نقطہ نظر

مسز گاندھی کی بے ڈھنگی حکومت

مسز گاندھی کی بے ڈھنگی حکومت

کلدیپ نائر
چالیس سال کا عرصہ ممکن ہے بہت طویل لگے لیکن یہ اتنا لمبا عرصہ نہیں کہ جس میں جنگل کے اس قانون کی یادداشت مٹ سکے جو 1975ء میں ایمرجنسی کے بعد نافذ ہوا تھا۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی ساس وزیر اعظم اندرا گاندھی کو جب الہ آباد ہائی کورٹ نے انتخابات کے دوران سرکاری مشینری کے استعمال پر نا اہل قرار دیدیا تو اندرا کو اقتدار چھوڑ دینا چاہیے تھا۔ تاہم سپریم کورٹ کے ایک جج نے وزیر اعظم کے لیے ’’اسٹے آرڈر‘‘ جاری کر دیا۔ گو کہ مسز گاندھی کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ حتمی فیصلہ بھی ان کے ہی حق میں آئے گا۔
اس فیصلے کے بعد ایک ایسا وقت آیا جب وہ اپنے بارے میں حتمی فیصلہ آنے تک اپنی جگہ مبینہ طور پر جگ جیون رام یا اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کمپلاپتی تریپاٹھی کو وزیر اعظم مقرر رہی تھیں لیکن ان کا بیٹا سنجے گاندھی، جو بعدازاں حکومت چلانے کی ماورائے آئین اتھارٹی بن گیا تھا، اپنی والدہ کی کمزوری جانتا تھا۔ چنانچہ اس نے اس وقت کے ہریانہ کے وزیراعلیٰ بنسی لال کی مدد سے ایک مجمعے کا بندوبست کیا جنہوں نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر ان کی حمایت میں مظاہرہ کیا اور نعرے لگائے۔ اس پر مسز گاندھی کو پورا یقین آ گیا کہ عوام ان کے ساتھ ہیں جب کہ ان کے خلاف مخالفانہ باتیں کرنے والے ناپسندیدہ عناصر کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔ چنانچہ مسز گاندھی کا اپنے بیٹے سنجے گاندھی پر مکمل انحصار ہو گیا۔
وزیر اعظم کی قیام گاہ سے تعلق رکھنے والے ذرایع نے انکشاف کیا کہ اب مسز گاندھی اکیلے میں صرف سنجے گاندھی سے سیاست پر بات کرتی ہیں جب کہ اپنے بڑے بیٹے راجیو گاندھی کو سیاست سے یکسر نابلد تصور کرتے ہوئے بالکل نظر انداز کر دیتی ہیں۔ خود راجیو گاندھی کو بھی اپنے طور پر سیاست سے قطعاً کوئی دلچسپی نہیں تھی، بلکہ اس کی ساری توجہ ہوا بازی میں مہارت پیدا کرنے پر مرکوز تھی۔ انڈین ایئر لائن میں راجیو گاندھی کو بہت اول درجے کا پائلٹ تصور کیا جاتا تھا جو اس زمانے میں اندرون ملک پروازیں چلانے والی  واحد ایئر لائن تھی۔
یہ الگ بات ہے کہ سنجے گاندھی کی ناگہانی موت کے بعد مسز گاندھی نے راجیو پر زبردستی سیاست ٹھونس دی جس کے جواب میں راجیو نے قوم پر وزارت عظمیٰ ٹھونس دی۔ یہ عجیب بات ہے کہ راجیو گاندھی کی مزاحمت تنگ نظر عناصر کی طرف سے ہوئی جن میں جَن سنگھ پیش پیش تھی جو کہ اب بی جے پی کہلاتی ہے۔ اس کے ساتھ سکھوں کی جماعت اکالی دل بھی شامل تھی۔ سیکولر قوتوں نے، جن میں  کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا بھی شامل تھی، مسز گاندھی کی آمرانہ حکومت کو بلا چوں و چرا قبول کر لیا تھا۔ مارکسسٹ خوش نہیں تھے لیکن انھوں نے بھی مخالفانہ آواز بلند نہیں کی۔
سب سے افسوسناک کردار پریس کا تھا (اس زمانے میں الیکٹرونک میڈیا کا وجود نہیں تھا)۔ ویسے تو پریس بڑی جرات مندی کا دعویٰ کرتا ہے اور اخلاقی اقدار پر بڑا زور دیتا ہے لیکن اس دور میں بہت کم لوگ یا اخبار ایسے تھے جنہوں نے مزاحمت کی۔ مسز گاندھی نے اس زمانے میں ایک ریمارک دیا تھا کہ ’’ایک کتا بھی نہیں بھونکا‘‘۔ ان کا بلند آہنگ لہجہ ان کی بے انتہا خود سری کا غماض  تھا۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ پریس کو بھی سانپ سونگھ گیا تھا۔ مجھے مسز گاندھی کے اس ریمارک سے اسقدر اذیت پہنچی کہ میں نے 103 اخبار نویسوں کو پریس کلب میں اکٹھا کر لیا (جن کے ناموں کی فہرست ابھی تک میرے پاس موجود ہے) اس مقصد کے لیے مجھے ذاتی طور پر بعض اخبارات کے دفتروں میں جانا پڑا، نیز میں دو نیوز ایجنسیوں میں بھی گیا۔
