سرورق مضمون

مسرت عالم کی رہائی / سرکاری اتحاد سخت انتشار سے دوچار ?/ غلام نبی آزاد اور عمر عبداللہ رہائی کے خلاف

مسرت عالم کی رہائی / سرکاری اتحاد سخت انتشار سے دوچار ?/ غلام نبی آزاد اور عمر عبداللہ رہائی کے خلاف

ڈیسک رپورٹ
معروف علیحدگی پسند رہنماء مسرت عالم کی رہائی پر دہلی میں سخت شور شرابا پایا جاتا ہے ۔ اس ایشو کو لے کر کانگریس نے بی جے پی کو گھیرنے کی سخت کوشش کی۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مسرت کی رہائی کو لے کر کانگریس نے ہنگامہ آرائی کی اور ہائوس کی کاروائی چلنے نہیں دی ۔ کانگریس کا الزام ہے کہ مسرت عالم ایک دہشت گرد ہے اور اس کی رہائی سے امن و امان میں خلل پڑنے کا خطرہ ہے۔ کانگریس نے اس کی رہائی کے لئے ریاست کے وزیراعلیٰ کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ اس کی رہائی علاحدگی پسندوں کو خوش کرنے کے لئے عمل میں لائی گئی ہے۔ اس کے بعد کانگریس کے علاوہ ایوان میں اپوزیشن کی تمام لیڈروں نے اس پر بی جے پی کی شدید مخالفت کی اور مطالبہ کیا کہ وزیراعظم مسئلہ کی وضاحت کے لئے پارلیمنٹ میں بیان دیں۔ آخر مجبور ہوکر وزیراعظم نے مسئلے کی وضاحت کی اور کہا کہ مسرت عالم کو مرکز سے پوچھے بغیر رہاکیا گیا ہے۔ انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ اس معاملے میں ریاستی حکومت سے وضاحت طلب کی جائے گی۔ وزیراعظم کے اس اعلان کے بعد مرکزی وزیرداخلہ نے ریاستی حکومت کو ایک خط لکھا اور مسرت عالم کی رہائی کے بارے میں پوری تفصیلات طلب کیں۔ کانگریس کے ممبران اس کاروائی سے مطمئن نہیں ہوئے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ بی جے پی یہ بات واضح کرے آیا وہ مسرت عالم کی رہائی کے اقدام سے باخبر تھی۔ بی جے پی نے اس بات سے انکار کیا کہ اس کے مشورے سے مسرت کو رہا کیا گیاہے ۔ اس کے بعد کانگریس نے بی جے پی پر زور دینا شروع کیا کہ وہ کشمیر حکومت سے الگ ہوکر وہاں کی سرکار کو برخاست کرے۔ لیکن بی جے پی نے ایسی کوئی بات ماننے سے انکار کیا۔ ادھر حکمران پی ڈی پی نے کڑا رخ اختیار کیا۔ مرکزی وزارت داخلہ کو حقائق سے باخبر کرنے کے ساتھ وزیراعلیٰ نے کسی دبائو کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ انہوں نے مرکز کی ریاستی معاملات میں مداخلت کو غیر جمہوری قرار دیا۔ اس کے بعد پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان اختلاف بڑھنے لگا ۔ اس اختلاف سے کچھ لوگ اندازہ لگانے لگے کہ اتحاد جلد ہی ٹوٹ جائے گا اور حکومت گرجائے گی ۔ لیکن مرکز میں کئی رہنمائوں نے ایسا ہونے نہیں دیا۔ اس دوران دونوں پارٹیوں کے لیڈروں کے درمیان بات چیت ہوتی رہی ۔ آخر کار معاملہ ٹل گیا ۔ وزارت داخلہ نے ہتھیار ڈال دئے اور حکومت کو مشورہ دیا کہ مسرت کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے اور اس کی ضمانت کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کی جائے۔ اسی دوران بی جے پی کے جنرل سیکریٹری رام مادھو نے مفتی سعید سے ملاقات کی۔ دونوں لیڈروں نے اختلافات کو ختم کرنے پر سمجھوتہ کیا اور ریاست کے اندر بہتر گورننس فراہم کرنے پر اتفاق کیا ۔ اس سے تنائو کسی حد تک کم ہوگیا۔ البتہ مزید علیحدگی پسندوں کی رہائی کا مفتی نے جو من بنایا تھا اس پر روک لگ گئی ہے ۔ ادھر یونائیٹڈ کمانڈ کونسل کی ایک میٹنگ وزیراعلیٰ کی صدارت میں منعقد ہوئی جہاں کہا جاتا ہے اس بات پر اتفاق ہوا کہ ریاست میں امن و امان بنانے کی کوششیں کی جائیں گی ۔ اس مرحلے پر وزیراعلیٰ کی صدارت میں کمانڈ کونسل کااجلاس بہت ہی اہم تصور کیا جاتا ہے اور اسے مفتی کے حق میں ماحول بہتر بن جانے کا بڑا قدم مانا جاتا ہے ۔
حریت کانفرنس (گ) کے سربراہ سیدعلی گیلانی نے مسرت عالم کی رہائی اور اس پر ہوئے ہنگاموں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وجہ سے انہیں سخت تشویش ہوئی اور وہ مسرت کے بارے میں سخت فکر مند ہیں۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ مسرت کو کچھ ہوا تو اس کے خلاف سخت احتجاج کی جائے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جیلوں میں بند حریت پسندوں کو جلد از جلد رہا کیا جائے۔ لیکن ریاست کے دو سابق وزراء اعلیٰ غلام نبی آزاد اور عمر عبداللہ علیحدگی پسندوں کی رہائی کے سخت خلاف ہیں اور وارننگ دی ہے کہ ریاستی سرکار کے اس قدم سے ریاست کے حالات پھر کشیدہ ہوجائیں گے ۔