مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرور ت پر زور دیا اور پیش کش کی کہ اگر دونوں ممالک متفق ہوں تو وہ اس اہم مسئلہ کو حل کرانے میں اپنی خدمات پیش کر سکتے ہیں اور وہ دونوں ممالک کی رضا مندی پر ثالثی کیلئے تیار ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا دونوں ممالک کی قیادت اعتماد سازی کیلئے اقدامات پر بات چیت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے اس بات کو بھی مقرر دہرایا اگر دونوں ممالک متفق ہوں تو میں بحیثیت جنرل سیکریٹری انجمن اقوام متحدہ ثالثی کیلئے تیار ہوں۔
بان کی مون کے اس بیان پر ریاست کی علیحدگی پسند کی قیادت نے ایک طرح کی خوشیاں منائیں، آپ کی اس قسم کی پیشکش کو لے کر علیحدگی پسند قیادت کو ایک طرح کا حوصلہ مل گیا اور انہوں نے آپ کے نام تہنیت کے پیغامات بھیج کر آپ سے ایسی امیدیں باندھیں جن کی کوئی بنیادہی نہیں۔
غالباً کشمیر میں ایسے بھی حلقے ہیں جن کو آپ کی طرف سے دیرینہ مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لئے ثالثی کی پیشکش حلق سے نہیں اتری نہ اس کا کوئی اثر لیا، سچ تو یہ ہے کہ کئی حلقوں نے اسے ایک عام سی معمولی خبر کے طور پر لے کر پڑھی اور ذہن سے نکال دی، کیونکہ آپ کی طرف سے ثالثی کا بیان کوئی وقعت نہیں رکھتا، کیونکہ بھارت کی سرکاریں اس ایک اہم مسئلہ کے پیدا ہونے یا پیدا کرنے سے لے کر آج تک کسی بڑے سے بڑے طاقتور ملک کے صدر کی طرف سے سلامتی کونسل کی طرف سے سلامتی کونسل کے جنرل سیکریٹری کی طرف سے یورپین یونین کی طرف سے او آئی سی کی طرف سے مطلب یہ کہ کسی بھی ملک اور کسی بھی حیثیت کی طرف سے ثالثی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ حالات اور واقعات شاہد ہیں آج تک جس کسی بھی شخصیت نے صدر مملکت نے اس مسئلہ کے حل کیلئے ثالثی کی پیشکش کی اس پر ہندوستان سرکار نے جواب دینا ہی مناسب نہیں سمجھا، ثالثی کی قبولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
بھارت سرکار کی طرف سے ثالثی کی پیشکش قبول کرنا دیرینہ مسئلہ کشمیر حل کرانے کا بھارت کی طرف سے منظوری دینے کے مترادف ہے۔ جب انہیں مسئلہ کشمیر حل کرنا منظور ہی نہیں تو وہ ثالثی کیوں اور کیسے قبول کرلیں گے۔
اب اگر ہم اس کے دوسرے پہلو کو لے لیں گے۔ ثالثی کی پیشکش میں جب عالمی ادارے کا سیکریٹری جنرل یہ بتائیے کہ اگر دونوں متفق ہوں تو وہ مسئلہ کشمیر حل کرانے کیلئے خود کو پیش کر سکتے ہیں۔ سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کا یہ کہنا کہ اگر ثالثی کیلئے دونوں پڑوسی ممالک متفق ہوں تو میں ثالثی کیلئے تیار ہوں، بخوبی جانتے ہیں اور ہم سے زیادہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ پاکستان اس مسئلہ کشمیر کے حل میں سنجیدہ بھی ہے اور ثالثی کے لئے آفر بھی دے رہا ہے۔ چونکہ بھارت سرکار مسئلہ کشمیر حل کرانے میں ہرگز سنجیدہ نہیں لہٰذا وہ ثالثی کو نہ قبول کرتے ہیں اور نہ کبھی کریں گے۔ بان کی مون بھی بخوبی جانتے ہوں گے بھارت سرکار نہ کبھی ثالثی کیلئے تیار تھی نہ ثالثی کیلئے تیار ہے اور نہ ثالثی کیلئے ہوگی۔لفظ اگر کہہ کر آپ اپنی کمزوری کو اجاگر کر رہے ہیں۔ حالانکہ جس عالمی ادارے کے بان کی مون جنرل سیکریٹری ہیں۔ اگر یہ عالمی ادارہ امریکہ کی لونڈی نہیں ہوتی اور امریکہ کی خارجہ پالیسی یہودیوں کے ہاتھوں میں نہ ہوتی، تو عالمی ادارے کا سیکریٹری جنرل اس قدر کمزور نہیں ہوتا جس قدر وہ خود کو ظاہر کر رہے ہیں۔امریکہ کی یہودی لابی نے ان کو اس عالمی ادارے میں ایک کٹھ پتلی بنا کر رکھا ہے۔
مسئلہ کشمیر کے حل کے بارے میں امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین جو بھی بیان دیتے ہیں۔ وہ زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں، کیونکہ یہ سبھی ممالک مسئلہ کشمیر حل کرانے میں صدقہ دلی سے کوشش نہیں کرتی ہیں نہ کر سکتی ہیں کیونکہ یہ نہ اسرائیل چاہتا ہے اور نہ ہی امریکہ کی یہودی لابی، ان کا یہ ماننا ہے اگر مسئلہ کشمیر حل کریں گے تو یہ مسئلہ فلسطین حل کرانے کا موجب بنے گا۔ مسئلہ کشمیر کے حل میں مسئلہ فلسطین کا حل مضمر ہے۔ ایک مسئلہ حل ہو گیا تو دوسرے مسئلہ کے حل کیلئے تقویت ملے گی۔
بان کی مون یہ سب کچھ اچھی طرح جانتے ہیں۔اسی لئے وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے جو یہ ’’اگر مگر‘‘ رکھتے ہیں اس سے ہمیں بخوبی پتہ چلتا ہے آپ اس دیرینہ مسئلہ کے حل سے اسی طرح بھاگتا ہیں۔ مسئلہ کشمیر کے حل سے بھاگنے کا آپ سے متفق ہوں تو وہ ثالثی کیلئے تیار ہے صاف ظاہر ہے جس طرح مذاکرات کی آڑ لے کر بھارت اس مسئلہ کو ٹرخا رہا ہے۔ آپ بھی دوسرے اینگل سے ٹرخا رہے ہیں۔