جن کو پریس کلب میں اکٹھا کیا گیا ان میں ٹائمز آف انڈیا کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر گری لال جین بھی شامل تھے۔ اس موقع پر میں نے خود جو قرارداد کا مسودہ تیار کیا تھا اسے بآواز بلند پڑھ کر سنایا، جس میں ایمرجنسی کے نفاذ اور پریس پر سنسر شپ عائد کرنے کی مذمت کی گئی تھی۔ ایک اخبار نویس نے بتایا کہ بعض ایڈیٹروں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ میں نے اخبار نویسوں کو کہا کہ وہ اس قرار داد پر دستخط کریں اور انھیں بتایا کہ میں اس قرار داد کو اپنے دستخطوں کے ساتھ صدر مملکت‘ وزیر اعظم اور وزیر اطلاعات کو ذاتی طور پر پیش کروں گا۔ پریس کلب سے نکلتے وقت قرار داد کی نقل میں اپنے ساتھ لے گیا مبادا کہ یہ پولیس کے ہاتھ لگ جائے۔
میں ابھی گھر پہنچا ہی تھا کہ وزیر اطلاعات وی سی شکلا نے، جو اس وقت تک میرے دوست تھے،  مجھے ٹیلی فون کیا اور کہا کہ کیا میں ان کے دفتر آ سکتا ہوں؟ مجھے ان کے معمول سے مختلف اور تحکمانہ لہجے پر حیرت ہوئی۔ انھوں نے مجھے کہا کہ میں وہ کاغذ ان کو دے دوں جس پر اخبار نویسوں نے دستخط کیے تھے۔ جب میں نے انکار کیا تو انھوں نے مجھے خبردار کیا کہ مجھے گرفتار کیا جاسکتا ہے اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ یہ حکومت مختلف ہے اسے اندرا گاندھی نہیں سنجے گاندھی چلا رہا ہے‘‘۔
اس کے باوجود میں نے مسز گاندھی کے نام ایک خط لکھا جس میں کہا گیا تھا ’’میڈم‘ ایک اخبار نویس  کے لیے یہ بات ہمیشہ مشکل ہوتی ہے کہ وہ کس وقت خبر دینے کا فیصلہ کرے بالخصوص ایک آزاد معاشرے میں کیونکہ ایمرجنسی کے بعد آپ نے خود کئی بار کہا تھا کہ پریس کو اپنی ان ذمے داریوں کا احساس رکھنا چاہیے جو اس پر عوام کو اطلاعات پہنچانے کے ضمن میں عاید ہوتی ہیں۔ بسا اوقات یہ کام خاصا ناخوشگوار ہو جاتا ہے لیکن اس کے باوجود اسے سرانجام دینا پڑتا ہے کیونکہ ایک آزاد معاشرہ آزادانہ اطلاعات کی بنیاد پر ہی قائم ہوتا ہے۔ اگر پریس کا کام صرف سرکاری ہینڈ آئوٹ اور حکومتی بیانات کی اشاعت تک ہی محدود کر دیا جائے جیسا کہ آج ہے تو پھر عوام سے ہونے والی کوتاہیوں‘ خطائوں اور کمیوں کی نشاندہی کون کرے گا؟
تاہم مجھے تین مہینے کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔ رہائی کے بعد میں نے دیکھا کہ میرے ساتھی اخبار نویس کھل کر میری حمایت کرنے سے ڈرتے ہیں۔ اس وقت کے جَن سنگھ لیڈر ایل کے ایڈوانی نے بالکل درست کہا تھا کہ ’’تم جرنلسٹ لوگ بھی عجیب ہو جب تمہیں جھکنے کے لیے کہا جائے تو تم فرش پر رینگنا شروع کر دیتے ہو۔‘‘ اگر آج مجھے نئی نسل کو ایمرجنسی کے بارے میں وضاحت کرنا پڑے تو میں یہی کہوں گا کہ آزادی کی حفاظت کے لیے پریس کی آزادی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ 70 سال قبل تحریک آزادی کے دوران اس کی اہمیت تھی۔ اس وقت کوئی بھی یہ توقع نہیں کر سکتا تھا کہ جب وزیر اعظم کو ہائی کورٹ نے قصوروار قرار دیدیا تو بجائے اس کے کہ وہ رضاکارانہ طور پر اقتدار چھوڑ دیتیں‘ اس کے بجائے انھوں نے آئین کو ہی معطل کر دیا۔
سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری اکثر اپنے ساتھیوں کو یہ تلقین کرتے تھے کہ ’’ہلکے پھلکے ہو کر بیٹھو، کرسی کے ساتھ چمٹ کر بیٹھنے کی کوشش نہ کرو۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ جب تامل ناڈو میں ریل گاڑی کا ایک بڑا حادثہ ہوا تو انھوں نے ریلوے کی وزارت سے استعفیٰ دیدیا۔ انھوں نے حادثے کی اخلاقی ذمے داری قبول کر لی تھی۔
تاہم آج یہ سوچنا مشکل ہے کہ کوئی اور بھی ان کی تقلید کرے گا۔ اس کے باوجود بھارت کے بارے میں دنیا یہ خیال کرتی ہے کہ اس ملک میں اخلاقی اقدار کا نظام موجود ہے۔ تنگ نظری یا پر تعیش انداز زندگی اس سوال کا جواب نہیں۔ ملک کو اس دور میں واپس جانا پڑے گا جب مہاتما گاندھی نے قوم کو کہا تھا کہ ’’امتیازی سلوک سے عوام مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔‘‘ تحریک آزادی کے دنوں کو یاد کرنا کبھی کبھار بہت ضروری ہو جاتا ہے۔ انگریزوں کو نکالنے کے لیے سب نے ایکا کر لیا تھا۔ میری خواہش ہے کہ غربت کو دیس نکالا دینے کے لیے بھی سب کو ایکا کرنا پڑے گا بصورت دیگر ملک کی آزادی سے صرف انھی کو اچھی زندگی ملے گی جن کے پاس پہلے ہی بہت کچھ ہے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)